Tuesday, 31 March 2026
  1.  Home
  2. Muhammad Irfan Nadeem
  3. Iqtidar Ka Nasha

Iqtidar Ka Nasha

اقتدار کا نشہ

نکو لائی بلگانن سوویت یونین کے وزیر اعظم تھے، وہ 1955 سے 1958 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1957 میں سوویت یونین کی تاریخ میں ایک عجیب سیاسی لطیفے نے جنم لیا اور بعد ازاں یہ سیاسی لطیفہ اقتدار پرستی کی بہترین مثال ٹھہرا۔ نکولائی بلگانن وزیر اعظم تھے اور اس دور میں سوویت یونین میں کمیونسٹ پارٹی کا سیکرٹری جنرل وزیر اعظم کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ 1957 میں خروشچیف کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے اور کمیونسٹ پارٹی نے بلگانن کی وزارت عظمیٰ کے دوران ہی خروشچیف کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کر دیا جس کے بعد سوویت یونین میں دلچسپ سیاسی صورت حال پیدا ہوگئی۔

آئین اور قانون کے مطابق بلگانن وزیر اعظم تھے جبکہ خروشچیف کو بھی مستقبل کے وزیر اعظم کی حیثیت حاصل تھی۔ اب ملک میں دونوں وزیر اعظموں کے احکامات جاری ہونے لگے۔ پوری اسٹیبلشمنٹ کنفیوژن کا شکار ہوگئی اور اس کے پاس دونوں حکمرانوں کے احکامات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

1958 میں اس وقت صورتحال مزید دلچسپ ہوگئی جب دونوں وزےر اعظموں نے ایک ہی دفتر میں بیٹھنا شروع کر دیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ کس کے احکامات مانے جائیں اور کس کے نہیں، کس کو پروٹوکول اور گارڈآف آنر پیش کیا جائے اور کس کو نہیں۔ سوویت یونین کی بیورو کریسی نے اس کا حل یہ نکالا دونوں کو وزیر اعظم کا پروٹوکول دینا شروع کر دیا۔ دونوں کی گاڑیاں ساتھ ساتھ چلنے لگی اور دونوں کو گارڈ آف آنر پیش کیا جانے لگا۔ دونوں کو ایک ہی لنچ اور ڈنر سرو کیا جانے لگا اور دونوں ایک ہی وقت میں وزیر اعظم ہاؤس سے باہر نکلتے۔ ان مسائل کے بعد بڑا مسئلہ سفارتی دنیا کا تھا۔

روس کا دورہ کرنے والے سربراہان اور روس میں متعین سفیروں کو عجیب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ کوئی معاہدہ بلگانن سے کرتے تو خروشچیف اقتدار میں آتے ہی اسے منسوخ کر دیتے اور اگر خروشچیف کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتے تو آئینی طور پر وزیر اعظم کا قلمدان بلگانن کے پاس تھا۔ دنیا نے اس کا حل یہ نکالا کہ چھ ماہ کے لیے سفارتی ملاقاتیں بند کر دیں اور روس میں متعین تمام سفیر چھٹیوں پے چلے گئے۔ 27 مارچ 1958 کو بلگانن کی حکومت ختم ہوئی تو سوویت یونین کا یہ جھگڑا ختم ہوا اور دنیا کے روس کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔

اقتدار پرستی وہ موذی مرض ہے جس نے رومن ایمپائر سے لے کر مغلیہ سلطنت تک کسی کو نہیں چھوڑا۔ قدرت جب کسی قوم سے انتقام لیتی ہے تو اقتدار پرست حکمران اس پر مسلط کر دیتی ہے جو انصاف، میرٹ اور انسانیت کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ رومن ایمپائر دنیا کی واحد سلطنت تھی جس نے آج سے ہزاروں سال پہلے حیران کن ترقی کی تھی۔

روم واحد شہر تھا جس کی آبادی دس لاکھ تک پہنچ چکی تھی مگر جب وہاں اقتدار پرستی کی ملکہ داخل ہوئی تو روم کی تنزلی کا سورج بلند ہونے لگا، سکندر اعظم یونان سے نکلا اور آدھی دنیا پے چھا گیا مگر اس کی یہ فتوحات اس کے اقتدار پرست جانشینوں کے سبب اپنی جغرافیائی حیثیت بھی برقرار نہ رکھ سکیں، قیصر روم بھی دنیا کا عظیم حکمران رہا، کسریٰ کے سامنے بھی دنیا ہاتھ باندھے کھڑی رہی، چنگیز اور ہلاکو خان بھی دنیا میں حکمرانی کے مزے لوٹتے رہے اور برصغیر میں مغلیہ خاندان بھی ایک ہزار سال تک حکمرانی کے جھولے میں جھولتا رہا مگر ان تمام سلطنتوں میں جب اقتدار پرست حکمران داخل ہوئے تو رومن ایمپائر کا وجود لرزنے لگا، کسریٰ کے پاؤں لرزنے لگے، سکندر اعظم کی عظمت کے نشان خاک میں مل گئے، ہلاکو اور چنگیز خان تاریخ کے صفحات تک سمٹ کے رہ گئے اور آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر نے رنگون کے قید خانے میں خود کو کوستے ہوئے "کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے" جیسی بے بسی، بے کسی اور ندامت سے بھرپور شاعری کرتے ہوئے عمر گزار دی۔

