لیڈر آف دی اپوزیشن محمود اچکزئی

پشتون رہنما محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے جس پر پاکستان تحریک انصاف خوشیاں منا رہی ہے۔ یہ ایک پرانی تنقید ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے بانی کے پاس پچیس، تیس برس کی جدوجہد کے بعد اپنا تیار کیا ہوا ایک بھی بندہ ایسانہیں تھا جسے وہ تحریک انصاف میں سے نامزد کرتے۔
یہ سوال ہم نے اس وقت بھی کیا تھا جب وہ عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا رہے تھے اور ہمارا مشورہ تھا کہ وہ یہ عہدہ حماد اظہر اور راجا یاسر سمیت کسی بھی دوسرے نوجوان کو دے سکتے تھے مگر انہوں نے بشریٰ بی بی اور فرح گوگی کی سفارش کوماننا زیادہ پسند کیا، سوال یہ بھی ہے کہ اب کس کی سفارش ہے کیونکہ محمود اچکزئی قومی حلقوں میں کئی حوالوں سے قابل اعتراض سمجھے جاتے ہیں۔
مجھ سے پی ٹی آئی کے ایک دوست نے رابطہ کیا اور اس تقرری کو سہیل آفریدی کے بعد اپنی دوسری بڑی فتح قرار دیا۔ مجھے اس پر بھی حیرت ہے کہ انہوں نے پارٹی کے چئیرمین کا عہدہ بیرسٹر گوہر کو دے رکھا ہے اور وہ رکن قومی اسمبلی بھی ہیں، کیا ان کو لیڈر آف دی اپوزیشن نہ بنانے کے پیچھے وجہ صرف یہ ہے کہ وہ ریاست کے خلاف محمود اچکزئی جیسی گفتگونہیں کرتے؟
ایک افواہ ہے کہ یہ تقرری سابق وزیراعظم، مسلم لیگ نون کے صدر میاں محمد نواز شریف کے کہنے پر ہوئی اور ظاہر ہے میاں نواز شریف نے کہا تو وزیراعظم شہباز شریف یا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق رد نہیں کرسکتے تھے مگر یہاں سوال ہے کہ میاں نواز شریف، محمود اچکزئی کو یہ اہم ترین عہدہ کیوں دلوائیں گے، کیا اس لئے کہ ایک موقعے پر وہ ان کے ساتھ تھے۔ کیا میاں نواز شریف نہیں جانتے کہ محمود اچکزئی یا ان کی صاحبزادی یعنی پوری فیملی کے پاکستان کے بارے خیالات کیا ہیں اور وہ اپنے آپ کو پاکستانی کی بجائے، پاکستان پر حملے کرنے والی سرزمین افغانستان سے زیادہ منسوب کرتے ہیں، وہ دہشت گردوں کے مقابلے میں اپنی جانوں کی قربانی دیتی ہوئی پاک فوج کو اسرائیل کی فوج کے مماثل قرار دیتے ہیں۔
کیا یہ امید لگائی جا سکتی ہے کہ قومی اسمبلی کے لیڈر آف دی اپوزیشن بننے کے بعد یعنی پاکستان کی قومی سیاست میں وزیراعظم کے بعد سب سے اہم اور بڑے عہدے پر تعینات ہونے کے بعد وہ اپنے خیالات بدل لیں گے۔ اسی خبر کا اگلا حصہ یہ ہے کہ کامران مرتضیٰ کے مطابق میاں نواز شریف کی سفارش سے اس تعیناتی کے بعد ایک وسیع تر اتحاد، کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے جو میرے لئے زیادہ حیران کن ہے کہ کیا میاں نواز شریف اپنے بھائی اور بیٹی کی حکومت کے خلاف کوئی اتحاد بنوائیں گے۔ یہ بیان بنیادی طور پر شریف فیملی کے ساتھ ساتھ سول ملٹری ریلیشن شپ میں ایک دراڑ ڈالنے کی کوشش نظر آتا ہے مگر ایسی کوششیں عشروں سے ہورہی ہیں، خیال ہے یہ بھی نہیں ہوگی۔
میرے لئے تمام پاکستانی سیاستدان اہم بھی ہیں اور محترم بھی مگروہ نہیں جو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ریاست اور عوام کے مفادات کے خلاف بات کرتے ہیں، نظریاتی گمراہیاں اور فکری مغالطے پیدا کرتے ہیں۔ ایک صحافی نے خدا کا شکرا دا کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے شاہد خٹک جیسے کسی بندے کو نامزد نہیں کر دیا مگر میراس پر کہنا تھا کہ یہ تعیناتی اس سے زیادہ خطرناک ہے۔
