Mazhab Aur Jang
مذہب اور جنگ

تاریخ کے صفحات میں کبھی کبھی ایسے لمحے آتے ہیں جو ہزاروں الفاظ سے زیادہ بولتے ہیں۔ حال ہی میں دنیا نے ایک ایسا ہی لمحہ دیکھا۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں امریکی صدر Donald Trump اپنی کرسی پر بیٹھے تھے اور ان کے اردگرد چند بڑے مسیحی پادری کھڑے تھے۔ ان میں سے معروف پادری Tom Mullins نے صدر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ان کے لیے دعا کر رہے تھے۔ باقی پادری بھی ہاتھ اٹھائے دعا میں شریک تھے۔ بظاہر یہ لمحہ روحانیت کا تھا، لیکن وقت اور ماحول جنگ کا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف محاذ پر تھے اور یہ منظر صرف دعا نہیں بلکہ ایک علامت بن گیا کہ یہ جنگ سیاسی نہیں بلکہ مذہبی معنوں میں بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
امریکہ میں ایک طاقتور مذہبی حلقہ موجود ہے جسے ایوینجیلیکل عیسائی کہا جاتا ہے۔ یہ حلقہ نہ صرف امریکی سیاست میں اثر رکھتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں اسرائیل کی مضبوط حمایت کرتا ہے۔ ان کے عقائد میں بائبل کی پیشگوئیوں کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ انہی پیشگوئیوں میں آخری زمانے کی ایک عظیم جنگ کا ذکر بھی ہے جس کا حوالہ بائبل کی کتاب Book of Revelation میں ملتا ہے۔ اس جنگ کو عیسائی روایت میں Armageddon کہا جاتا ہے، جسے اردو میں عموماً هرمجدون لکھا جاتا ہے۔
عیسائی عقیدے کے مطابق دنیا کے آخری زمانے میں دنیا کی بڑی طاقتیں ایک جگہ جمع ہوں گی اور ایک عظیم جنگ شروع ہوگی۔ اس جنگ کے بعد حضرت عیسیٰ دوبارہ زمین پر آئیں گے اور برائی کی قوتوں کو شکست دیں گے۔ اسی پس منظر میں امریکی فوج کے اندر سے بعض خطوط اور شکایات بھی سامنے آئیں، جن میں بتایا گیا کہ بعض فوجی کمانڈروں نے سپاہیوں کو کہا کہ ایران کے خلاف جنگ دراصل خدا کے منصوبے کا حصہ ہو سکتی ہے اور اس کے لیے حضرت عیسیٰؑ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چنا ہے اور یہ وہی جنگ ہے جس کا ذکر بائبل میں ہرمجدون کے نام سے ہوا ہے۔
یہاں ایک اور اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی شخصیت دنیا کے تین بڑے مذاہب کے درمیان مشترک مگر متنازع موضوع ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ خدا کے بیٹے اور انسانیت کے نجات دہندہ ہیں، جنہیں صلیب پر چڑھایا گیا اور تیسرے دن دوبارہ زندہ کیا گیا۔ قیامت سے پہلے وہ دوبارہ زمین پر آئیں گے تاکہ برائی کی قوتوں کو ختم کریں۔
اسلام میں حضرت عیسیٰ اللہ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں۔ قرآن کے مطابق انہیں صلیب نہیں دی گئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور قیامت کے قریب وہ دوبارہ زمین پر آئیں گے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق وہ دجال کو قتل کریں گے اور دنیا میں عدل قائم کریں گے۔
یہودیت میں حضرت عیسیٰ کو نہ نبی مانا جاتا ہے اور نہ مسیحا۔ یہودی عقیدے کے مطابق اصل مسیحا ابھی آنا باقی ہے۔ تاہم بعض اسلامی روایات کے مطابق وہ شخصیت جسے یہودی مستقبل میں مسیحا سمجھیں گے، دراصل دجال ہوگا اور بہت سے لوگ اسے نجات دہندہ سمجھ بیٹھیں گے۔ اس نقطہ نظر سے آج کی جنگ میں دجال کے تصور اور نجات دہندہ کی مذہبی دھارائیں بھی منظر پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
تاریخ کا دلچسپ تضاد یہ ہے کہ مذہبی لحاظ سے اصل اختلاف یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں جبکہ یہودی انہیں نہیں مانتے۔ لیکن آج عالمی سیاست ایک اور منظر پیش کر رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایک مضبوط اتحاد کی صورت میں کھڑے ہیں اور اکثر عالمی فیصلوں میں ایک دوسرے کے قریب نظر آتے ہیں۔
عیسائیت دنیا کا سب سے زیادہ فرقوں والا مذہب بھی سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق عیسائیوں کے ہزاروں فرقے موجود ہیں جن کی تعداد تقریباً چالیس ہزار سے زیادہ ہے۔ ان میں تین بڑے دھڑے ہیں: کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور آرتھوڈوکس۔ ان کے اندر بھی درجنوں ذیلی فرقے موجود ہیں اور ہر فرقے کا عقیدہ اور عبادتی انداز مختلف ہے۔
اگر ہم موجودہ حالات کو قرآن مجید کے تناظر میں دیکھیں تو سورۃ المائدہ کی آیت 82 ذہن میں آتی ہے، جس میں بیان ہے: "تم یقیناً ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ایمان والوں کے ساتھ محبت میں سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، کیونکہ ان میں عالم اور درویش لوگ ہوتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے"۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دنیا کے بڑے اختلافات کے باوجود بعض حالات میں لوگ مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہو سکتے ہیں اور یہی آج کی عالمی سیاست میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اتحاد مذہبی اختلافات کے باوجود سیاسی مفادات کی واضح مثال ہے اور یہ قرآن کی بیان کردہ حقیقت کو عملی شکل دیتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف بعض طاقتیں متحد ہو سکتی ہیں۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب جنگیں مذہب کے نام پر لڑی جائیں تو وہ سب سے خطرناک ہوتی ہیں۔ سیاسی جنگ میں سمجھوتے اور مذاکرات کی گنجائش رہتی ہے، لیکن مذہبی جنگ میں فریقین اسے مقدس فرض کرتے ہیں اور کوئی سمجھوتہ قبول نہیں ہوتا۔ اس کا انجام ہمیشہ انسانی زندگیوں اور معاشروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے تجزیہ کار اور مبصرین شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ تنازعات کو بائبل کی پیشگوئیوں اور آخری زمانے کے عقائد سے جوڑنے کی کوشش خطرناک ہے۔ کیونکہ اس کا اثر صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی ذہنی فضا اور عوامی سوچ پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
دنیا آج ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد، ایران کے محاذ، مذہبی عقائد اور تاریخی تنازعات سب مل کر ایک پیچیدہ منظر پیش کر رہے ہیں۔ اس منظر میں سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جنگیں مذہب کے نام پر لڑی جائیں تو انسان کی عقل اور انصاف اکثر متاثر ہو جاتا ہے اور یہی لمحہ ہے جب دنیا کو سب سے زیادہ احتیاط اور دانش کی ضرورت ہے۔ اس وقت نہ سوچنا اور نہ سمجھنا مہلک ہو سکتا ہے، کیونکہ ہر فیصلہ تاریخ کی صفحوں پر نقش ہو جائے گا۔

