Saturday, 04 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Umar Khan Jozvi
  3. Pakistan Mein Badamni, Sakoon Se Tum Bhi Nahi Raho Ge

Pakistan Mein Badamni, Sakoon Se Tum Bhi Nahi Raho Ge

پاکستان میں بدامنی، سکون سے تم بھی نہیں رہوگے

لڑائی جھگڑوں سے کچھ نہیں بنتا۔ اس لئے ہم نہ کسی جنگ کے حق میں ہیں اورنہ ہی کسی محاذآرائی کے خواہاں، جنگوں سے توقومیں تباہ ہوتی ہیں۔ ہمارامانناہے کہ جیواورجینے دوپرزندگی گزارنی چاہئیے لیکن ہاں اگرمودی کاکوئی بھائی ماتھے پربارہ بجاکرہمارے اس ملک اورقوم کے بارے میں کسی خوش فہمی یاغلط فہمی میں مدہوش رہے تواسے پھردس مئی جیسابھولاسبق یادکرکے ہوش میں لاناضروری نہیں بلکہ فرض اورلازم ہوجاتاہے۔

افغانیوں کے لئے ہمارارویہ ہمیشہ نرم اوردل کھلارہالیکن لگتاہے ہماری اس شفقت اورمحبت کا ان پرالٹااثرہواہے جس کی وجہ سے افغانی مودی جی کارنگ پکڑنے لگے ہیں۔ ویسے افغانی مودی کارنگ پکڑیں یانیتن یاہوکاہمیں اس سے کوئی لینادینانہیں مگرایک بات ان کے لئے ضرورہے کہ افغانی اپنے حال پراگررحم نہیں کھاتے توکم ازکم ہمارے حال پرتوکچھ رحم کرلیں۔ ہم انہی بہادروں کی وجہ سے گزشتہ چار دہائیوں سے جنگ، بدامنی، دہشتگردی اور عدم استحکام کے اثرات برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

پاکستان سوویت یلغار سے لے کر دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ اور پھر افغانستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال تک ہر مشکل مرحلے میں افغان عوام کے ساتھ رہا۔ نیٹووارکے دوران بھی پاکستان نے افغان عوام کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کوچالیس پچاس سال تک پناہ دینا، انہیں تعلیم، علاج اور روزگار کی سہولتیں فراہم کرنایہ کوئی عام اورمعمولی بات نہیں۔ ہجرت کے بعدپاکستان میں افغان مہاجرین کووہ آزادی ملی جوانہیں کبھی اپنے افغانستان میں بھی نہیں ملی تھی۔ افغانی مانیں یانہ لیکن عالمی سطح پراب بھی یہ حقیقت تسلیم کی جاتی ہے کہ پاکستان طویل عرصے تک دنیا کے ان ممالک میں شامل رہا جنہوں نے سب سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔۔

اس کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کی کوششوں کا حصہ بننابھی پاکستان کی ان خدمات میں شامل ہیں جسے کوئی انسان نظر اندازاورفراموش نہیں کر سکتا۔ پاکستان اور افغانستان محض دو ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، مذہب، زبان اور عوامی روابط کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جنگ، دہشت گردی، نقل مکانی اور سیاسی عدم استحکام کے ایسے ادوار دیکھے ہیں جنہوں نے نہ صرف ان کی داخلی صورتحال بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کوبھی متاثر کیاہے۔

پاکستان نے افغانستان میں امن کے قیام کے لئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجوداسی افغانستان کی وجہ سے پاکستان کووقتافوقتادہشت گردی کی نئی نئی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ آج بھی بعض دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کررہی ہیں۔ یہ عناصر سرحد پار محفوظ ٹھکانے، تربیت اور سہولتیں حاصل کرتے ہیں جس کے باعث پاکستان کے قبائلی اضلاع، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

پاکستان ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہا ہے کہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان دراصل پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں نہ صرف افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کی حمایت کی بلکہ اس سلسلے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ بھرپورتعاون بھی کیا اور ہر اس سفارتی کوشش کا حصہ بنا جس کا مقصد افغانستان میں دیرپا امن قائم کرنا تھالیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان تمام قربانیوں اورکوششوں کے باوجودآج بھی پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی کا سامنا ہے۔

