اے آئی ایجنٹس، انسان کے کام اپنے ذمہ لے رہے ہیں

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دنیا میں قدم رکھنے والے بہت سے پاکستانی اب بھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ یہ تخلیقی کام کے لیے ہے۔ ہمارے یہاں عام طور پر چیٹ جی پی ٹی اور جمینائی سمیت دو چار ٹولز ایسے ہیں جنہیں بنیادی ریسرچ، تخلیق یا تفریح کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سچ یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کا سفر طے کر رہی ہے کہ اس فیلڈ کے ماہرین بھی ہر روز کچھ نیا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔
صنعتی انقلاب کے بعد اب ایک بڑا انقلاب اے آئی کے نام پر آ گیا ہے۔ بنیادی طور پر اے آئی کے دو بڑے استعمال ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں جو اسے بطور تفریح استعمال کر رہے ہیں اور محض ویڈیو یا تصاویر بنا رہے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو اسے کسی مسئلہ کے حل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جو لوگ اے آئی کو دوسروں کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں وہ اس سے پیسے کما رہے ہیں۔
آج دنیا جس تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اب محض ایک تکنیکی اصطلاح نہیں رہی بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں فیصلہ سازی اور عمل درآمد کا ایک خود مختار حصہ بن چکی ہے۔ 2026 میں ہم ٹیکنالوجی کی ایک ایسی سطح پر کھڑے ہیں جسے اے آئی کے "جنریٹو" یعنی تخلیقی دور کی بجائے "اینجٹک (Agentic)" دور کہا جا رہا ہے۔ ماضی میں اے آئی صرف معلومات فراہم کرتا تھا لیکن اب یہ "ایجنٹ" کی طرح خود کار انداز میں کام کرنے اور اہداف کو مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس ڈیجیٹل انقلاب کے دور میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے جہاں چیلنجز موجود ہیں وہیں کامیابی اور ترقی کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں جنہیں بروئے کار لا کر ہم قومی ترقی کی رفتار کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ محض اعدادو شمار ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس طاقت کو درست سمت میں استعمال کیا جائے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 2030 تک عالمی معیشت میں اے آئی کا حصہ 15.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اگر ہم آج اپنے نوجوانوں کو ایجنٹک اے آئی ٹولز، آٹومیشن اور ڈیٹا اینالیٹکس میں ماہر بنا دیں تو ہم عالمی فری لانس مارکیٹ میں گیم چینجر ملک کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ اس وقت بھی پاکستانی نوجوان آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات میں اپنا نام بنا رہے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف "ڈیٹا انٹری" یا "بیسک کوڈنگ" سے نکل کر اے آئی آرکیسٹریشن اور پروڈکٹ ڈویلپمنٹ کی طرف بڑھیں۔ یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ اس نئے دور میں نوجوانوں کے لیے اب نئے راستے صرف روایتی ڈگریوں تک محدود نہیں ہیں۔ آج کسی بھی میڈیا پروفیشنل کے لیے ضروری ہے کہ وہ کیمرے کے ساتھ ساتھ اے آئی سے ویڈیو جنریشن، ایڈیٹنگ اور سکرپٹ رائٹنگ کو اپنے ہاتھ میں رکھے۔ ایک ریسرچر کے لیے ضروری ہے کہ وہ پریڈکٹو اینالیٹکس کے ذریعے انسانی نقل و حرکت یا ماحولیاتی تغیرات کا مطالعہ کرے۔
ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ خود کو "ٹیکنالوجی کے صارفین" سے نکال کر "ٹیکنالوجی کے خالق" کے سانچے میں ڈھالیں کیونکہ اب وہی کامیاب کہلائیں گے جو مسائل کو دیکھیں گے، انہیں سمجھیں گے اور ان کے حل کے لیے اے آئی بیسڈ خودکار سسٹم تشکیل دیں گے۔ اب کسی بھی شخص کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز پر دستیاب مفت سرٹیفیکیشنز اور عالمی ریسرچ پیپرز تک رسائی حاصل کرنا مشکل نہیں رہا۔ کلائمیٹ چینج اور ہیومن موبلٹی جیسے موضوعات پر جو ریسرچ پہلے برسوں لیتی تھی اب اے آئی کی مدد سے مہینوں میں ممکن ہے۔
