Friday, 20 March 2026
  1.  Home
  2. Rauf Klasra
  3. Multan, Bahawalpur, Kabul Se Tehran Tak

Multan, Bahawalpur, Kabul Se Tehran Tak

ملتان، بہاولپور، کابل سے تہران تک

امریکہ میں مقیم ہمارے دوست مبشر زیدی بہت پڑھے لکھے بندے ہیں۔ پڑھے لکھے تو ہیں اس سے زیادہ وہ محقق ہیں، محقق سے زیادہ جو مجھے ان کی خوبی پسند ہے وہ نئی ٹیکنالوجی اور علم حاصل کرتے رہتے ہیں اور ہمارے ساتھ بھی اگر مگر کے بغیر وہ شئیر بھی کرتے رہتے ہیں۔

آپ کی مرضی ان کے خیالات سے اتفاق کریں یا نہ کریں انہیں ٹکے کا فرق نہیں پڑتا۔ وہ اپنی بات دھڑلے سے کرتے ہیں ایک جنیوئن تخلیق کار کی طرح۔ انہیں اپنی رینٹنگز یا کسی سے اپنی سوچ یا لکھنا بولنا endorse کرانے کا بھی شوق نہیں ہے۔ انتہائی تخلیقی اور تحقیقاتی ذہن کےمالک۔

آج انہوں نے فیس بک پر جو مختصر سا لکھا ہے وہ یقیناََ ہم بہت ساروں کے اوپر سے گزرے گا جہاں غیرت، بہادری اور انا کو باقی سب انسانی جبلتوں سے بڑی چیز سمجھا جاتا ہے جس کے لیے کسی کی جان دی بھی جاسکتی ہے اور لی بھی جاسکتی ہے۔

وہ لکھتے ہیں "ریاست ماں جیسی ہونی چاہیے جو شہریوں سے محبت کرے۔ سربراہ باپ جیسا ہونا چاہیے جو بچوں کو تحفظ فراہم کرے۔ اگر بچے مارے جارہے ہیں تو یقیناََ کہیں خرابی ہے۔ جنگ میں فتح و شکست دھوکے ہیں۔ اصل جیت امن کا ہونا ہوتا ہے۔ ایران کو امن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر شکست کا اعلان کرنے سے کسی کی انا کی تسکین ہوتی ہے تو ہونے دے۔ اپنے بچوں کو بچا لے۔ اسرائیل اور امریکا کو شکست دینی ہے تو معیشت اور ٹیکنالوجی میں ہرائیں۔ اس جنگ میں بچے نہیں مرتے"۔

اب آپ کی مرضی آپ مبشر کی دانش کی داد دیں یا اسے طعنے دیں یا گالی گلوچ کریں۔

یاد آیا جب 1818 میں رنجیت سنگھ اپنے سکھوں کی فوجیں لے کر پنجاب سے، اٹک، پشاور، قبائلی علاقوں سے کابل سے بہاولپور تک آدم بو آدم بو کرتا بپھرا ہوا پھر رہا تھا تو اس نے ملتان کے قلعہ پر گھیرا ڈالا تو نواب مظفر خان کو پیش کش کی کہ وہ قلعے کے دروازے کھول دے تو وہ ہرجانہ لے کر واپس چلا جائے گا۔

یہ پیش کش دو تین دفعہ دہرائی گئی۔ نواب مظفر کے اندر افغان پختون خون تھا۔ وہ نہ مانا۔ جنگ لگ گئی۔

نواب اپنے سات نوجوان بیٹوں کے ساتھ جنگ میں شہید ہوا۔ ملتان میں مقامیوں کا سکھوں نے قتل عام کیا، عورتوں کی عزیتں لوٹی گئیں اور لوٹ مار کی کہ اس کی تفصیلات یہاں بتا کر میں آپ کے رونگھٹے کھڑے نہیں کرنا چاہتا۔

ملتان کے بعد رنجیت سنگھ نے بہاولپور ریاست کا رخ کرنا چاہا تو وہاں سے نواب نے کہلوا بھیجا سوہنٹرا۔۔ تیڈا ساڈا کہیڑا جہیڑا اے۔ تیکوں پیسے چاہیدن او میں بھجوا ڈیساں اور ہر سال ہرجانہ دوں گا لیکن میرے لوگوں کو نہ مارنا ہے نہ عورتوں کی عزتیں لوٹنی ہیں۔ تم وہیں رہو۔ پیسہ ملتا رہے گا۔

رنجیت سنگھ نے پھر اٹک سے پشاور کا رخ کیا تو قبائلی علاقے فتح کرتا کابل کا رخ کرنے لگا تو کابل کے حکمران نے بھی بہاولپور کے نواب کا راستہ چنا اور کہلوا بھیجا پیسوں کا جھگڑا ہے یا لاہور دربار کی بیعت کا؟ دونوں کام کر دوں گا تم کابل مت آئو۔

بہاولپوری نواب اور کابل کے حاکم نے لاہور دربار کی بیعت اور پیسے دے کر اپنے لوگوں اور علاقوں کو بچایا۔

اب یہ آپ کی مرضی ہے بہاولپور کے نواب اور کابل کے حکمران کو بزدل یا ڈرپوک کہیں جنہوں نے اپنے ریاستی شہریوں اور کابل کے غیور شہریوں کی ناک کٹوا دی یا سمجھدار کہیں کہ اگر ایک خطرناک بلا پیسے لے کر ٹل سکتی ہے یا گڑ کھا کر مر جائے گی تو زہر کیوں دیں۔

یا پھر ہم ملتان کے نواب مظفر کو اپنا ہیرو سمجھیں جس نے سات نوجوان بیٹے جنگ میں قربان کرا دیے لیکن رنجیت سنگھ کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے چاہے سکھوں نے پورا ملتان تہس نہس کر دیا اور نواب خود بھی بچوں سمیت مارا گیا یا پھر آپ مبشر زیدی کو برا بھلا کہیں جو ایرانیوں کو وہی "بزدلی" دکھانے کے لیے اکسا رہا ہے جو نواب آف بہاولپور اور کابل کے حکمران نے آج سے تقریباََ دو سو سال پہلے دکھائی تھی۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Pakistan Sirf Ashrafia Ur Unke Bachon Ke Liye Hai

By Imtiaz Ahmad