Tuesday, 05 March 2024
  1.  Home/
  2. Orya Maqbool Jan/
  3. Tumhari Tehzeeb Apne Khanjar Se Aap Hi Khudkushi Karegi

Tumhari Tehzeeb Apne Khanjar Se Aap Hi Khudkushi Karegi

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی

کارپوریٹ سودی سرمائے کی کوکھ سے پیدا ہونے والے سیکولر، لبرل اخلاقیات سے مزّین معاشرے نے لاتعداد ایسے گروہوں کو عزت و وقار عطا کیا ہے جو اس تہذیب کے قیام سے پہلے پوری انسانی تاریخ میں ذلّت و رُسوائی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ ان طبقات میں سے ایک جسم فروش طوائفیں بھی ہیں جن کا گروہ انسانی تاریخ میں تقریباً ہر معاشرے میں ناپسندیدہ ہی تصور ہوتا رہا۔

یہ الگ بات ہے کہ تاریخ میں اسے دنیا کا سب سے قدیم پیشہ (Oldest Profession) سمجھا جاتا ہے۔ ہر تہذیب، ثقافت اور زبان و بیان میں جسم فروش عورتوں کو جن ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، اگر وہ کسی عام خاتون کے بارے میں استعمال کئے جائیں تو وہ اسے اپنے لئے ایک گالی تصور کرے گی، جیسے طوائف، کسبی، رنڈی وغیرہ۔ اسی طرح انگریزی میں بھی لفظ "Prostitute" کے لاتعداد نعم البدل ہیں جیسے Call girl، Street walker، Giglo، Whore یا Hooker وغیرہ۔

مغرب میں بھی یہ تمام نام اگر آج کسی معزز خاتون کے نام کے ساتھ چسپاں کئے جائیں تو وہ فوراً آپ کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ کر دے گی۔ لیکن کمال ہے اس سیکولر، لبرل اخلاقیات کے علمبرداروں کا کہ انہوں نے جسم فروشی کو بھی دیگر معزز پیشوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے انہیں"Sex worker" یعنی "جنسی کام کاج کرنے والے" قرار دے دیا ہے۔ پہلے یہ "لقب" صرف عورتوں تک محدود تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اب تو مرد اور مخنث بھی اس صف میں شامل ہو چکے ہیں۔

یورپ کے اکثر ممالک میں یہ "عظیم" کاروبار مکمل طور پر جائز ہے۔ لیکن اس "معزز پروفیشن" نے اپنے ساتھ صدیوں سے منسلک ایک پیشے کی روزی پر لات ماری ہے، اور وہ ہے "دلال" (Pimp) کا پیشہ۔ یورپی ممالک میں قانون یہ ہے کہ ایک عورت، مرد یا مخنث خود تو اپنا جسم بیچ سکتا ہے لیکن کوئی دوسرا اس کے جسم کا سودا وغیرہ طے نہیں کر سکتا۔ البتہ مارکیٹنگ کے لئے وہ کسی بھی فرم کا سہارا لے سکتی ہے، اخبار میں اشتہار دے سکتی ہے، غرض ہر وہ کام کر سکتی ہے جو اس کی جسم فروشی کے دھندے میں اضافہ کر سکے۔

اس غلیظ اور مکروہ دھندے کی معراج اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب بڑے بڑے عالمی اور مقامی اجتماعات اور کانفرنسیں ہوتی ہیں یا پھر مقابلوں یا نمائشوں کے دوران اسے عروج ملتا ہے، جیسے ورلڈ اولمپکس، فٹ بال کا ورلڈ کپ، مس ورلڈ کا مقابلہ، عالمی نمائشیں، ریوڈی جنیرو جیسے بڑے بڑے فیسٹول وغیرہ۔

دنیا بھر سے جسم فروشی کے پیشے سے وابستہ عورتیں کشاں کشاں ایسے تہواروں کے مقامات پر پہنچتی ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹل ان کی پہلے سے بکنگ کر لیتے ہیں اور یہ خواتین ہوٹلوں میں رہائش رکھنے والوں کو دی جانے والی "سہولیات" میں شامل ہوتی ہیں۔ مختلف بار، نائب کلب یا مساج پارلر وغیرہ ان تقریبات کے دوران ایسی عورتوں کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔

نو ّے کی دہائی میں جب دنیا بھر میں ایڈز بہت پھیلا ہوا تھا تو خوف کی وجہ سے سب سے زیادہ جسم فروشی کے پیشے پر ہی زوال آیا۔ لیکن کمال ہے کارپوریٹ مارکیٹنگ کا کہ اس "پروفیشن کو زندہ رکھنے کے لئے باقاعدہ ایسی تمام خواتین کو ایڈز فری ہونے کے بلیو کارڈ جاری کئے گئے اور دنیا بھر میں محفوظ جنسی روابط (Safe Sex Relations) کے لئے مینوئل شائع ہوئے۔

اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں باقاعدہ جنسی تحفظات کی مہم چلائی گئی۔ حالانکہ ایڈز کی بیماری نے دنیا کو ایک ہی اخلاقی سبق دیا تھا کہ "اپنے پارٹنر تک محدود رہیے"، لیکن مغرب کی اخلاقیات اس بات پر کیسے قائل ہوتی کہ لوگ اپنی ازدواجی زندگی کو پاکیزہ بنائیں۔ اسی لئے انہوں نے شادی سے باہر جنسی اختلاط کے دوران احتیاط پر زور دیا تاکہ جسم فروشی کی یہ چکا چوند مارکیٹ کہیں ایڈز کے خوف سے ختم نہ ہو جائے۔

