Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Tayeba Zia
  3. Islamabad Mein Aman Muahida

Islamabad Mein Aman Muahida

اسلام آباد امن معاہدہ

ایک ایسے وقت جب پوری دنیا تباہی اور معاشی زوال کے دہانے پر پہنچ رہی ہے پاکستان کا کردار اللہ پاک کا کرم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ایک تدبیر تم کرتے ہو، ایک تدبیر ہم کرتے ہیں، بے شک رب العزت کی تدبیر لازوال بے مثال لاجواب ہوتی ہے۔ پاکستان کی امن اور سیز فائر کوشش بہت بڑی سفارتکاری ہے۔

پاکستان نے اس خطہ کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو تباہی سے بچا لیا۔ صدر ٹرمپ ہی نہیں پوری دنیا سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی مدبرانہ حکیمانہ سفارتکاری کے قصیدے گا رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ امریکہ میں پاکستان کے نام تک سے گورے آشنا نہ تھے اور پھر واقعہ گیارہ ستمبر سینام جاننا شروع کیا۔ وہ بھی دہشت گردی کے نام سے اور آج پوری دنیا پاکستان کو ایک پُرامن ثالثی کی حیثیت سے جانتا ہے۔

امن کی بھرپور سفارتکاری نیپاکستان کا وقار بلند کیا۔ پاکستان جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ یہ جنگ بندی صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ایران کوسخت وارننگ کے بعد سامنے آئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے اسے امریکہ کی "فتح" قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی دباؤ نے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور مسلم دنیا کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات نے اسے ماضی میں کئی بار ایک اہم ثالث (Mediator) اور امن کے سفارتکار کا کردار ادا کرنے کا موقع دیا ہے۔

پاکستان کی سفارتی تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ امریکہ اور چین کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلانا تھا۔ 1971ء میں پاکستان نے اس وقت کے امریکی مشیرِ خارجہ ہنری کسنجر کا خفیہ دورہِ چین ترتیب دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری دشمنی ختم ہوئی اور صدر رچرڈ نکسن نے چین کا تاریخی دورہ کیا۔ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران پاکستان نے دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے انتھک کوششیں کیں۔

پاکستان نے "اسلامی سربراہی کانفرنس" (OIC) کے پلیٹ فارم سے امن مشن تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تاکہ خونریزی روکی جا سکے۔ افغانستان میں دہائیوں سے جاری شورش کے خاتمے کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ مرکزی رہا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو ممکن بنانے اور امن معاہدے تک پہنچانے میں پاکستان نے بنیادی سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی کوشش رہی کہ افغانستان میں ایک جامع اور پرامن سیاسی حل نکلے تاکہ خطے میں استحکام آئے۔

حالیہ برسوں میں جب بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا، پاکستان نے ایک "غیر جانبدار پل" کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی قیادت نے دونوں دارالحکومتوں کے دورے کیے تاکہ مسلم دنیا کے ان دو اہم ستونوں کے درمیان غلط فہمیاں کم کی جا سکیں۔ پاکستان عالمی سطح پُرامن برقرار رکھنے کے لیے سب سے زیادہ دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ صومالیہ، روانڈا، بوسنیا اور کانگو جیسے شورش زدہ علاقوں میں پاکستانی فوجیوں نے اپنی جانیں دے کر عالمی امن کے قیام میں حصہ لیا، جسے اقوامِ متحدہ نے بھی سراہا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ مسلم ممالک کے درمیان تنازعات (جیسے یمن کا بحران یا لیبیا کے مسائل) کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی جزو "سب کے ساتھ امن" رہا ہے۔ "اسلام آباد معاہدہ" پاکستان کے ثالثی کے کردار کو حیران کن اور کلیدی قرار دیا جا رہا ہے۔ جہاں بہت سے مبصرین نے سکھ کا سانس لیا ہے، وہیں کچھ چیلنجز کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے: امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے اور ایران کے 10 نکاتی فارمولے کے درمیان ایک بڑا فرق ہے جسے دو ہفتوں میں پُر کرنا ایک مشکل ترین کام ہوگا۔

جنگ بندی کی اصل کامیابی کا دارومدار آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلنے اور تجارتی جہازوں کی بحفاظت آمد و رفت پر ہے۔ اگست 2025ء میں ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر دونوں ممالک نے 13 اہم معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے جن کا مقصد مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ ان میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے، بجلی کی فراہمی کے منصوبے، فروری 2026ء میں بھی پاک ایران معاشی رکاوٹوں کو دور کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ جنگ بندی معاشی استحکام کے لئے ناگزیر ہو چکی ہے۔

ایران امریکہ کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین متاثر ہو رہی تھی، جس سے پاکستان میں مہنگائی کا خدشہ تھا۔ سرحدی تحفظ بھی لازم ہے۔ ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد ہونے کی وجہ سے پاکستان کسی بھی بڑی جنگ کے براہ راست اثرات (مہاجرین کی آمد اور سیکیورٹی چیلنجز) سے بچنا چاہتا ہے۔ دو ہفتے کے لئے ہی سہی جنگ بندی سیعالمی سطح پر ایک پیس میکرکے طور پر پاکستان کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔

Check Also

Pakistan Ne Haq Ada Kar Diya

By Amer Abbas