Thursday, 04 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. Iran Ka Muqadma

Iran Ka Muqadma

ایران کا مقدمہ

یہ بھائیوں کی طرح اہم اور محترم، ایران کے قونصل جنرل مہران موحدفر کی دعوت پر ایک ملاقات تھی جس کے تاخیرسے ہونے کا میں ذمے دار بھی تھا اوراس پر شرمندہ بھی۔ وہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی گپ شپ میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے پر اپنا مقدمہ لڑ رہے تھے اور مجھے لگ رہا تھا کہ یہ میرا اپنا مقدمہ ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانیوں کی واضح اور بھاری اکثریت امریکہ، اسرائیل کی ایران سے جنگ پر کسی اگر مگر کے بغیر ایران کے ساتھ ہے اور رائے عامہ کو منظم کرنے والے بہت سارے سیاسی و سماجی دانشور اور سابق سفیر بھی۔

برادرم مہران موحدفر، امریکہ کے طالبات کے سکول پر حملے کی تفصیلات بتا رہے تھے، وہ اس کا موازنہ لاہور کے ایک زیر تعمیر سیوریج میں گر کر جاں بحق ہونے والی بچی کے ساتھ کر رہے تھے کہ ہم شہریوں نے اس پر کتنے بڑے ردعمل کا مظاہرہ کیا اور خود اس پر آبدیدہ ہوئے، ا ظہار یکجہتی کیا مگر میناب میں بچیوں کے سکول پر اس وقت امریکی اور اسرائیلی حملہ ہوا جب وہاں چھٹی ہونے والی تھی، معصوم بچیوں کے والدین انہیں لینے کے لئے سکول کے باہر موجود تھے کہ اس عمارت کو ملبے کاڈھیر بنا دیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہاں سے کسی بچی کی لاش تک نہیں ملی کیونکہ وہ حملہ اتنے خوفناک میزائلوں کے ساتھ تھا جنہوں نے ماؤں اورباپوں کے سامنے بچیوں کے جسموں کو برادہ بناتے ہوئے ملبے میں ملا دیا۔

مہران موحدفر کہہ رہے تھے کہ یہ جنگ نہ ایران کی خواہش ہے اور نہ ہی اس نے شروع کی ہے اور میں بین الاقوامی تعلقات کے معمولی طالب علم کی حیثیت سے ان سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ جب مذاکرات جاری تھے تو اس دوران امریکہ کوگفتگو کو معطل کرتے ہوئے اسرائیل کی شہہ پر حملے کا کوئی حق حاص نہیں تھا۔

میں نے برملا کہا کہ اگر اسرائیل تین سو اور بعض رپورٹس کے مطابق سات سو تک ایٹمی وار ہیڈز رکھ سکتا ہے تو پھر ایران کو بھی اپنے دفاع کے لئے ایٹمی ہتھیار رکھنے کا حق حاصل ہے، ایران کو کسی قانون کے تحت اپنے دفاع کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور اگر امریکہ نے امن کے لئے حملہ کرنا ہی ہے تو وہ ایران سے پہلے اسرائیل پر کرے جس نے غیر قانونی طور پر ایٹمی ہتھیار رکھے ہوئے ہیں اور وہ بدمعاشی کے ساتھ این پی ٹی پر دستخط سے بھی انکار کرتا ہے۔ اس کی تاریخ فلسطین میں ایسے بدترین مظالم سے بھری ہوئی ہے جس میں حال ہی میں نتن یاہونے محض دو برس میں بہتر ہزار بے گناہ فلسطینیوں کو بے دردی سے قتل کیا ہے اور ان میں بچوں کی اتنی بڑی تعداد شامل ہے کہ ان دوبرسوں میں ہر ایک گھنٹے کے بعد ایک بچہ قتل کیا جاتا رہا ہے۔ اس نے دنیا بھر میں انسانوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑا ہے۔

میں امریکہ اور یورپ میں پاکستان سے بھی زیادہ بڑے اور زیادہ جذباتی مظاہرے دیکھے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اسرائیل کی کٹھ پتلی بننے پر اپنے ملک کی تاریخ میں کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مبینہ طور پر نتن یاہو کو امریکہ کو گمراہ کرنے پر لتاڑا ہے اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی لبنان پر تازہ ترین حملوں پر اسرائیل کے قصائی کی خوب بے عزتی کی ہے۔ رپورٹ ہونے والے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسرائیل امریکہ میں کمزور ہو رہا ہے اور امریکہ بھی اس جنگ کے بعد کمزور ہوا ہے۔

میں نے برملا کہا کہ امریکہ نہ رجیم چینج کر سکا اور نہ ہی موجود رجیم کا گھٹنوں کے بل لا سکا، ا سی طرح وہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہونے کے باوجود ایران سے آبنائے ہرمز کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا، امریکہ اپنے مقاصد کے حصول میں مکمل طور پر ناکا م ہوا ہے۔

