Jo Kuch Bhi Hai Muhabbat Ka Phelao Hai
جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔
یوں تو محبوب کے بہت سے کرم کار فرما ہیں ہمارے وجود پر اور بہت سے معجزات محبوب کے دم سے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ محبوب کا قرب دراصل مغز ہے تمام عبادات کا، نہیں تو عبادات محض ایک فارمولا بن کر ہی رہ جائیں گی۔
اگر قرب عطا نہیں ہوا تو عبادات صرف گناہ و ثواب کی بیلنس شیٹ بن کر رہ جائیں گی، مجھے تو لگتا ہے کہ یہ من حیث القوم ہمارے اوپر ایک عذاب کی کیفیت ہے کہ ہم دین کی روح کو سمجھ نہیں پا رہے۔
ایمان کا مطلب ہے محبت، فلسفہء محبت بہت گہرا ہے بہت سے جید علمائے کرام اور فلاسفروں نے محبت پر مضامین، مقالے اور کتابیں لکھی ہیں اور محبت کی مختلف جہتیں بیان فرمائی ہیں۔
ہم زیادہ دور نہیں جاتے تقریباً ایک ہزار سال پہلے کے فلاسفر حضرت امام غزالیؒ اور حضرت محی الدین ابن العربیؒ سے لے کر حضرت اقبالؒ تک تمام علماء کرام اور فلاسفر محبت ہی کی مختلف جہتیں بیان کرتے رہے ہیں، کائنات اور انسان کے ظہور کا ماخذ محبت ہی ہے، محبت ہی معجزن ہے کائنات کے ہر ذرے سے لے کر آفتاب تک ہم دراصل محبت کی کائنات میں ہی رہ رہے ہیں۔
اگر کوئی مومن محبت کو نہیں سمجھ سکا یا اُس کی عبادات میں محبت وارد نہیں ہو سکی پھر وہ دین کے مغز تک نہیں پہنچا، دین کا مطلب نہیں سمجھ پایا، کیونکہ محبوب کی محبت کے بغیر دین سے محبت پائیدار اور دیرپا نہیں رہ سکتی، محبت پہلے آپ کو محبوب تک پہنچاتی ہے اور پھر اُس کی منزل وحدت الوجود ہے
محبوب رب شناس ہے اور رب شناسی کروا سکتا ہے۔ محبت عطا ہوئے بغیر تمام علوم ادھورے رہ جائیں گے تمام عبادات ادھوری رہ جائیں گی، معرفت و عرفان عطا نہیں ہو سکتے خود شناسی کی منزل نہیں مل سکتی، تنہائیاں آشنائیاں کیسے بنیں گی۔
اوپر کی مختصر سی سطروں کو لکھنے کے بعد جو کہ محبت کا تعارف بھی نہیں ہیں۔ ذہن حضرت واصف علی واصفؒ کے ایک جملے کی طرف جاتا ہے جس میں انہوں نے ارشاد فرمایا تھا کہ ایمان برابر ہے محبت کے، میرا خیال ہے اس سے زیادہ واضح بات اور کوئی نہیں ہو سکتی یعنی اگر محبت وارد نہیں ہو سکی تو ایمان نامکمل رہ جائے گا۔ کیونکہ محبت عطا ہے یہ ذاتی کوششوں سے حاصل نہیں ہو سکتی، کچھ خوش قسمت انسانوں کو چن لیا جاتا ہے اِس لیے دعا ہی وہ سہارا ہے جس سے کہ آپ کو محبت کی منزل عطا ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

