Nehal Hashmi Awam Ko Kese Nihal Karen Ge?
نہال ہاشمی عوام کو کیسے نہال کریں گے؟

کراچی میں ڈیڑھ سالہ قیام کے دوران میں ڈی ایچ اے سکس کلاک ٹاور کے پاس کمرشل ایریا میں مقیم رہا۔ یہ سمندر کے کنارے واقع ہے اور نسبتاً محفوظ علاقہ ہے۔ جب میں کراچی جا رہا تھا تو دوستوں نے بہت ڈرایا، لیکن سال بھر بعد تک جب موبائل سنیچ نہ ہوا میرا خوف قدرے کم ہوگیا لیکن آخری ہفتہ قیام کے دوران رات کو سمندر کنارے واک کرتے میں پھر خوف کا شکار رہا کہ کہیں بے داغ واپس جانے کا ریکارڈ نہ ٹوٹ جائے۔
کراچی قیام کے دوران ایک بڑے پراجیکٹ میں انوالو ہونے کی بدولت اس کے ٹوٹتے لرزتے، سسکتے نظام کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اہلیان کراچی پہ بہت ترس آیا واقعی مظلوم اور معصوم لوگ ہیں، ان کی اکثریت کو معلوم نہیں ادھر دور شمال میں کسی قدر مختلف انداز میں لوگ قدرے بہتر زندگی گذار رہے ہیں اور یہاں ان کا کس درجے کا استحصال ہو رہا ہے۔ مگر کراچی کے لوگ اپنی ہمہ ہمی میں مست ہیں اور اسی طرز زندگی کو انھوں نے کسی مست ملنگ کی طرح قبول کر لیا ہوا ہے۔
اس ہنگامہ روز و شب میں کراچی کی سیاست میں پھر ایک نیا تماشا سج گیا ہے۔ گورنر سندھ کی کرسی پر ایک بار پھر نیا نام آ بیٹھا ہے۔ 10 اکتوبر2022 سے اب تک تک کامران ٹیسوری اس منصب پر جلوہ افروز رہے، جن کا کمال فن ابھی تک معلوم نہیں اور اب یہ 13 مارچ کو یہ منصب نہال ہاشمی کے سپرد ہوگیا ہے جو سندھ کے پینتیسویں گورنر ہیں۔ شائید یہ دو بڑی پارٹیوں کے درمیان سیاسی ارینجمنٹ ہے یا پھر وہ جملہ ٹیسوری کو مہنگا پڑ گیا جس میں انھوں نے گورنر ہاؤس کی ایک تقریب میں کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا اظہار کیا۔ مگر بہرحال اس تبدیلی سے عوام کی فلاح کا کیا لینا دینا۔ بظاہر یہ تبدیلی ایک جمہوری عمل معلوم ہوتی ہے، مگر اگر پردہ ہٹا کر دیکھا جائے تو یہ زیادہ تر سیاسی بندر بانٹ کا ایک دلچسپ نمونہ محسوس ہوتی ہے۔ گویا اقتدار کی میز پر بیٹھے لوگ باری باری پلیٹیں بدل رہے ہیں، جبکہ عوام کو وہی خالی برتن تھما دیے گئے ہیں۔
کراچی، جو ملک کا معاشی دل کہلاتا ہے، اس کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، نالے ابل رہے ہیں، ٹریفک کا نظام بدحالی کا شکار ہے، کرپشن عروج پہ ہے اور شہری بنیادی سہولتوں کے لیے ترس رہے ہیں۔ ایسے میں گورنر کی کرسی پر کسی نئے نام کا آ جانا عوامی مسائل کے حل سے زیادہ سیاسی معاہدوں کی تکمیل کا منظر پیش کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نہال ہاشمی کون ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اس تقرری کے بعد کراچی کی تاریخ بدل جائے گی، ایک بھی سڑک بہتر ہو جائے گی یا کسی محلے کی سیوریج درست ہو جائے گی؟ اگرچہ یہ ایک آئینی عہدہ ہے، یار لوگ کہیں گے کہ گورنر کا ترقیاتی کاموں سے کیا تعلق، لیکن آئین بھی تو کہیں موجود نہیں۔ پھر نہال ہاشمی بھی تو اپنی افتتاحی تقریب میں عوام کو ترقیاتی معجزوں کی نوید بھی سنا رہے ہیں۔