امیر تیمور نے پچاس سے زائد ملکوں پر حکومت کی مگر جب اقتدار پرستی تیمور کی سلطنت میں داخل ہوئی تو اس کی سلطنت کا سورج غروب ہونے لگا، اندلس پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکومت کی اور اس وقت جب یورپ کے بازاروں اور گلی کوچوں میں فٹ فٹ پانی کھڑا ہوتا تھا قرطبہ اور غرناطہ میں زندگی پورے جوبن پر تھی، دنیا بھر کے سیاح اندلس جاتے اور وہاں سے تہذیب، ثقافت، طرز زندگی اور حکمرانی کے اصول سیکھ کر آتے تھے مگر جب اقتدار پرستی اندلس کے ایوانوں میں داخل ہوئی تو ابو عبداللہ عورتوں کی طرح آنسو بہاتا ہوا اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہوا اور ملکہ ازابیلا اور بادشاہ فرڈینیڈ سے زندگی کی بھیک مانگتا ہوا گمنام تاریخ کا حصہ بن گیا۔

دنیا بھر کے حکمرانوں میں یہ مرض عام ہے کہ وہ خود کو "ناگزیر" سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ سوچتے ہیں جس دن ہم اقتدار سے الگ ہوں گے اس دن ہمارا ملک اور ہماری قوم تباہ ہو جائیں گے اور ان کا یہی خبط ان کی اقتدار پرستی کا سبب بن جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فیڈل کاسترو 49 سال سے اس خبط میں مبتلا ہے، چینگ کائی شیک 46 سال اس خبط میں مبتلا رہا، کم ال سنگھ 45 سال اس خبط میں مبتلا رہا، عمر بونگو 41 سال اس خبط میں مبتلا رہا، معمر قذافی 41 سال اس خبط میں مبتلا رہا، اینور ہوکسا 40 سال اس خبط میں مبتلا رہا، خلیفہ بن سلیمان 39 سال اس خبط میں مبتلا رہا، جوسب ٹیٹو 36 سال اس خبط میں مبتلا رہا، پال بیا 35 سال اس خبط میں مبتلا رہا، علی عبداللہ صالح 32 سال اس خبط میں مبتلا رہا، یماجین 32 سال اس خبط میں مبتلا رہا، حبیب البورقیا 31 سال اس خبط میں مبتلا رہا، لی کوان 31 سال اس خبط میں مبتلا رہا، سورہارتو بھی 31 سال اس خبط میں مبتلا رہا، جوزف سٹالن 30 سال اس خبط میں مبتلا رہا، رابرٹ موگابے، عبدو دیوف اور مامون عبدالقیوم بھی 30 سال اس خبط میں مبتلا رہے، حسنی مبارک 29 سال اس خبط میں مبتلا رہا۔

ایوب، ضیا اور مشرف بھی دس دس سال اس خبط میں مبتلا رہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ سکندر اعظم کے دنیا سے جانے کے بعد کسی نے خود کشی نہیں کی، ہلاکو اور چنگیز کی موت کے بعد بھی دنیا قائم ہے، چینگ کائی شیک کے اقتدار سے علیحدہ ہونے پر کسی نے آنسو نہیں بہائے، کم ال سنگھ کی حکومت ختم ہونے پر کوئی آفت نازل نہیں ہوئی، عمر بونگو کا اقتدار ختم ہونے پر قدرت نے کبھی احتجاج نہیں کیا، قذافی کی موت کے باوجود سورج طلوع ہو رہا ہے، اینور ہو کسا کا اقتدار ختم ہونے کے باوجود چاند روشنیاں بکھیر رہا ہے، علی عبداللہ صالح کا اقتدار ختم ہونے کے باوجود دن اور رات باری باری آ جا رہے ہیں، عبدو دیوف، مامون عبدالقیوم اور حسنی مبارک کا اقتدار ختم ہونے کے باوجود کوئی طوفان نہیں آیا، ایوب اور ضیا کا اقتدار ختم ہونے کے باوجود پاکستان قائم ہے اور مشرف کی اقتدار سے علیحدگی کے باوجود دنیا چلتی رہی۔

قدرت کا ایک اصول ہے وہ ہر حکمران کو نیک نامی اور بدنامی کے یکساں مواقع دیتی ہے۔ جو حکمران انصاف، میرٹ، قانون اور انسانیت کی خدمت کرتے ہیں قدرت انہیں ایک سو ایک نمبروں سے پاس کر دیتی ہے اور ان کے نام کو تاریخ کا حصہ بنا دیتی ہے اور جو حکمران اقتدارکے نشے میں مدہوش رہتے ہیں قدرت انہیں لوہے کے پنجروں میں بند کرکے کورٹ میں لاتی ہے اور پھر انہیں دفن کے لیے اپنے وطن کی مٹی تک نصیب نہیں ہوتی۔

Check Also

Jadeed Urdu Nazm Mein Nasri Nazm Ki Surat e Haal

By Dr. Uzma Noreen