برادرم مہران موحدفر کے پاس میرے کئی کالم موجود تھے جن میں وہ بھی تھا جب ایران کی طرف سے پاکستان کی حدود میں میزائل داغے گئے اور پھر پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی ہوئی اور وہ بھی جس میں، میں نے کہا تھا کہ پاکستان ایران نہیں ہے، پاکستان اسلامی ملک ہونے کے باوجود ایٹمی طاقت بنا ہے اور اس کی سفارتکاری بھی شاندار ہے۔ ان کی طرف سے کچھ اور کالموں کے حوالے بھی تھے جن میں پاکستان کا مقدمہ لڑا گیا تھا۔ میں اس پرواضح ہوں کہ برادرم مہران موحدفر کو ایران کا اور مجھے پاکستان کا مقدمہ لڑنے کا پورا حق حاصل ہے۔

مذاکراتی عمل کے دوسرے حصے میں عدم شرکت کے شکوے پر انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد مذاکرات ایران نے نہیں بلکہ امریکہ نے ناکام کئے۔ پہلے مرحلے میں ایرانی وفد ستر ارکان پر مشتمل تھا اور جبکہ امریکی چند ہی تھے اور اگلی صبح جے ڈی وینس نے اچانک واپس جانے کا اعلان کر دیا جو ان کے مطابق پاکستانی حکام کے لئے بھی حیرانی کا باعث بنا اور یوں یہ مذاکراتی عمل اسرائیلی مفاد میں تباہ کیا گیا۔ میں نے ان سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا کہ مجھے آپ لوگوں کی بہادری نے بہت متاثر کیا ہے مگر اس کے باوجود میں ایران کو افغانستان بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا، اسی بہادری کے پروپیگنڈے نے افغانستان کو کھنڈر بنا دیا، میں ایران کی تاریخ، ثقافت ہی نہیں ایرانیوں کی شاندار پرسنالیٹیز کا بھی فین ہوں، میری نظر میں یہی دوستی ہے کہ دوست کو زندہ، ہنستا کھیلتا اور ترقی کرتا دیکھ کر خوش ہوں نہ کہ اس کی بربادی کی راہ ہموار کروں۔

میں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ایران پر تجارتی پابندیاں ختم ہوں اس سے ایران کی معیشت راکٹ کی طرح اوپر جائے گی اور ایرا نی نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں، انٹرنیشنل بینکنگ سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد، بڑے مواقع ملیں گے۔ میں اپنے بچوں کی طرح اپنے دوست کے بچوں کو بھی مرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا اور شائد یہی سب کچھ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی چاہتے ہیں۔ برادرم مہران موحدفر نے اس موقعے پر پاکستان کے عوام اور قیادت کی بہت تعریف کی جس نے مجھے دل سے خوش کیا۔

میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ میں ایران کے مسلم خلیجی ممالک باالخصوص سعودی عرب کے ساتھ بہترین تعلقات دیکھنا چاہتا ہوں، جو تعلقات ایران اور سعودی عرب کے اس صدی کے دوسرے عشرے میں رہے وہ میرے لئے خوش کن نہیں ہیں مگر اس پر میرے ایرانی سفارتکار بھائی کی رائے مجھ سے مختلف تھی۔ وہ کہہ رہے تھے، یہ بات درست نہیں کہ ان ملکوں سے ایران پر حملے نہیں کئے گئے، انہوں نے امریکہ کو اڈے دے رکھے ہیں اور ان اڈوں پر خود ان ملکوں کے عوام کی رسائی نہیں ہے۔ وہ بہت سارے تاریخی واقعات اور اعلانات کا حوالہ دے رہے تھے کہ ایران نے ان ممالک کے ساتھ کس طرح ان کے مشکل ادوار میں ان کا ساتھ دیا مگر وہ ایران کے دشمن کے اتحادی بن گئے۔ ان ممالک کو ایران پر مسلط جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ دینا ہوگا۔ مجھے ان کا یہ فقرہ بھلا لگا کہ ایران اسرائیل کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے بنیادی طور پر انہی خلیجی ممالک کی جنگ لڑ رہا ہے جن کے ساتھ اس کی سرحدیں بھی ملتی ہیں اور وہ گریٹر اسرائیل کا خواب بھی دیکھ رہا ہے۔

خشک میوہ جات کے ساتھ ایرانی قہوے پر یہ ملاقات بہت شاندار تھی، ہو سکتا ہے کچھ معاملات پر رائے الگ رہی ہو مگر میں نے محسوس کیا کہ ہمارے ہاتھ اور سینے ہی نہیں دل بھی ملے ہوئے تھے۔

Check Also

Deeni Madaris Aur Niju Schools: Asatza Ka Muashi Istehsal

By Abid Mehmood Azaam