Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Umar Khan Jozvi
  3. Khudara Kaptan Ko Chor Dein

Khudara Kaptan Ko Chor Dein

خدارا کپتان کو چھوڑ دیں

تعمیراورترقی کاتونہیں پتہ لیکن صابرین اورشاکرین کی فہرست میں خیبرپختونخوا والے بلاکسی شک اورشبہ کے پہلے نمبرپرہوں گے کیونکہ پرویزخٹک، محمودخان، علی امین گنڈاپوراوراب جناب سہیل آفریدی جیسے عظیم کھلاڑیوں کوبرداشت کرناکسی بے صبرے اورناشکرے کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو خیبرپختونخوا کے عوام کی ہمت ہے کہ وہ تیرہ سال سے ایسے عظیم اوربے مثال لوگوں کوبرداشت کرتے آرہے ہیں۔ اسی برداشت اورخاموشی کوہی توصبراورشکرکہتے ہیں۔ ویسے ہم کس کس کی برکات اورکرامات یادکریں گے؟ یہاں توجوبھی آیاوہ پہلے والے سے بڑھ کرنکلا۔

منتخب حکومت کاکام ملک وصوبے کی ترقی اورعوامی مسائل کوترجیحی بنیادوں پرحل کراناہوتاہے لیکن یہاں ہرکوئی صرف خان کانعرہ لگانے کے لئے آیا۔ ان کی کتابوں میں خان اورپارٹی پہلے بھی ایک نمبرپرتھی اوران کے ہاں عوام اورصوبہ آج بھی دوسرے نمبرپرہے۔ اسی وجہ سے توآج ہرجگہ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیاخیبرپختونخوامیں آنے والی حکومتوں نے اپنی آئینی اور عوامی ذمہ داریوں کو ترجیح دی یا اس کی سیاسی توانائیاں عمران خان کی رہائی، احتجاجی سیاست اور سیاسی بیانیے کے گرد گھومتی رہیں؟ یہ بحث محض سیاسی مخالفت تک محدود نہیں بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی، بلدیاتی نظام کی فعالیت، عوامی مسائل کے حل اور حکومتی ترجیحات سے جڑی ہوئی ہے۔

پی ٹی آئی نے ہمیشہ خود کو ایک ایسی جماعت کے طور پر پیش کیا جو روایتی سیاست کے مقابلے میں عوامی خدمت، شفافیت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر یقین رکھتی ہے۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا میں اس جماعت نے کئی برس حکومت کرنے کے بعد یہ دعویٰ کیا کہ اس نے صوبے میں نظام بدل دیا ہے۔ مگر موجودہ دور میں عوامی سطح پر یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ حکومت کی توجہ گورننس سے زیادہ سیاسی محاذ آرائی پر مرکوز رہی۔

عمران خان کی گرفتاری اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال نے پورے ملک کی سیاست کو متاثر کیا لیکن خیبرپختونخوا حکومت پر یہ تنقید مسلسل سامنے آتی رہی کہ اس نے عوامی مسائل کے بجائے اپنی زیادہ تر سیاسی اور انتظامی توانائیاں احتجاجی تحریکوں، جلسوں، ریلیوں اور"کپتان کی رہائی"کے بیانیے پر صرف کیں۔ بلاشبہ ہر سیاسی جماعت کو اپنے قائد کے لئے سیاسی جدوجہد کا حق حاصل ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک جماعت حکومت میں ہو تو اس کی پہلی ترجیح عوامی خدمت ہونی چاہیے یا سیاسی احتجاج؟

صوبے میں مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، تعلیمی وصحت کی سہولیات کی کمی اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسے مسائل کل بھی تھے اوریہ آج بھی ہیں۔ صوبے کے کئی علاقوں میں عوام آج اوراب بھی صاف پانی، ٹوٹی سڑکوں، نکاسی آب، صفائی اور بنیادی سہولیات کے لئے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے ہی منہ کھولے عوامی مسائل کی وجہ سے عوامی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہورہاہے کہ حکومت ان مسائل کے حل کے بجائے سیاسی جلسوں اور احتجاجی سرگرمیوں میں زیادہ مصروف رہتی ہے۔ حکومت کی عوامی مسائل اورصوبے کی ترقی میں عدم دلچسپی کا سب سے زیادہ اورخطرناک اثر بلدیاتی نظام پر پڑا۔