کارپوریٹ سودی نظام کے عالمی کرتا دھرتا ایک اہم معاشی فورم پر ہر سال اکٹھا ہوتے ہیں۔ اسے "ورلڈ اکنامک فورم" کہتے ہیں۔ یہ فورم 24 جنوری 1971ء کو قائم ہوا تھا جس میں دنیا بھر کی ایک ہزار کارپوریشنیں اور کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ تمام سرمایہ دار ہر سال جنوری کے آخری ہفتے میں سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں ایک کانفرنس منعقد کرتے ہیں۔

یہی وہ سرمایہ دار ہیں جو جدید مغربی سودی جمہوری نظام کے اصل پسِ پردہ "حاکم" اور "فرماں روا" ہیں۔ ان کے دیئے گئے اربوں ڈالر پارٹی فنڈز سے امریکہ اور یورپ میں پارٹیاں الیکشن لڑتی ہیں، انہی کے سپانسرز سے بڑے بڑے ٹورنامنٹ، ورلڈ کپ، فیشن شو اور میلے سجتے ہیں۔ یہی تو ہیں جو دنیاکی خوبصورت ترین ماڈلز اور فلمی اداکارائوں کو کثیر سرمائے سے اپنے لئے "سفیر" (Brand Ambassadors) مقرر کرتے ہیں۔ انہی کے دَم قدم سے بالی ووڈ، ہالی ووڈ اور دیگر فلمی صنعتوں میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔

یہ تمام لوگ ڈیووس کی سردیوں میں برف سے ڈھکے اس شہر میں بظاہر عالمی معاشی منظرنامے پر گفتگو کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ لیکن یہ اس کانفرنس کے صرف چند دنوں میں بھی اپنے لئے "سامانِ تعیش" کا بندوبست کرنا نہیں بھولتے۔ اس سال 2023ء میں جب یہ سب لوگ وہاں جمع ہوئے، تو دنیا بھر کے اخبارات لاتعداد دھماکہ خیز خبروں سے "سج" گئے کہ ڈیووس میں طوائفوں کی مانگ بہت بڑھ گئی ہے۔ بڑے عرصے کے بعد اخبارات نے ان عورتوں کے لئے لفظ "Prostitute" استعمال کیا۔

ایک خاتون "لیانا" (Liana) کا انٹرویو دنیا کے بے شمار اخبارات میں شائع کیا گیا۔ اس نے کہا کہ میں ایک امریکی بزنس مین کی پسندیدہ ہوں جو میری وجہ سے کانفرنس کے علاوہ بھی بار بار یہاں آتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ عموماً ایک گھنٹے کے سات سو یورو "چارج" کرتی ہے جبکہ پوری رات کے لئے 2300 یورو اس کی "مزدوری" ہے، جبکہ اس کی آمدورفت کے اخراجات اس سے علیحدہ ہیں۔

اخبارات نے اس دوران خدمات (Services) مہیا کرنے والے ایک ادارے سے رابطہ کیا جس نے بتایا کہ ہمارے پاس ابھی تک گیارہ خواتین کے لئے بکنگ ہو چکی ہے جبکہ ہمیں مزید 25 کی توقع ہے۔ مشہور اخبار ٹائمز "The Times" جو گذشتہ کئی سال سے اس کانفرنس کے دوران بلائی جانے والی ایسی خواتین کے بارے میں مسلسل خبریں شائع کرتا رہا ہے، اس کے مطابق ہر سال تقریباً سو سے زیادہ طوائفیں اس کانفرنس کے دوران دنیا بھر کے ممالک سے ڈیووس آتی ہیں۔

کانفرنس کے ایک سرکاری ڈرائیور نے انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ وہ ایک خاتون کو ایئرپورٹ سے لا رہا تھا، جس نے راستے میں اسے بتایا کہ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتی ہے اور اسے اس کے باس نے مجبور کیا ہے کہ وہ ڈیووس جا کر ایک بوڑھے شخص کے ساتھ رات گزارے۔

اس پُر تعیش ماحول میں 600 کے قریب کارپوریشنوں کے سربراہ اور 50 کے قریب سربراہانِ مملکت ایک ہزار پرائیویٹ جہازوں پر ڈیووس آئے اور وہ کانفرنس کے دوران یوکرین کی جنگ، عالمی کساد بازاری، افراطِ زر، موسمیاتی تبدیلی اور دنیا میں پائی جانے والی غریب اور امیر کی تقسیم جیسے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کرتے رہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت دنیا کے عالمی مالیاتی، سیاسی اور معاشرتی نظام کے اصل کرتا دھرتا ہیں۔ انہی کے سرمائے سے دنیا روشن ہے، لیکن ان کی مکروہ زندگی اور گناہ سے لتھڑا اخلاقی ماحول وہ تاریکی ہے جو ایک دن تہذیبوں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔

About Orya Maqbool Jan

Orya Maqbool Jan is a columnist, writer, poet and civil servant from Pakistan. He has written many urdu columns for various urdu-language newspapers in Pakistan. He has also served as director general to Sustainable Development of the Walled City Project in Lahore and as executive director ECO, Cultural Institute, Tehran and information secretary to the government of the Punjab.

Check Also

Nanha Shehzada

By Abdullah Shohaz