Mazdoor Marta Hai
مزدور مرتا ہے

دنیا میں جب بھی جنگ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو سب سے پہلے طاقت، حکمتِ عملی اور قومی مفادات کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر عسکری تجزیے ہوتے ہیں، سیاسی رہنما بیانات دیتے ہیں اور عالمی طاقتوں کے منصوبوں پر بحث ہونے لگتی ہے۔ لیکن ان سب شور و غل کے درمیان ایک سادہ سا سوال کہیں دب جاتا ہے: آخر اس سب کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جنگوں کے فیصلے طاقت کے ایوانوں میں ہوتے ہیں، مگر ان کا بوجھ عام انسانوں کے کندھوں پر آ گرتا ہے۔
جنگ کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا شکار ہمیشہ عام لوگ ہوتے ہیں، مزدور، محنت کش اور کم آمدنی والے خاندان۔ ہر جنگ تباہی لے کر آتی ہے۔ شہر اجڑ جاتے ہیں، روزگار ختم ہو جاتا ہے اور ہزاروں خاندان اپنے پیاروں اور اپنی سلامتی دونوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔
آج ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر دنیا کو اس حقیقت کی یاد دلا رہی ہے کہ عالمی امن کتنا نازک ہے۔ بظاہر یہ تنازع چند ممالک کے درمیان عسکری کشمکش معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران بہت جلد پوری دنیا کی معیشت اور معاشروں کو متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے۔
جیسے ہی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے، عالمی تیل کی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ تیل مہنگا ہوتا ہے، ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور اس کے اثرات چند دنوں میں دنیا کے ہر کونے تک پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت پہلے ہی مہنگائی، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی غیر یقینی کے دباؤ میں ہے۔ جب عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر پاکستان کے عوام پر پڑتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہو جاتے ہیں، نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، بجلی کی قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔
ان اعداد و شمار اور معاشی تجزیوں کے پیچھے اصل کہانی ان لوگوں کی ہے جن کی زندگی پہلے ہی مشکلات سے بھری ہوتی ہے۔ ذرا تصور کریں لاہور کا ایک صفائی کرنے والا مزدور، کراچی کا ایک ٹیکسی ڈرائیور یا اسلام آباد کا کوئی مستری یا دیہاڑی دار مزدور۔
وہ شاید عالمی سیاست اور جغرافیائی طاقتوں کی پیچیدہ بحثوں کو نہیں دیکھتے۔ لیکن جیسے ہی پٹرول مہنگا ہوتا ہے اور آٹا، سبزی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں، ان کی زندگی یکدم مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
ان کی تنخواہیں یا دیہاڑیاں تیل کی قیمتوں کے ساتھ نہیں بڑھتیں۔ عالمی کشیدگی بڑھنے سے ان کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ان کی روزمرہ کی جدوجہد مزید سخت ہو جاتی ہے۔
جنگ کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں ہوتے۔ وہ خوف اور غیر یقینی کی ایک ایسی فضا بھی پیدا کر دیتے ہیں جو لاکھوں خاندانوں کو متاثر کرتی ہے۔
جنوبی ایشیا کے لاکھوں مزدور، جن میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی ہے، خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ یہ وہ مزدور ہیں جو اپنی محنت سے کمائی ہوئی رقم پاکستان بھیج کر اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔ اگر اس خطے میں کسی بڑے تنازع کی صورتحال پیدا ہو جائے تو ان مزدوروں کی سلامتی، روزگار اور مستقبل سب خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان میں بے شمار خاندان ایسے ہیں جن کے لیے بیرونِ ملک کام کرنے والے مزدوروں کی بھیجی ہوئی رقوم ہی زندگی کا سہارا ہوتی ہیں۔ جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو ان خاندانوں کو صرف عالمی حالات کی فکر نہیں ہوتی بلکہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے بارے میں بھی شدید تشویش لاحق ہو جاتی ہے۔ اسی لیے جنگ کے بارے میں بحث کو صرف عسکری حکمتِ عملی یا سیاسی مفادات تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔
اس بحث میں ان مزدوروں، کمیونٹیز اور عام لوگوں کی آواز بھی شامل ہونی چاہیے جن کی زندگیاں ان بحرانوں سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ ٹریڈ یونینز کا پیغام اس معاملے میں ہمیشہ واضح رہا ہے: کوئی بھی سیاسی مفاد انسانی جان سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔
دنیا بھر میں مزدور تحریک نے ہمیشہ امن، انصاف اور عالمی یکجہتی کے لیے آواز بلند کی ہے۔ مزدور بخوبی جانتے ہیں کہ قوموں کے درمیان جنگ اور تصادم کا فائدہ عام لوگوں کو کبھی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جنگیں معیشتوں کو تباہ کرتی ہیں، غربت میں اضافہ کرتی ہیں اور معاشروں کے استحکام کو کمزور کر دیتی ہیں۔
محنت کشوں کی تحریک کا دیرینہ مؤقف یہ رہا ہے کہ بین الاقوامی تنازعات کو مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ تشدد اور تباہی کے ذریعے۔
مزدور شہر تعمیر کرتے ہیں، کارخانے چلاتے ہیں، سڑکیں صاف کرتے ہیں اور معیشتوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جب جنگیں شروع ہوتی ہیں تو سب سے زیادہ نقصان انہی مزدوروں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
مزدوروں کے لیے امن کوئی نظریاتی یا فلسفیانہ تصور نہیں ہے۔ امن کا مطلب ہے استحکام۔ امن کا مطلب ہے زندہ رہنے کے لیے خوراک اور امن کا مطلب ہے اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل۔

