رب سوہنڑا شالا عزتاں قائم رکھے

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر لگتا ہے قسمت کے دھنی ہیں۔ پچھلے سال مئی کے بعد ان کی قسمت کا ستاوہ اونچا جار رہا ہے (ویسے وہ Gemini ہیں اور صدر ٹرمپ کا بھی یہی اسٹار ہے)۔ جنرل عاصم ایران میں ہیں جب یہ سب خبریں بریک ہورہی ہیں جس سے دنیا سکھ کا سانس لے سکے گی۔
خبریں آرہی ہیں کہ ایران امریکہ معاہدہ تقریباََ طے پا گیا ہے اور کہا جارہا ہے اتوار کو اسلام آباد میں شاید سائن ہو جائے گا جس کے لیے صدر ٹرمپ کی آمد متوقع ہے۔ اگر ٹرمپ آئے تو پھر ایرانی صدر مسعود صاحب بھی اسلام آباد آئیں گے۔
ایران کے وزیرخارجہ نے ٹوئٹ کیا ہے کہ فوری طور پر آبنائے ہرموز کو کھول دیا گیا ہے جب تک لبنان اسرائیل سیز فائر چلے گی۔
ٹرمپ نے فوری طور پر ہرموز کھولنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے بلکہ شاید سکون کا بہت بڑا سانس بھی لیا ہوگا۔
اب ایک اور خبر بھی آرہی ہے کہ امریکہ ایران کو پیشکش کررہا ہے کہ بیس ارب ڈالرز لے کر آپ بچا کچھا ایٹمی مواد ہمیں دے دیں۔
یہ ویک اینڈ بہت بڑی عالمی خبروں کا ہے اور اس میں اگر کسی نے عزت کمائی ہے تو وہ پاکستان نے کمائی ہے۔ 1947 کے بعد دو ایسے مواقع آئے ہیں جب ہمارے ملک اور ہماری عزت عالمی سطح پر بنی ہے۔
1998 میں جب نیوکلیر دھماکے کیے جس پر عالمی ورلڈ نے عزت کی نگاہوں سے دیکھا اور اب اتنی خوفناک جنگ نہ صرف ختم کرائی بلکہ جیسے چین اور امریکہ کے درمیان 1971 میں ہنری کسنجر کی خفیہ چین وزٹ میں رول ادا کیا تھا وہی اب ایران اور امریکہ کے درمیان کیا ہے۔ جو کام پوری دینا 1979 سے مل کر نہ کر سکی وہ اب پاکستان نے کر دکھایا ہے۔ یہ معمولی کام نہیں۔ اس پر اس ملک کی سیاسی اور فوجی اور سفارتی لیڈرشپ کو مبارکباد اور شاباش بنتی ہے۔
ساری عمر پاکستان کو عالمی سطح پر کٹہرے میں ہی کھڑا پایا، انکوائری بھگتیں، سنگین الزمات، کہیں پٹاخہ بجا تو بھی ہم ملزم ٹھہرے۔ دنیا بھر کا میڈیا ہمیں برا بھلا کہتا رہا اور جو ہم نے طالبان کے برسوں لشکر بنوا کر بدنامی کمائی اس کا ازالہ اب ہورہا ہے۔
میرا ایک دوست جب بھی ملے گا ایک بڑی خوبصورت دعا دیتا ہے کہ رب شالا عزتاں قائم رکھے۔ آپ بھی سب دعا کریں سوہنڑا رب پاکستان اور پاکستانیوں کی یہ عزتیں قائم رکھے، انشاء اللہ۔

