سعودیہ کا یوکرائن سے معاہدہ

سعودی عرب نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون کے حملوں سے اپنے دفاع کے لیے یوکرائن سے ایک نیا دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ اس وقت یوکرائن کے صدر زلیکنسی سعودی عرب میں ہیں جہاں ان کی ملاقات کرائون پرنس شہزادہ محمد بن سلمان سے ہوئی ہے۔ یوکرائن کے پاس وہ جدید ٹیکنالوجی ہے جو ڈرون یا میزائل کو نیوٹرالز کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
یوکرائن جو خود روس کے خلاف چار سال سے جنگ لڑ رہا ہے وہ اب سعودی عرب کا بھی دفاع کرے گا۔ ایک ہفتے سے یوکرائن کے ایکسپرٹس اور ماہرین سعودی عرب میں ہیں۔ یوکرائن کے سعودی دفاع کرنے کے پیچھے ایران کی روس کو فروخت کیے گئے وہ ڈرون ہیں جو ایران نے سپلائی کیے تھے جو بعد میں روس نے یوکرائن پر حملوں کے لیے استمعال کیے۔ لہذا یوکرائن کے پاس ایران کی روس کو سپلائی کیے گئے ڈرون کے پرانے سکور سیٹل کرنے کا موقع ہاتھ لگا ہے۔
لگتا ہے سعودی عرب بھی پاکستان کی زبانی تسلیوں سے شدید مایوس ہو کر کر اب نئے دفاعی معاہدے کررہا ہے کہ اسے علم ہے اسلام آباد کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ ایرانی حملوں کے مقابلے پر ریاض کی خاطر خواہ مدد نہیں کرسکتا۔ یوں یوکرائن کے ساتھ نیا دفاعی معاہدہ کیا گیا ہے۔
اس سے یہ بھی لگتا ہے کہ سعودی عرب اب آخرکار ایران کے ساتھ جنگ لڑنے کی تیاری کررہا ہے۔ شاید جنگ پھیل جائے گی اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا جلد نتیجہ نہ نکلا جس کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں۔
پچھلے چند دنوں سے سعودی عرب، دوبئی، قطر اور خطے کے دیگر ممالک کی ٹون ایرانی حملوں کے خلاف سخت ہورہی ہے۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔ لگتا ہے وہ بھی اب زیادہ دیر تک ایران کو جواب نہ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا شاید نہ رہ سکیں اور شاید یہی اسرائیل بھی چاہتا ہے کہ جنگ پھیلے۔
سعودی عرب قطر اور دوبئی کے لیے اسٹرٹ آف ہارموز ایک لائف لائن ہے جہاں اب ایران کا کنٹرول ہے۔۔ سعودی عرب کا یوکرائن سے معاہدہ اس طرف اشارہ ہے جنگ پھیلنے والی ہے۔ سعودی عرب شاید مزید صبر نہیں کرے گا جس کا اظہار کل ان کی وزارت خارجہ کے پریس ریلیز سے کیا جاسکتا ہے۔ گلف کی سب ریاستں انڈر اٹیک ہیں اور وہ متحد ہو کر جوابی حملوں کے لیے تیار ہورہے ہیں جس کو شاید لیڈ سعودی عرب کرے۔
یقیناََ پاکستان کے لیے فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا ہے۔۔ کہ وہ اب ان حالات میں کہاں کھڑا ہوگا اگر ایران کے حملوں کے جواب میں سعودی عرب/سات گلف ریاستوں نے جوابی حملے شروع کے۔
کل ہمارے امریکہ میں مقیم مہربان مبشر زیدی نے اپنی فیس بک پر لکھا تھا کہ ایران کے لیے پرل ہاربر والا لحمہ آنے والا ہے۔
ایران کو اس مرحلے سے بچنا چاہیے۔ اب ہمارے ہاں کتنے لوگ جانتے ہوں گے کہ پرل ہاربر کا کیا قصہ تھا اور جاپانیوں کی زندگیوں اور ریاست پر اس کے کیا اثرات ہوئے۔
بہرحال عرب عجم کی لڑائی اور عصبیت ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہ اسلام سے بھی پہلے کی لڑائی ہے۔۔ وہی سمجھ لیں جو پاکستان اور ہندوستان کی ہے۔
یہ طے ہے انسان اور معاشرے، نسل، تہذیبیں یا قدیم قبائل اتنی آسانی سے اپنی تہذیبی دشمنیوں یا احساس برتری سے جان نہیں چھڑا پاتے۔۔ عرب عجم دشمنی کے بارے پڑھتے یا سنتے تھے لگتا ہے اب یہ دیکھنے کا وقت بھی آگیا ہے اگر امن معاہدہ بہت جلد نہ ہوا۔

