Monday, 17 January 2022
  1.  Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Third Class Policing

Third Class Policing

یہ یکم جنوری کی رات ساڑھے دس، پونے گیارہ کا وقت تھا اور جگہ کم وبیش وہی تھی جہاں اس سے پہلے مشہور زمانہ سانحہ موٹر وے پیش آ چکا ہے، یہ سیالکوٹ موٹروے کا ٹول پلازہ تھا جس میں اب موٹرکاروں سمیت دیگر گاڑیوں کو ایکسپریس، کم بیلنس یا کیش لین کا چناؤ کرنا پڑتا ہے۔ یہاں نیلے رنگ کی ایک پرانی کار نے غالبا ًبیلنس نہ ہونے کے باوجود ایکسپریس لین کا انتخاب کیا جس پر ایل آر ڈبلیو سیون فائیو سیون نائین کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی اور نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے پیچھے گاڑیوں کی لائن لگ گئی۔

اس کار میں چار سے پانچ بدمعاش نما نوجوان سوار تھے جو شراب کے نشے میں دھت لگ رہے تھے۔ گاڑیاں پیچھے ہٹاتے ہوئے آپس میں تلخ کلامی ہوئی تو انہوں نے باقاعدہ گالم گلوچ اور غنڈہ گردی شروع کرد ی، وہ آپے سے باہر لگ رہے تھے اوران کے پاس آتشیں اسلحہ بھی نظر آ رہا تھا۔ یہ ایک خوفناک صورتحال تھی جس کوٹول پلازے کا عملہ بھی دیکھ رہا تھا مگرحیرت انگیز طور پر وہاں پولیس کا کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔

ان شرابی نوجوانوں کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں تھا اور چارہ یہی تھا کہ ون فائیو پر کال کر کے پولیس کو اطلاع دی جائے۔ یہ لوگ ہلڑ بازی کر کے کیش لین سے نکلنے کی کوشش میں تھے کہ ون فائیو پر کال کی گئی۔ اس کال کے ملنے میں دو سے تین منٹ صرف ہوئے، وہاں سے تفصیلات لی گئیں اور وہی جواب دیا گیا جو اس سے پہلے سانحہ موٹروے میں مشہور ہوچکا ہے کہ آپ نے ون فائیو پر کال کیوں کی، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں، آپ ون تھری زیرو پر کال کریں۔

ون تھری زیرو، موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن ہے۔ مجھے اس پر سابق سی سی پی او لاہور عمر شیخ یاد آ گئے جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو لکھے ہوئے خط میں نشاندہی کی تھی کہ مختلف جگہوں پر پولیس یا ایمبولینس وغیرہ کی مدد کے لئے چھ مختلف ہیلپ لائنز ہیں۔ ایک عام شہری کس طرح یاد رکھ سکتا ہے کہ وہ کس جگہ پر ہے اور کس نمبر پر اسے کال کرنی ہے۔ یاد رہے کہ چھوٹے شہروں کی رابطہ سڑکوں پر ہیلپ لائن کچھ اور ہے، ایمرجنسی وغیرہ کا کچھ اور۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ون فائیو والا ہی اس کال کو ون تھری زیرو پر ٹرانسفر کردیتا مگر ان میں ایسی کوئی کوارڈی نیشن تک موجود نہیں۔

اس کے بعد ون تھری زیرو پر کال کرنے کا کام شروع ہوا تو پہلے اس کے بے شمار آپشنز سامنے آئے، دو مرتبہ کال ڈراپ ہونے کے بعد مطلوبہ آپشن پر آپریٹر کے لئے نمبر ڈائل کیا گیا تو علم ہوا کہ کالر دسویں نمبر پر ہے جو چند منٹوں کے بعد چھٹے نمبرپر آیا اور کافی دیر تک اسی پر رہا۔ یہ کوئی بارہ سے پندرہ منٹ کا عمل تھا جس میں ون تھری زیرو کے آپریٹر سے بات کرنے میں کامیابی ہوئی اور اسے مسلح شرابی افراد کی غنڈہ گردی بارے بتایا گیا اوراس میں سے دو سے تین منٹ مزید گزر گئے۔ اس دوران وہ لوگ آسانی سے ٹول پلازہ چھوڑ کرنکل چکے تھے مگر انہیں کسی بھی ایگزٹ پر آسانی سے روکا جا سکتا تھا۔

آپریٹر نے آگے مزید کسی فیلڈ آفیسر سے کانفرنس کال ملائی اور اس نے ایک مرتبہ پھر تفصیلات پوچھیں اور یوں تین، چار منٹ مزید گزر گئے۔ اس نے فون نمبر نوٹ کیا اوربات یہ کہہ کر ختم کردی کہ پندرہ منٹ بہت ہوتے ہیں، وہ لوگ تو کہیں نکل گئے ہوں گے مگر ہم دیکھتے ہیں اگروہ نظر آئے تو ہم ان کو روک لیں گے اور پوچھ گچھ کریں گے۔ ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ بغیر اختتامی کلمات کے کال کاٹ دی گئی جس کا مطلب یہ تھا کہ ہمیں مزیدتنگ مت کرو۔