امن تباہ کرنے پرماموربعض دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے پاکستان میں کارروائیاں کررہی ہیں۔ کرائے کے ان دہشتگردوں کی جانب سے سرحدی علاقوں میں حملے کئے جارہے ہیں اور معصوم شہریوں کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایاجارہاہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جنہیں عرف عام میں "خوارج" قرار دیاجاتا ہے کیونکہ ان کے اعمال نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ انسانی اقدار کے بھی منافی ہیں۔ اسلام کی تعلیمات امن، رواداری اور انسانی جان کے احترام پر زور دیتی ہیں۔ اللہ کامبارک قرآن ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔

اس تناظر میں وہ عناصر جو مساجد، بازاروں، سکولوں اور عوامی مقامات پر خون بہاتے ہیں۔ کسی بھی صورت اسلام یا انسانیت کے نمائندے نہیں ہو سکتے۔ بے گناہ انسانوں کوخون میں نہلانے اوربارودمیں اڑانے والے بدبختوں کواسلامی نمائندہ کہناتودورایسوں کوانسان کہنابھی انسانیت کی توہین ہے۔ کوئی انسان ایساکام نہیں کرسکتے جوکام یہ ظالم ماؤں کے گوداجاڑکرکررہے ہیں۔ یہ غیروں کے اشاروں پرچلنے والے لوگ ہیں جن کاکوئی دین مذہب نہیں۔ بعض بیرونی طاقتیں خصوصاً بھارت خطے میں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل اورمفادات کے لئے ایسے شیطانوں کوپاکستان کیخلاف استعمال کررہے ہیں۔

خیبرپختونخوااوربلوچستان میں آئے روزآگ اوربارودکاجوکھیل کھیلاجارہاہے وہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں۔ بھارت کی توشروع سے یہ کوشش ہے کہ پاکستان بدامنی اوردہشتگردی کی وجہ سے کسی طرح کمزورہو۔ دس مئی کے منہ توڑسرپرائزکے بعدتوپاکستان کے بارے میں بھارت کے مودیوں اورموذیوں کے عزائم اورخیالات اوربھی خطرناک ہوگئے ہیں۔ اس لئے اسے افغانستان سمیت دنیاکے جس کونے میں بھی پاکستان مخالف کرائے کے ٹٹوملیں گے وہ انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے ہرگزدریغ نہیں کریں گے۔

یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ افغانستان خود کئی دہائیوں سے جنگ اور انتشار کا شکار رہا ہے اس لئے وہاں مضبوط ریاستی اداروں کا قیام اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے مفاد میں بھی ہے۔ اگر افغان سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہوتی ہے تو اس کے منفی اثرات سب سے پہلے خود افغانستان کو بھگتنا پڑتے ہیں مگرافسوس لاکھ سمجھانے کے باوجودافغان حکمرانوں کویہ بات سمجھ نہیں آرہی۔

پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ یہ افغانستان سے محاذ آرائی نہیں بلکہ تعاون چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتے اتنے مضبوط ہیں کہ انہیں وقتی سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں طرف بسنے والے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں نہ کہ نفرت جنگ اور خونریزی کے پرکابل میں بیٹھے حکمرانوں کویہ حقیقت کون سمجھائے۔ انہیں نہ تواپنے ملک کی کوئی فکرہے اورنہ ہی پڑوسیوں کے حقوق کاکچھ خیال اورلحاظ۔

پاکستان کی منت سماجت کے باوجودسرحدپارسے خوارج کاپاکستان کی طرف اخراج بندنہیں ہورہا۔ امن کے یہ دشمن اب بھی جب اورجہاں چاہیں امن کوآگ لگارہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو ہر قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں سے پاک بنانے کے لئے عملی اقدامات کرے اور یہ یقین دہانی کرائے کہ افغانستان کسی بھی ملک خصوصاًپاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ افغانیوں کوایک بات جان لینی چاہئیے کہ افغانستان کاامن، ترقی اورخوشحالی پاکستان سے جڑی ہوئی ہے، ان کی وجہ سے اگرہمیں سکون نہیں ملے گاتوپھرسکون سے یہ بھی نہیں رہیں گے۔

بشکریہ: نئی بات

Check Also

Imam Khamenei Isteqamat Ka Ehad (1)

By Shair Khan