یہ وقت ہے کہ نوجوانوں کو اپنی توانائیاں ان جدید ٹولز کو سیکھنے میں صرف کرنی چاہئیں جو ان کی کارکردگی کو ایک عام انسان کے مقابلے میں دس گنا زیادہ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے یہ سفر تنہا طے نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ملک کے سٹیک ہولڈرز یعنی حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی تعلیمی پالیسیوں میں فوری تبدیلی لانا ہوگی۔ نصاب میں صرف کتابی علم کافی نہیں بلکہ عملی تجربہ گاہیں یعنی اے آئی لیبس قائم کرنا ہوں گی۔ سرکاری سطح پر ایسے "انوویشن حبس" بنانے کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کو جدید ہارڈ ویئر اور کلاوڈ کمپیوٹنگ تک رسائی ملے۔ اگر ہم نے آج اپنے تعلیمی اداروں کو ٹیکنالوجی سے لیس نہ کیا تو ہمارے گریجویٹس کل کی مارکیٹ کے لیے غیر متعلق ہو جائیں گے۔
دوسرا اہم قدم "ڈیجیٹل انفراسٹرکچر" کی بہتری ہے۔ پاکستان کو ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں انٹرنیٹ کی رفتار اور ڈیٹا کی حفاظت یعنی ڈیٹا پرائیویسی یقینی ہو۔ حکومت کو مقامی ٹیک کمپنیوں کو مراعات دینی چاہئیں تاکہ وہ عالمی سطح کے اے آئی ماڈلز کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔ آئی ٹی ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے ٹیکس میں چھوٹ اور آسان قرضوں کی فراہمی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں مقامی زبانوں میں اے آئی ماڈلز کی تربیت پر کام کرنا ہوگا تاکہ دیہی علاقوں کے وہ نوجوان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو انگریزی زبان میں مہارت نہیں رکھتے۔ اب زبان کی رکاوٹیں اہم نہیں رہیں۔ اب پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو یا کشمیری بولنے والا شخص اپنی زبان میں اے آئی کو ہدایات دے کر کام لے سکتا ہے لیکن ہمیں مقامی اے آئی ماڈلز بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ سب سے اہم نکتہ "گلوبل گورننس" میں ہماری شمولیت ہے۔
دنیا اس وقت اے آئی کے ضابطہ اخلاق پر کام کر رہی ہے۔ پاکستان کو اس عالمی مکالمے کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم اپنی ضروریات اور ثقافتی اقدار کے مطابق تکنیکی پالیسیاں تشکیل دے سکیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اے آئی انسانوں کا نعم البدل نہیں بلکہ معاون ہے۔ سندر پچائی جیسے ماہرین کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اے آئی انسانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا نام ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی ورک فورس کو یہ تربیت دے دی کہ کیسے وہ ان ٹولز کے ذریعے بورنگ اور دفتری کاموں کو خود کار سسٹم میں تبدیل کرکے اپنی توجہ تخلیقی کاموں پر مرکوز کر سکتے ہیں تو ہم ایک بڑی معاشی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
اے آئی نے انسان کو حقیقی معنوں میں اس جگہ لا کھڑا کیا ہے جو اس کا اصل مقام ہے غور و فکر کرنا اور تخلیقی انداز میں سوچنا۔ اب کامیاب لوگ وہی ہوں گے جو نئے آئیدیاز تلاش کریں گے، غور و فکر کریں گے اور دنیا کے مسائل کا حل پیش کریں گے۔ باقی سارا کام اے آئی تیزی سے اپنے ذمہ لے رہا ہے۔ اے آئی ایجنٹک موڈ اتنا تیز ہو چکا ہے کہ اب یہ آپ کے واٹس ایپ پر آپ کی باونڈریز کے مطابق آپ کے دوستوں اور آپ کے کسٹمرز کو میسجز کا جواب دے رہا ہے اور گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھا رہا ہے۔ یہی وقت ہے کہ پاکستانی نوجوان مایوسی کی بجائے موقع تلاش کریں۔
یہ وقت شکایت کرنے کا نہیں بلکہ سیکھنے کا ہے۔ اپنی کمیونٹیز بنائیں، ڈیجیٹل فورمز پر نیٹ ورکنگ کریں اور ایجنٹک اے آئی کو اپنا بہترین ساتھی بنائیں۔ یاد رکھیں مستقبل ان کا نہیں جو ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہیں بلکہ ان کا ہے جو اسے استعمال کرنا سیکھ چکے ہیں۔ حکومت اور نجی شعبے نے بروقت فیصلے نہ کیے تو ہم پھر ایک نئی صنعتی انقلاب کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ وقت بہت کم ہے اور ٹیکنالوجی کی رفتار بہت تیز۔ اس وقت ہم سب کو مل کر ایک ایسی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد رکھنا ہوگی جو صرف پاکستانی نوجوانوں کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مقدر بدل سکے۔
بشکریہ: نئی بات
