Jang e Baqa Mein Kisan Kahan?
جنگِ بقا میں کسان کہاں؟

کالم نگاری کا اصول ہے کہ سچ بولنا ہی کافی نہیں، سچ کو ننگا کرنا پڑتا ہے۔ ہم ستر برس سے ایک ہی غلطی دہرا رہے ہیں۔ ہم نے سمجھا کہ بندوق سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ آج تاریخ ہمیں ایک اور موڑ پر لے آئی ہے۔ اب کھیل بدل چکا ہے۔ ریاستِ پاکستان نے بالاخر سمجھ لیا ہے کہ دشمن سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا خودکشی کے مترادف ہے۔
لیکن اس "جنگِ بقا" میں ہم اس طبقے کو بھول رہے ہیں جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور وہ ہے پاکستان کا کسان۔ ریاست اپنی رٹ بحال کر رہی ہے، "پیکا ایکٹ" کے ذریعے بیانیے کو کنٹرول کر رہی ہے، مگر کیا کبھی کسی نے سوچا کہ جس کسان کے کھیت میں گندم کی فصل پک کر تیار کھڑی ہے، اس پر کیا بیت رہی ہے؟
کسان کی کہانی سنیں گے تو کلیجہ منہ کو آئے گا۔ وہ ابھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے سنبھلا بھی نہ تھا، جس نے اس کے گھر بار، اس کی جمع پونجی اور اس کے خواب سب بہا دیے تھے۔ وہ ابھی ان ڈوبے ہوئے مکانوں کے ملبے سے باہر نہیں نکل سکا تھا کہ اس نے اپنی بقیہ زندگی داؤ پر لگا کر، لوگوں سے ادھار لے کر، سود پر رقم اٹھا کر گندم کی فصل تیار کی ہے۔ اسے امید تھی کہ اب زندگی بدل جائے گی۔ مگر اب جب گندم منڈی میں آنے کے قریب ہے، تو اسے حکومتی ایوانوں میں کوئی پلان نظر نہیں آتا۔ کسان کی آنکھوں میں امید کے بجائے صرف آنسو ہیں۔
اب گندم کی فصل کٹائی کے لیے تیار کھڑی ہے۔ چند دنوں میں یہ سونا منڈیوں کا رخ کرے گا۔ مگر کسان کے ماتھے پر پسینے کے ساتھ تشویش کے قطرے بھی ہیں۔ کسان جانتا ہے کہ جیسے ہی فصل منڈی میں پہنچے گی، آڑھتی اور ذخیرہ اندوزوں کا گٹھ جوڑ متحرک ہو جائے گا۔ کسان کو ابھی سے ڈر ہے کہ اسے "کوڑیوں کے بھاؤ" والا جھانسہ دیا جائے گا اور وہی گندم دو ماہ بعد عوام کو دگنی قیمت پر ملے گی۔
آلو کی فصل کا جو حشر ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ کسان نے جو فصل اپنی محنت سے اگائی، وہ منڈی تک پہنچتے پہنچتے اس کے لیے وبالِ جان بن گئی۔ ریٹ ایسا کہ لاگت پوری نہ ہو سکی۔ مگر اب وہی گندم جب آڑھتی کے گوداموں میں جائے گی تو "سونا" بن جائے گی اور عام آدمی کے لیے نایاب۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں کسان کو فصل آنے سے پہلے ہی استحصال کا خوف کھائے جا رہا ہے اور ذخیرہ اندوز ابھی سے اربوں کے منافع کے خواب دیکھ رہا ہے؟
یہ کیسا تضاد ہے؟ ایک طرف ریاست دہشت گردی کے خلاف نئی صف بندی کر رہی ہے، دوسری طرف وہ اپنے ہی معماروں کو "بھوک کے جہنم" میں جھونک رہی ہے۔ اگر گندم منڈی میں آنے سے پہلے حکومت نے ریٹ کا تعین نہ کیا، اگر کسان کو خریداری مراکز پر براہ راست سہولت نہ ملی، تو سیکیورٹی کی یہ ساری جنگیں کس کام کی رہ جائیں گی؟ معیشت کا پہیہ کھیت سے چلتا ہے، فیکٹریوں سے نہیں۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی طرح حکومت کو "زرعی بیسڈ آپریشنز" کی ضرورت ہے۔ گندم منڈی میں آنے سے پہلے حکومت کو کسان کے سامنے شفاف خریداری کا پلان رکھنا چاہیے۔ ریاست کا کام صرف قانون کا ڈنڈا لہرانا نہیں، بلکہ اپنے کسان کی محنت کی قیمت کا تحفظ بھی ہے۔ جس ریاست میں کسان فصل کٹنے سے پہلے ہی استحصال کے خوف میں مبتلا ہو، وہاں کا امن کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا۔
عالمی میڈیا پاکستان کی عسکری صلاحیت پر بحث کر رہا ہے، مگر کاش کوئی یہ بھی لکھے کہ یہاں کا کسان کتنا کمزور ہو چکا ہے۔ اگر ہم نے آج گندم کی فصل منڈی میں آنے سے پہلے کسان کو نہ سنبھالا، تو یاد رکھیے، کل ہمیں گندم باہر سے امپورٹ کرنی پڑے گی اور جس قوم کو اپنے کھیتوں سے اناج نہ ملے، اس کی آزادی چند دن کی مہمان ہوتی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست اپنی ترجیحات طے کرے۔ کسان کو ڈیزل دیں، اسے فصل اٹھانے کی سہولت دیں اور آڑھتی کے استحصال کا پہلے سے خاتمہ کریں۔ ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ کسان کا مستقبل بھی محفوظ ہو۔ یاد رکھیے، امن بندوق سے نہیں، پیٹ کی آگ بجھانے سے آتا ہے اور یہ بالادستی تب ہی ممکن ہے جب ریاست اپنے وقار کے ساتھ اپنے کسان کا ہاتھ بھی تھامے۔

