Thursday, 02 December 2021
  1.  Home/
  2. Orya Maqbool Jan/
  3. Taliban, Islami Jangi Ikhlaqiat Ka Roshan Chehra

Taliban, Islami Jangi Ikhlaqiat Ka Roshan Chehra

جس ڈیڑھ ارب اُمتِ مسلمہ کو امریکہ اور عالمی عسکری اتحاد کی شکست پر اجتماعی سجدۂ شکر ادا کرنا چاہئے تھا، اس کی خاموشی حیرتناک بلکہ عبرتناک ہے۔ کیا یہ وہی اُمت ہے جس کے کونے کونے پر 28 مئی1998ء کو پاکستان کے "ایٹمی قوت"بننے کے بعد سڑکوں پر دیوانہ وار رقص کرتے لوگ نکل آئے تھے۔ دلوں میں یہ گہرا تصور انہیں سرخوشی میں مبتلا کر رہا تھا کہ اب مسلم اُمہ کے ایک ملک کے پاس ناقابلِ تسخیر "ٹیکنالوجی" کی دولت آ گئی ہے۔ سمجھتے تھے کہ شاید اب یہ اُمت "ناقابل شکست" ہو چکی ہے۔ کاش ٹیکنالوجی کے "شرک" میں مبتلا اس وقت کے سادہ لوح مسلمانوں کو علم ہوتا کہ آج جو امریکہ افغانستان سے ذلّت و رسوائی سے نکلا ہے، اس کے پاس ابھی بھی 1700 ایٹم بم ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کے اتحادی نیٹو فورسز کے دو ممالک، برطانیہ کے پاس 120 اور فرانس کے پاس 280 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ان 3000 ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں میرا اللہ صرف 60 ہزار طالبان کو "فتح و نصرت" سے ہمکنار کرتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی ایک خاص نشانی ہے جو اُمت کے ہر فرد کیلئے ہے، اور یہ اس کے وعدوں کی تکمیل ہے جو اس نے ایسے اہلِ ایمان کے ساتھ کئے ہیں جو صرف اور صرف اسی کی ذات پر توکل کرتے ہوئے میدان میں اُترتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبیؒ کی صلیبی جنگوں کے بعد یہ سب سے بڑی فتح ہے جو مسلم اُمہ کے نصیب میں آئی ہے۔ اس وقت بھی پورا مسیحی یورپ رچرڈ شیردل (Richard the Lionheart) کی سربراہی میں مسلمانوں کے خلاف اکٹھا ہو کر آیا تھا اور صلاح الدین ایوبیؒ نے آج سے 834 سال قبل 2 اکتوبر 1187ء کو انہیں ذلت آمیز شکست دے کر امت کو ایک دفعہ جنگِ قادسیہ اور جنگِ نہاوند کی یاد دلا دی تھی۔

صلاح الدین ایوبی کی فتح صرف یروشلم کی عسکری فتح تک محدود نہ رہی، بلکہ اس کے بعد اس نے جو طرزِ عمل اپنے مخالف فوجیوں اور یروشلم میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والوں کے ساتھ اختیار کیا، اس نے دُنیا کے سامنے اسلام کی جنگی اخلاقیت کو از سر نو زندہ کر دیا۔ آج بھی صلاح الدین ایوبیؒ کی جنگی اخلاقیات کا جادو اس قدر مضبوط ہے کہ یورپ کا متعصب ترین مؤرخ بھی اس کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لئے کہ یہ اخلاقیات صلاح الدین ایوبیؒ نے کسی میگناکارٹا یا جنیوا جنگی قوانین سے نہیں سیکھی تھیں بلکہ سیدالانبیائ، رسولِ الملاحم، سیدنا و مولانا محمد مصطفی ﷺ کی سنت کا اتباع تھیں۔ رسولِ رحمتؐ کا زمانہ کہ جب دُنیا نے جنگوں کے بعد صرف فاتحین کے ظلم ہی دیکھے تھے، جلتے ہوئے گھر، اُجڑتے ہوئے کھیت اور باغات، قتل ہوتے مرد اور جنسی تشدد کے بعد بازاروں میں بکتی عورتیں دیکھی تھیں۔ ایسے میں مکہ والوں کے ذہنوں میں ایک خوف بیٹھا ہواتھا۔ اس خوفزدہ ہجوم کے سامنے جب رسول اکرممؐ نے یہ اعلان کیا "لاتثریب علیکم الیوم" (آج کے دن تم سے کچھ پوچھ گچھ نہیں ہو گی) تو کون تھا، جو اسی نبی آخر الزمانؐ کی حقانیت پر یقین نہ لاتا۔ ندامت سے جھکے سر اس اللہ کے رسول ﷺ کے دستِ مبارک پر ایک اللہ کی وحدانیت پر بیعت کر رہے تھے۔ وہ سب ایک قبائلی زندگی کے عادی تھے، ان کی رگوں میں قبائلی عصبیت رچی بسی ہوئی تھی، وہ جانتے تھے کہ جو شخص اپنے قبیلے کے مقتولوں کا انتقام نہیں لیتا، لوگ اس کی نسلوں کو صدیوں تک معاف نہیں کرتے۔ لیکن یہ تو واقعی ایک رسول ہے، عصبیتوں سے بالا تر۔