مذکورہ صحافی نے بحث کے دوران حوالہ دیا کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ باتیں مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی بھی کرتی رہی ہے اور میرا جواب تھاکہ ہم سب انسان ہیں، غصے اور جذبات سے مغلوب بھی ہوسکتے ہیں اوراس میں سخت بیانی بھی ہوسکتی ہے اور ایسی بات بھی جو ہماری مجموعی فطرت، حقیقی موقف اور دائمی حکمت عملی کے مطابق نہ ہو جیسے کہ میاں نواز شریف کے ساتھ ظلم کئے گئے تو انہوں نے خلائی مخلوق کے الفاظ استعمال کئے یا آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کیا مگر سب جانتے ہیں کہ یہ سیاست میاں نواز شریف کی ہے نہ ہی آصف علی زرداری کی۔
نواز شریف نے تمام تر مظالم کے بعد بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا بالکل اسی طرح جیسے آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ محمود ا چکزئی کی مستقل پالیسی اور سیاست ہی اینٹی پاکستان ہے۔ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے پاکستان کے ٹوٹنے جیسے بیانات دینے سے بھی با زنہیں آتے بلکہ معاملہ تو یہ ہے کہ وہ ہر دو ر میں اپوزیشن لیڈر کو اپنے جال میں پھانستے ہیں تاکہ اسکے ذریعے اپنی سیاست چمکا سکیں۔
اس وقت اختلافی معاملہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی کا ہے جس میں فوج کا موقف یہ ہے کہ خوارج ناقابل اصلاح ہیں، مسلسل دہشت گردی کر رہے ہیں، ان سے بات نہیں ہوسکتی مگر اس کے مقابلے میں سیاسی گروہ دہشت گردوں کو اپنے لوگ کہتا ہے، غیر قانونی مقیم افغانوں کے نکالنے کی مخالفت کرتا ہے، وہ ڈھکے چھپے الفاظ میں سمگلنگ ہی نہیں بلکہ منشیات کوبھی اپنی معیشت کہتا ہے اورافغانستان کے وارلارڈز کے سامنے سرنڈر کرنے کو کہتا ہے جو کہ پاکستان کی حکومت، فوج (یعنی مکمل اسٹیبلشمنٹ) کے لئے ناقابل قبول ہے۔
یہ پالیسی درست بھی ہے کہ ہم نے برس ہا برس ان عناصر کو راستہ دے کر دیکھ لیا، ان کے ساتھ ہر قسم کی مہربانی کرکے دیکھ لی مگر انہوں نے ہر مرتبہ سانپ کی طرح دودھ پینے کے بعد ڈسا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس سانپ کا سر کچل دیا جائے مگر کچھ لوگ اب بھی اسی سانپ کو پالینا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گرد پختونوں کی جانیں نہیں لے رہے، کیا ان کے روزگار اور کاروبار کے مواقع محدود نہیں کررہے، کیا ان کی بچیوں کی تعلیم اور بزرگوں کی صحت کے دشمن نہیں ہیں تو یہ کیسی سیاست ہے جو امن دینے والوں کی دشمن ہے اور موت دینے والوں کی سہولت کار۔
مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان، فوج کو اپنے دام میں لانے کی کوششوں میں مسلسل ناکامی اور نامرادی کے بعد اب مایوسی کی انتہا پر پہنچ چکے ہیں۔ وہ اپنے ذاتی، سیاسی مفادات اور بیماری کی حد تک سرایت کی گئی انا کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ اب ہر کارڈ کھیل رہے ہیں جو پاکستان کی ریاست، فوج اور محب وطن عوام کے لئے دشمن کی چلائی ہوئی گولی ثابت ہوسکتا ہے۔ چاہے وہ نو مئی کے حملے ہوں یا ملک کو دیوالیہ کرنے کی کال، چاہے وہ شیخ مجیب کو ہیرو قرار دینے کا فکری مغالطہ ہو یا دہشت گردوں کی وکالت کرنے کی نظریاتی گمراہی۔ کبھی ایک نظریہ تھا کہ امریکہ جو چاہے کروا سکتا ہے اور یہ بھی کہ اسٹیبلشمنٹ جو چاہے کروا سکتی ہے، کیاوہ نظریہ آج بھی موجود ہے؟
میری دُعا ہے کہ محمود اچکزئی، قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کے طور پر جو پہلی تقریر کریں اس میں وہ افغانی سے پاکستانی ہوجائیں کہ عہدہ انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ملا ہے، افغانستان کی نہیں۔