اس کے بعد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپیارٹمنٹ کی ویب سائیٹ پر جب اس گاڑی کا نمبر ڈالا گیا تو دلچسپ صورتحال سامنے آئی کہ موٹروے پر جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی اس کے باوجود دندناتی پھر رہی تھی حالانکہ ایم ٹیگ لازمی کیا جاچکا ہے۔ اس گاڑی کے نمبر کا کوئی ڈیٹاہی موجود نہیں تھا جس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ کوئی بھی جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی موٹروے استعمال کرتے ہوئے بھی کہیں بھی لے جا سکتا ہے۔

خیال یہ بھی تھا کہ ون فائیو یا ون تھری زیرو پر کال اور سروسز کی فیڈ بیک کا کوئی نظا م ہو گا جیسے شہباز شریف کے دور میں ون فائیو پر کی گئی ہر کال کے جواب میں ایک کال موصول ہوتی تھی اور اگر آپ ون فائیو کے رسپانس سے مطمئن نہیں ہوتے تھے تو اس پر فالو اپ کال بھی آتی تھی۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن، لاہور پولیس کی ہیلپ لائن سے بھی گھٹیا ہے جس میں بات کرتے ہوئے کال کاٹ دی جاتی ہے اورا س پر فیڈ بیک کا بھی کوئی سسٹم نہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پنجاب پولیس ہو یا موٹروے پولیس، اسے عوام کے ٹیکسوں کی کمائی سے اربوں روپے گاڑیوں، تنخواہوں ا ور دیگر مراعات کے لئے اس لئے نہیں دئیے جا رہے کہ وہ کام ہی نہ کریں۔

موٹروے پولیس ہمیں جی ٹی روڈ پر بالکل ہی ٹھس اورفلاپ نظر آتی ہے جہاں شہروں کے درمیان سڑک پر ہمیشہ ٹریفک بلاک رہتی ہے اور جہاں ٹرک ہمیشہ اوورٹیکنگ لین میں چلتے ہیں مگرلال نیلی بتیوں والی گاڑیوں میں بیٹھا کوئی افسر نوٹس تک نہیں لیتا۔ اگر ہم اس واقعے کو موٹروے کے سانحے سے جوڑ کر دیکھیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موٹروے پولیس کی موجودگی محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ نے کے سوا کچھ نہیں ہے، یہ محض وسائل کا ضیاع ہے۔

میں اس واقعے کے بعد اعداد و شمار دیکھ رہا تھا جن کے مطابق لاہور میں جرائم سوا لاکھ سالانہ سے گذشتہ برس کے دوران اچانک دولاکھ سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جب آپ ایک جرم کے بعد مجرم کو نہیں پکڑتے، اسے عبرت کا نشان نہیں بناتے تو درحقیقت آپ اسے دوسرے جرم کے لئے راستہ اور ہلاشیری دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ شرابی مسلح بدمعاش جب ایک جگہ مار پیٹ کرنے کے بعد آگے گئے ہوں گے اور ان کا راستہ کسی نے نہیں روکا ہو گا تو انہوں نے لازمی طور پر کوئی دوسری واردات بھی کی ہو گی کیونکہ یہاں قانون صرف شریف شہریوں کی عزت نفس کچلنے کے لئے ہے، یہ بدمعاشوں کا دوست اور سہولت کار ہے۔

اس بات کی دلیل یوں ہے کہ آج بھی عام شہری ڈاکوؤں اورپولیس اہلکاروں دیکھ کر یکساں طور پرخوفزدہ ہوتے ہیں حالانکہ پولیس کو تحفظ کی علامت ہونا چاہئے مگر یہ اس کے افسران خوداپنے تحفظ کی خاطر بڑے بڑے قلعوں میں رہتے ہیں۔ مجھے جب کبھی آئی جی یا سی سی پی او آفس جانا پڑا مجھے وہاں کے سیکورٹی انتظامات دیکھ کر حیرت ہوئی۔ پولیس والے جب خود قلعہ بند ہوں گے تو لازمی طور پر جرائم پیشہ کھلے ہوں گے۔

آپ بدمعاشوں کے خلاف شریف شہریوں کی شکایات کو جوتے کی نوک پر لکھتے رہیں تو وہ دن دور نہیں جب دو لاکھ جرائم بیس لاکھ میں تبدیل ہوجائیں گے اوراس کی بنیادی وجہ پولیس والوں کی نااہلی اور نالائقی ہوگی۔ مجھے کہنے میں عار نہیں کہ موٹروے پولیس نے جس تیزی کے ساتھ اپنے معیار کو گرایا ہے اس تیزی سے کوئی پہاڑ سے بھی نہیں گرتا۔