عفو و در گزر اور معافی کی جس سنت کو میرے آقاؐ نے بدترین اور متعصب قبائلی ماحول میں جاری کیا، طالبان نے اسے ایک بار پھر زندہ کیا ہے۔ لوگ اسے ایک عام سا واقعہ سمجھ رہے ہیں، انہیں اندازہ تک نہیں کہ جن لوگوں کیلئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عام معافی کا اعلان کیا ہے ان کے جرائم کس قدر خوفناک، سنگین اور ظالمانہ تھے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن کے مظالم انسانی تاریخ کے خونخوار ترین واقعات میں آتے ہیں۔ جنرل مالک اور جنرل دوستم جیسے لوگ جنہوں نے 8 ہزار طالبان کو پناہ کا دھوکہ دے کر کنٹینروں میں بند کیا اور پھر کنٹینر تپتے ہوئے ریگستان "دشتِ لیلیٰ" میں چھوڑ دیئے، جہاں وہ گرمی اور پیاس کی شدت میں شہید ہو گئے، تو انہیں ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا۔ آئرلینڈ کے ایک حریت پسند صحافی جیمی ڈوران نے بیس منٹ دورانیے کی ایک دستاویزی فلم اس واقعے پر بنائی جس کا نام تھا "Massacre: The Convoy of Death" (قتل عام: موت کا کارواں)۔ اس فلم میں مزار شریف اور شبرغاں کے قریب دو اجتماعی قبروں کو دکھایا گیا تھا جن میں تین ہزار کے قریب شہداء ابدی نیند سو رہے تھے اور ان کی انسانی باقیات باہر نظر آ رہی تھیں۔ اذیت دے کر مارنا تو معمول تھا، کوئی طالبان کا آدمی ہاتھ آ جاتا تو اس کی گردن میں زخم لگا کر اس میں پٹرول ڈال کر آگ لگا دی جاتی جس سے وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپتا اور ہجوم تالیاں بجاتا۔ خواتین کے ساتھ جو کچھ جیل میں ہوا، اس کیلئے عافیہ صدیقی کی وہ کہانی کافی ہے جو طالبان کی قید میں مسلمان ہونے والی برطانوی صحافی ایوان رڈلی نے بیان کی ہے۔

افغانستان کے چپے چپے پر موجود شہداء کی قبریں، لاپتہ افراد کی کہانیاں اور ظلم و بربریت کی داستانیں موجود ہیں۔ بیس سال یہ سب برداشت کرنا کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔ کس بلا کے یہ لوگ ہیں کہ ایسے تمام دُشمنوں کو معاف کر دیا۔ سید الانبیاء ﷺ کی عفو و درگزر کی اس سنت کو نہ صرف افغانستان کے شہریوں کیلئے زندہ کیا گیا، بلکہ وہ تمام پڑوسی ممالک جنہوں نے امریکہ اور اس کے حواریوں کا ساتھ دے کر طالبان کیخلاف جنگ میں حصہ لیا، ان تمام ممالک سے بھی یہ عظیم فرزندانِ اسلام دلوں سے بغض نکال کر ملے اور ان کے تمام اقدامات کو ان کی مخصوص "سیاسی و معاشی" مجبوری سمجھ کر ان ممالک کو معاف کر دیا۔ پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایران یہ سب بھی تو مسلمان تھے، نبی برحق کا کلمہ پڑھتے تھے۔ لیکن ان میں کون تھا جس کو اس کی سیاسی مصلحت اور معاشی مجبوری امریکہ کی چوکھٹ پر نہیں لے گئی۔ ہمارا حال تو سب سے برا تھا۔ ہم طالبان کے خلاف "فرنٹ لائن" سٹیٹ اور نان نیٹو اتحادی کہلانے پر فخر کرتے تھے۔ ہم نے ایسے 600بے گناہ لوگ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کئے جن کو بیس سال گزرنے کے بعد امریکی نظام انصاف نے بے گناہ قرار دیا۔ ہم نے انسانی تاریخ کی بدترین ذلّت اٹھائی، جب طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ ایسا تو کبھی چنگیز اور ہلاکو نے نہیں کیا تھا۔

تاجکستان، کہ جس راستے سے امریکی اور نیٹو افواج دندناتی ہوئی افغانستان میں داخل ہوئی تھیں، وہ ملک جو بیس سال طالبان مخالف ملیشیاء کا ٹھکانہ اور سہولت کار رہا ہو، ازبکستان جس کی دھرتی پر جنرل دوست اور جنرل مالک جیسے ظالم عزت سے زندگی بسر کرتے ہوں، ایران جس کے پاسداران 2018ء تک امریکیوں اور شمالی اتحاد کے شانہ بشانہ طالبان سے لڑتے رہے ہوں، ان تمام ممالک سے آج طالبان دلوں سے نفرت و کدورت دَور کئے مل رہے ہیں، دوستیاں کرتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ "ہمارا اپنے کسی پڑوسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے"۔ اتنی بڑی وسیع القلبی کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ طالبان سیدالانبیاء ﷺ کی حدیث کی روشنی میں پوری اُمت کو جسدِ واحد خیال کرتے ہیں۔ روزِ ازل سے اب تک فاتحین کی تاریخ میں "عفو و در گزر" کی اس روایت کو میرے آقا رسولِ اکرمؐ نے ایک مشعل کی طرح روشن کیا، صحابہ کرام ؓنے اسے تھامے رکھے رکھا، بعد کے ادوار میں بجھ گئی، لیکن صلاح الدین ایوبیؒ نے اسے ایک بار پھر روشن کیا، مگر یہ پھر بجھ گئی۔ اب آٹھ سو سال بعد خراسان کی سرزمین سے طالبان نے اس سنتِ رسولﷺ کی مشعل کو ایسا روشن کیا ہے کہ پورا عالم اس سے جگمگا رہا ہے۔

About Orya Maqbool Jan

Orya Maqbool Jan is a columnist, writer, poet and civil servant from Pakistan. He has written many urdu columns for various urdu-language newspapers in Pakistan. He has also served as director general to Sustainable Development of the Walled City Project in Lahore and as executive director ECO, Cultural Institute, Tehran and information secretary to the government of the Punjab.