صدر ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیاں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے قوم کے نام ایک اہم خطاب کیا ہے، اس میں صدرٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے گزشتہ چار ہفتوں میں ایران کے خلاف "فیصلہ کن اور زبردست" فتوحات حاصل کی ہیں۔ ایرانی بحریہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ایرانی فضائیہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگئی ہے۔
ایران کا میزائل پروگرام اور ان کی فیکٹریاں تباہ کر دی گئی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا"ہم اگلے دو سے تین ہفتوں تک ایران پر انتہائی شدید حملے جاری رکھیں گے اور انہیں پتھر کے دور میں واپس دھکیل دیں گے جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔ "انہوں نے کہا کہ امریکہ کے بنیادی سٹرٹیجک اہداف تقریباً مکمل ہو چکے ہیں اور وہ "کام ختم کرنیکے قریب ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ جنگ اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس آپریشن کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اور دہشت گرد گروہوں کی امداد ختم کرنا ہے۔
اس خطاب کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر بھی تنقید کی کہ وہ اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہے اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ امریکہ سے تیل خریدیں۔ امریکہ کے اندر اس خطاب پر تنقید کی گئی ہیکہ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کا کوئی واضح منصوبہ یا تاریخ نہیں دی اور یہ کہ اس جنگ سے امریکہ پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدرٹرمپ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کی تباہی کا ذکر کرکے اپنی طاقت کا سکہ جمانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن دفاعی ماہرین کا تبصرہ ہے کہ ٹرمپ نے یہ تو کہا کہ "مقاصد پورے ہو رہے ہیں" مگر یہ واضح نہیں کیا کہ اصل فوجی ہدف کیا ہے اور کیا امریکہ زمینی فوج اتارنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ ان کے اس بیان کو کہ ایران کو "پتھر کے دور" میں دھکیل دیا جائے گا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ناقدین نیاشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق اس خطاب نے مارکیٹ کو مایوس کیا ہے۔ سرمایہ کار امید کر رہے تھے کہ ٹرمپ جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کا اعلان کریں گے، ٹرمپ کا دیگر ممالک کو یہ مشورہ دینا کہ وہ خود جا کر آبنائے ہرمز کو کھلوایئں، عالمی تجارت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ تجزیہ کار اسے امریکہ کی انتہا پسند پالیسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جنگ کو طول دے رہے ہیں جس سے امریکی عوام پر مہنگائی اور قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے ٹرمپ کے دعوؤں کو "سفید جھوٹ" قرار دیا ہے۔
ان کا موقف ہے کہ امریکہ نفسیاتی جنگ کے ذریعے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ نے "جنگ ختم کرنے کی خواہش" اور "مزید تباہی پھیلانے کی دھمکی" کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچی ہے جس نے عالمی برادری کو مزید الجھن میں ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اور نیتن یاہو حکومت دونوں کا موقف ہے کہ یہ حملہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے اور اسرائیل کے وجود کو لاحق خطرات کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں واضح کیا کہ وہ اسرائیل کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کو برداشت نہیں کریں گے۔ اسرائیل اس جنگ میں امریکہ کا سب سے قریبی ساتھی ہے، جبکہ کچھ حلقوں میں اسے "سازش" اس لیے سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس جنگ کے اثرات خود اسرائیل اور خطے پر کافی پیچیدہ ثابت ہو رہے ہیں: جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے اسرائیل پر سیکڑوں میزائل داغے ہیں۔ کچھ نقادوں کا خیال ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس سے اسرائیل کی اپنی سکیورٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی "پہلے امریکہ"کی پالیسی بعض اوقات ایسے فیصلے کرتی ہے جو خطے کے اتحادیوں (بشمول اسرائیل) کے لیے طویل مدتی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، جیسے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی برادری میں تنہائی۔ ایران کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ امریکہ خطے کے ممالک کو آپس میں لڑوا کر اپنا اسلحہ بیچنا اور تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ جنگ اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی ایک انتہائی جارحانہ فوجی کارروائی ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات اس وقت تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر ہیں اور دونوں لیڈر اس آپریشن کو "ایران کے خطرے کا حتمی خاتمہ" قرار دے رہے ہیں۔
بظاہر یہ جنگ اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے موجودہ نظام کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور معاشی بحران نے بہت سے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی چھپے ہوئے مقاصد تو نہیں۔ مگر اس بات پر پوری دنیا کا اتفاق ہے کہ صدر ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں سے نہ صرف دنیا متاثر ہو رہی ہے بلکہ امریکہ بھی معاشی بحران کا شکار ہوگا۔

