دینی امور، سوشل میڈیا اور سنت نبوی
دور جدید کے انسان کے لیے یہ بات حیران کن ہو سکتی ہے کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب شعر محض ادبی ذوق کی تسکین کا ذریعہ نہیں ہوتا تھا بلکہ وہی میڈیا، وہی خبر رساں ادارہ، وہی رائے عامہ بنانے والا پلیٹ فارم اور وہی سیاسی و سماجی جنگ کا سب سے موثر ہتھیار ہوا کرتا تھا۔ عرب معاشرے میں شاعر اپنے قبیلے کا ترجمان سمجھا جاتا تھا۔ اس کے اشعار قبیلے کی عزت کو بڑھاتے تھے اور دشمن کی ساکھ کو نقصان بھی پہنچاتے تھے۔ کسی کی تعریف کرنی ہو یا مذمت، کسی نظریے کو پھیلانا ہو یا کسی پروپیگنڈے کا جواب دینا ہو، شعر سب سے طاقتور ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
نبی کریمﷺ نے شعر کو مکمل طور پر رد نہیں فرمایا بلکہ فرمایا بعض اشعار جادوئی اثر رکھتے ہیں۔ آپ نے شعر کو حق کے اظہار، پروپیگنڈہ کا جواب اور دعوت وتبلیغ کے ابلاغ لیے استعمال کیا، مثلاً جب قریش مکہ اسلام کے خلاف زبانی حملے کرتے تھے، مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور آپﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے تھے تو آپﷺ نے صحابی رسول حسان بن ثابتؓ کو ان کا جواب دینے کی ترغیب دی تھی، آپﷺ نے فرمایا: "حسان قریش کی ہجو کرو، جبرئیل تمہارے ساتھ ہیں۔ " اسلام نے ذرائع کو نہیں بلکہ ان کے استعمال کو موضوع بنایا ہے۔ اگر کوئی ذریعہ باطل کے فروغ کے لیے استعمال ہو رہا ہے تو اہلِ حق کو اس میدان سے فرار اختیار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسی میدان میں اتر کر حق کی آواز بلند کرنی چاہیے۔ یہی اصول آج کے دور میں سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
اگر ساتویں صدی کا عرب شعر کے ذریعے متاثر ہوتا تھا تو اکیسویں صدی کا انسان سوشل میڈیا کے ذریعے متاثر ہوتا ہے۔ آج ایک ٹویٹ، ایک فیس بک پوسٹ، ایک یوٹیوب ویڈیو یا ایک ٹک ٹاک کلپ چند گھنٹوں میں کروڑوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ آج کا نوجوان اخبار کم پڑھتا ہے لیکن موبائل زیادہ استعمال کرتا ہے۔ وہ مدرسہ یا مسجد میں صرف ایک گھنٹہ گزارتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر کئی کئی گھنٹے صرف کر دیتا ہے۔ اس کی سوچ، ترجیحات، پسند، ناپسند اور طرزِ زندگی پر سب سے زیادہ اثر اب سوشل میڈیا کا ہے۔ عالمی سطح پر مختلف تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق دنیا میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد پانچ ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں بھی کروڑوں افراد روزانہ فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ کئی گھنٹے صرف سوشل میڈیا پر گزارتی
ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج اگر کسی شخص کو عوام تک پہنچنا ہے تو اسے اسی میدان میں آنا ہوگا جہاں عوام موجود ہیں۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کا ایک بڑا حصہ اخلاقی انحطاط، جھوٹ، فحاشی، کردار کشی اور سطحی تفریح سے بھرا ہوا ہے۔ جھوٹی خبریں چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ بے بنیاد افواہیں معاشرے میں انتشار پیدا کرتی ہیں۔ فحش مواد نوجوان نسل کے اخلاقی شعور کو متاثر کر رہا ہے۔ غیر سنجیدہ مواد لوگوں کی علمی صلاحیتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ مذہب کا مذاق اڑانے والے کلپس منٹوں میں وائرل ہوتے ہیں اور قومی و دینی اقدار کا تمسخر اڑانے والے افراد شہرت کی بلندیوں کو پہنچے ہوئے ہیں۔ فضول اور بے مقصد ویڈیوز چند منٹ میں لاکھوں کروڑوں ویوز حاصل کر لیتی ہیں۔
یہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ کیا دینی طبقہ سوشل میڈیا کو مکمل طور پر چھوڑ دے؟ کیا مساجد، مدارس اور دینی جماعتیں صرف روایتی ذرائع پر اکتفا کریں؟ اگر ایسا کیا گیا تو پھر میدان یکطرفہ طور پر انہی لوگوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا جو معاشرے کو کسی اور سمت لے جانا چاہتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اہلِ حق نے کبھی میدان خالی نہیں چھوڑا۔ جب شعر کا دور تھا تو شعر کے ذریعے جواب دیا گیا۔ جب خط و کتابت کا دور آیا تو خطوط لکھے گئے۔ جب طباعت کا زمانہ آیا تو اخبارات اور رسائل نکالے گئے۔ جب ریڈیو اور ٹی وی آئے تو ان ذرائع کو بھی دعوت و اصلاح کےلئے استعمال کیا گیا۔ آج اگر سوشل میڈیا رائے عامہ بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے تو دینی طبقات کو بھی اس میدان میں بھرپور موجودگی دکھانی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج ہر نوجوان کے ہاتھ میں موبائل ہے۔ اگر داعی وہاں موجود نہیں ہوگا تو کوئی اور ہوگا۔ اگر حق کی آواز وہاں نہیں پہنچے گی تو باطل کی آواز ضرور پہنچے گی۔ ہمارے بہت سے مدارس، مساجد اور دینی تنظیمیں ابھی تک سوشل میڈیا کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھ سکیں۔ بعض اوقات سوشل میڈیا کو صرف تفریح یا وقت کے ضیاع کا ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اس کے نقصانات بہت ہیں، لیکن یہی بات شعر کے بارے میں بھی کہی جا سکتی تھی۔ شعر بھی جھوٹ، فحاشی اور گمراہی کےلئے استعمال ہوتا تھا مگر رسول اللہﷺ نے اسے خیر کےلئے استعمال کیا۔
سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ بُرا۔ اس کی اچھائی یا بُرائی اس کے استعمال پر منحصر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی ادارے جدید میڈیا ٹیمیں تشکیل دیں، نوجوانوں کو تربیت دیں، معیاری ویڈیوز تیار کریں، مختصر اور موثر پیغامات عام کریں اور عصر حاضر کی زبان میں دین کو لوگوں تک پہنچائیں۔ آج کا نوجوان مختصر ویڈیوز دیکھتا ہے۔ وہ طویل تقاریر سے زیادہ مختصر، جامع اور بصری انداز میں پیش کی گئی بات کو پسند کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین کو سطحی بنا دیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کو موثر انداز میں پیش کیا جائے۔ ایک منٹ کی اچھی ویڈیو کبھی کبھی ایک گھنٹے کی تقریر سے زیادہ اثر چھوڑ سکتی ہے۔
ایک موثر گرافک، ایک مختصر تحریر یا ایک معلوماتی کلپ لاکھوں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔ اس میدان میں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو دینی فہم بھی رکھتے ہوں اور جدید میڈیا کی زبان بھی جانتے ہوں۔ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت، مختصر ویڈیوز اور ڈیجیٹل میڈیا کا اثر مزید بڑھے گا۔ نئی نسل کی بڑی تعداد اپنی معلومات انٹرنیٹ سے حاصل کرے گی۔ ایسے میں اگر دینی طبقہ اس میدان میں موثر کردار ادا نہیں کرتا تو ایک بڑا خلا پیدا ہو جائے گا۔ یہ وقت شکایت کرنے کا نہیں بلکہ حکمتِ عملی اپنانے کا ہے۔ علماءکو جدید ابلاغی مہارتیں سیکھنی چاہئیں۔ دینی جماعتوں کو ڈیجیٹل دعوت کے باقاعدہ منصوبے بنانے چاہئیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نوجوانوں کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ سوشل میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے۔
رسول اللہﷺ کے دور میں شعر ایک طاقتور میڈیا تھا، شعر کا ایک بڑا حصہ اگرچہ گمراہی، مبالغہ اور اخلاقی خرابیوں پر مشتمل تھا لیکن اس کے باوجود آپﷺ نے اس میدان کوخالی چھوڑنے کے بجائے اسے حق کے لیے استعمال کیا۔ حضرت حسان بن ثابتؓ جیسے شعراءنے اسلام کا دفاع کیا اور باطل پروپیگنڈے کا جواب دیا۔ آج سوشل میڈیا وہی کردار ادا کر رہا ہے جو اس زمانے میں شعر ادا کرتا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اُس وقت ایک شعر سیکڑوں لوگوں تک پہنچتا تھا، آج ایک ویڈیو کروڑوں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔
اس لیے دینی اداروں، جماعتوں، علماءاور باشعور نوجوانوں کو سوشل میڈیا سے فرار اختیار کرنے کے بجائے اسے دعوت، اصلاح، تعلیم اور دفاعِ اسلام کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اگر باطل اپنے نظریات کو جدید ذرائع کے ذریعے پھیلا سکتا ہے تو حق کے علمبرداروں کو بھی انہی ذرائع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ میدان کو خالی چھوڑ دینا دانشمندی نہیں۔ اصل دانائی اور حکمت یہ ہے کہ جدید ذرائع کو اخلاق، علم، سچائی اور دین کی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے یہی سیرتِ نبویﷺ کا سبق ہے اور یہی عصر حاضر کی اہم ضرورت۔
بشکریہ: نئی بات