بلدیاتی نظام کو کسی بھی جمہوری حکومت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ بلدیاتی ادارے عوامی مسائل کے فوری حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہوتے ہیں کیونکہ مقامی نمائندے عوام کے درمیان رہتے ہیں اور ان کی ضروریات سے براہ راست واقف ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ماضی میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے بڑے دعوے کئے لیکن عملی طور پر خیبرپختونخوا میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو نہ مطلوبہ اختیارات مل سکے اور نہ ہی انہیں مناسب فنڈز فراہم کئے گئے۔

صوبے کے ایک دونہیں درجنوں منتخب بلدیاتی ممبران اورچیئرمین مسلسل یہ شکایت کرتے رہے کہ انہیں ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز جاری نہیں کئے گئے۔ منتخب نمائندے عوام کے ووٹ لے کر ایوانوں میں تو پہنچ گئے مگر ان کے پاس عوامی مسائل حل کرنے کے لئے پھر وسائل موجود نہیں تھے۔ نتیجتاً بلدیاتی نمائندے خود کو بے اختیار محسوس کرتے رہے جبکہ عوام کی توقعات بھی ٹوٹتی گئیں۔ اگر ایک منتخب نمائندہ اپنے علاقے میں گلی، سڑک، پانی یا صفائی کا مسئلہ حل نہ کرا سکے تو پھر بلدیاتی نظام صرف ایک نمائشی ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔ یہاں یہ تاثر بھی عام ہوا کہ صوبائی حکومت نے وعدے اوردعوؤں کے مطابق اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے زیادہ تر کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھا۔

انتظامی معاملات میں بیوروکریسی کا کردار مضبوط رہا جبکہ منتخب بلدیاتی نمائندے ثانوی حیثیت اختیار کرتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ بیگانوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے اپنے بھی یہ مؤقف اختیار کرتے نظرآئے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کمزور کیا گیا۔ ایک جمہوری حکومت کی اصل کامیابی صرف سیاسی نعروں یا جلسوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے دیکھی جاتی ہے کہ عوام کی زندگی میں کتنی آسانی پیدا ہوئی۔ اگر حکومت کی توجہ سیاسی تحریکوں پر زیادہ اور عوامی مسائل پر کم ہو جائے تو اس کا نقصان براہ راست عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج خیبرپختونخوا میں ایک بڑا طبقہ یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ آیا حکومت نے عوامی مینڈیٹ کو عوامی خدمت کے لئے استعمال کیا یا سیاسی جدوجہد کے لئے۔

خیبرپختونخوا کے غریب عوام نے تحریک انصاف کو بار بار مینڈیٹ احتجاجی سیاست کیلئے نہیں بلکہ صوبے میں حقیقی تبدیلی کے لئے دیا۔ عوام کپتان اورکھلاڑیوں سے یہ امیدلگائے بیٹھے تھے کہ ان کی وجہ سے صوبے میں گورننس، بلدیاتی نظام اور بنیادی سہولیات میں بہتری آئے گی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ پی ٹی آئی والے عمران خان کی رہائی کیلئے احتجاج نہ کریں، یہ کپتان کی رہائی کیلئے ایک نہیں ہزارباراحتجاج کریں لیکن کم ازکم عوام کوبھی یادرکھیں، کئی سال توکپتان کی رہائی کے نام پرجلسے، جلوس اوراحتجاج کرکے انہوں نے گزاردیئے لیکن خان کوپھربھی یہ رہانہیں کراسکے، کپتان کی رہائی کے نام پریہ ڈرامہ آخرکب تک چلے گا؟ اب توتحریک انصاف کے مخالفین بھی کہہ رہے ہیں کہ خداراکپتان کورہاکرادیں تاکہ خان کے نام پر ان احتجاجی ڈراموں سے غریب عوام کی جان چھوٹ سکے۔

Check Also

Bantne Se Barhti Hui Roshani

By Asif Masood