ہماری جمہوریت کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں عہدے اکثر کارکردگی کی بجائے وفاداری کے صلے میں ملتے ہیں۔ نہال ہاشمی کی سب سے نمایاں سیاسی پہچان وہی پرانا واقعہ ہے جس میں انہوں نے فوج کے بارے میں سخت جملے کہے تھے۔ اس کے بعد سیاست نے کروٹ لی، وقت بدلا اور آج وہی شخصیت ایک آئینی منصب پہ فائز ہے۔
ہماری سیاسی تاریخ میں اس قسم کی "وفاداری نوازی" کی مثالیں نئی نہیں ہیں۔ ایک زمانہ وہ بھی آیا جب سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی کو گورنر سندھ بنایا گیا، حالانکہ وہ اس وقت وینٹیلیٹر پر تھے۔ بمشکل ایک ماہ ہی گورنری نبھا سکے اور پھر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ تقرری دراصل وفاداری کا وہ کلاسیکی انعام تھی جو پاکستان میں اکثر بانٹا جاتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پرانے زمانوں میں وفاداری کا صلہ اشرفیوں میں دیا جاتا تھا اور اب آئینی عہدوں کی شکل میں۔
یہ سب کچھ دیکھ کر کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم اکیسویں صدی میں کھڑے ہو کر بھی تیسری دنیا کی لولی لنگڑی جمہوریت کے کلاسیکی نمونے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں حکومتیں بنتی ہیں، معاہدے ہوتے ہیں، عہدے بانٹے جاتے ہیں، مگر عوام کی زندگی میں بہت کم تبدیلی آتی ہے۔ جمہوریت کا نام ضرور لیا جاتا ہے مگر اس کا پھل اکثر اقتدار کے ایوانوں تک ہی محدود رہتا ہے۔
کراچی کے شہری شاید اب اس حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں کہ گورنر بدلنے سے شہر نہیں بدلتے۔ شہر اس وقت بدلتے ہیں جب نظام بدلے، ترجیحات بدلیں اور اقتدار کو عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھا جائے۔ ورنہ گورنر ہاؤس کی روشنیاں جلتی رہیں گی، شہر کی سڑکیں اندھیرے میں ٹوٹتی رہیں گی، ڈاکے پڑتے رہیں گے اور طویل ساحل سمندر پہ وہی غلاظت کے ڈھیر لگے رہیں گے۔
کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ شاید وہ دن بھی آئے جب ہمارے ایوانوں میں علم، تحقیق اور سنجیدہ مکالمہ بیٹھا ہو، جیسے ہمارے پڑوسی ایران کی مجلس میں جہاں پی ایچ ڈی سے کم ڈگری والے ارکان خال خال ہی ملتے ہیں۔ فی الحال تو منظر یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں مسخرے زیادہ ہیں اور تماشا دیکھنے والے عوام انھیں ہر حال میں دیکھنے پہ مجبور ہیں کیونکہ وہ بے کس ہیں، کیا کر سکتے ہیں؟
اور ادھر نہال ہاشمی اور دیگر ایسوں کے سر پہ سجی جناح کیپ دہائی دے رہی ہے، میرا میراث کیا تھا اور میں کہاں پہنچ گئی۔ نہال ہاشمی کو تو قائد اعظم کا روپ دھار کر سٹیج پہ پہنچا دیا گیا، مگر چند کلومیٹر دور مزار قائد کے احاطے میں قائد کی روح سسک رہی ہوگی کہ میں نے سوچا کیا تھا اور میرا ملک کہاں پہنچا دیا گیا ہے۔

