Monday, 13 April 2026
  1.  Home
  2. Tayeba Zia
  3. Aman Muzakrat Taatul Ka Shikar

Aman Muzakrat Taatul Ka Shikar

امن مذاکرات تعطل کا شکار

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا مرحلہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچے بغیر ختم ہوگیا ہے۔ امریکی وفد کے سربراہ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی ہے کہ امریکی ٹیم کسی معاہدے کے بغیر پاکستان سے واپس روانہ ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنی بہترین اور حتمی پیشکش پیش کی تھی، جسے ایرانی فریق نے قبول نہیں کیا۔

مذاکرات سے قبل جو دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا، اب اس کے ختم ہونے یا ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستان نے ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر جنگی صورتحال کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ عالمی سطح پر پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کو سراہا گیا ہے کیونکہ اس نے ایک بڑے عالمی بحران کو فوری طور پر مزید بگڑنے سے روک لیا تھا۔

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ ایرانی وفد میں سپیکر ایرانی پارلیمنٹ قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ایران نے امریکہ کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا، جن میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عزم بھی شامل تھا۔ دوسری جانب، ایرانی سرکاری میڈیا اور حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات امریکہ کے "غیر معقول مطالبات" کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوئے۔ فریقین کے درمیان اہم اختلافی نکات میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول، ایران پر عائد پابندیاں، ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی، جوہری پروگرام اور علاقائی جنگ کا خاتمہ شامل تھے۔ مذاکرات ختم ہونے کے بعد امریکی وفد پاکستان سے روانہ ہو چکا ہے۔

اس پیش رفت نے حال ہی میں قائم ہونے والی عارضی جنگ بندی کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نظریاتی، علاقائی اور سکیورٹی معاملات پر تضادات اتنے گہرے ہیں کہ وہ ایک یا چند نشستوں میں حل نہیں ہو سکتے۔ سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق دوسرے کے وعدوں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔ پاکستان نے خلوصِ دل کے ساتھ ان مذاکرات کی میزبانی کی ہے۔ اگر یہ نتیجہ خیز نہیں ہوتے، تو پاکستان کو عالمی برادری اور خود ان دونوں ممالک کے سامنے اپنی خارجہ پالیسی کے دفاع کے لیے مزید محنت کرنا پڑے گی۔

مذاکرات کی ناکامی کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ خطے میں عسکری کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت اور سکیورٹی پر پڑیں گے۔ سفارت کاری کی دنیا میں کبھی بھی کوئی دروازہ مکمل بند نہیں کیا جاتا۔ مذاکرات کا بظاہر ناکام ہونا اکثر ایک نئی حکمت عملی کے لیے وقفہ ہوتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس سطح کے مذاکرات کا مقصد ہی یہ ہے کہ جنگ کوروکا جا سکے۔ اس لحاظ سے، اگر مذاکرات صرف کشیدگی کو کنٹرول کرنے میں بھی کامیاب رہیں تو انہیں ناکام نہیں کہا جا سکتا۔

یاد رہے کہ امریکی نائب صدر پاکستان وزٹ پر آنے والے پہلے امریکی وفد نہیں، اس سے پہلے امریکی صدور پاکستان کا وزٹ کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر آئزن ہاور نے 1959ء صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان کادورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد سرد جنگ کے دوران پاکستان کے ساتھ دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔ 1967ء میں صدر جانسن نے کراچی کا مختصر دورہ کیا اور صدر ایوب خان سے ملاقات کی۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ سرد مہری آ رہی تھی، لیکن اس کا مقصد باہمی تعاون کو برقرار رکھنا تھا۔

1969 میں صدر رچرڈ نکسن نے جنرل یحییٰ خان کے دورمیں وزٹ کیا، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ نکسن کو پاکستان کا قریبی دوست سمجھا جاتا تھا اور ان کے دورے نے یحییٰ خان کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کیا۔ 1978 میں صدر جمی کارٹر نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کا دورہ کیا۔ یہ دورہ افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت سے کچھ عرصہ قبل ہوا تھا، جس کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی جہت پیدا ہوئی۔

2000ء میں صدر بل کلنٹن کا دورہ چند گھنٹوں کا تھا، لیکن سیاسی لحاظ سے بہت اہم تھا۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں پاکستان کا دورہ کیا۔ صدرجارج بش نے 2006ء میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عروج کے دوران پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے صدر پرویز مشرف سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی شراکت داری پر زور دیا۔ لیکن ایران امریکہ جنگ کے تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان تاریخ کا انتہائی اہم اور حساس دورہ سمجھا جاتا ہے۔

عارضی سیز فائر کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے کی پاکستان کی کاوش کو اسلام آباد اجلاس کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی رہی ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ ایک اجلاس میں امن ڈیل کی امید نہ رکھی جائے ابھی کئی ایشوز پر مذاکرات کی ضرورت ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے۔ ان کا مرکزی مطالبہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق تھا: امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولے اور عالمی تیل کی ترسیل کو بحال کرے۔

امریکہ نے پابندیاں نرم کرنے کی پیشکش مشروط طور پر کی تھی، جس کا انحصار ایران کے ٹھوس اقدامات پر تھا۔ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے۔ ایران نے امریکہ کے عارضی جنگ بندی کے مسودے کو مسترد کرتے ہوئے اپنا 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ اگرچہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں فریقین ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے تاہم دونوں جانب سے "شرائط" کے باعث بات چیت تعطل کا شکار رہی۔ امریکہ کا فوکس ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر رہا، جبکہ ایران نے معاشی پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں اپنے وسیع تر تحفظات کو مقدم رکھا۔

Check Also

America Iran Muzakrat Ki Nakami Ka Pakistan Hariz Zimmedari Nahi

By Nusrat Javed