The Great Gatsby
دا گریٹ گیٹسبی

دنیا کی تاریخ میں ایسے بہت سے معاشرے گزرے ہیں جو غربت کی وجہ سے تباہ ہوئے، لیکن اس سے کہیں کم لوگ اس حقیقت پر غور کرتے ہیں کہ بعض معاشرے دولت کی فراوانی سے بھی برباد ہو جاتے ہیں۔ غربت انسان سے روٹی چھین لیتی ہے، لیکن بے لگام دولت بعض اوقات انسان سے اس کی روح چھین لیتی ہے۔ جب کامیابی کا پیمانہ صرف دولت، شہرت، بنگلے، گاڑیاں اور ظاہری شان و شوکت بن جائے تو پھر اخلاق، محبت، وفاداری، دیانت اور انسانیت رفتہ رفتہ زندگی سے رخصت ہونے لگتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک قوم باہر سے خوشحال اور اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ یہی سوال ایک عظیم امریکی ناول نے تقریباً ایک صدی پہلے اٹھایا تھا۔ اس ناول کا نام "دا گریٹ گیٹسبی" ہے اور اس کے مصنف "ایف۔ سکاٹ فٹزجیرالڈ" ہیں۔ یہ بظاہر ایک دولت مند آدمی کی داستان ہے، مگر حقیقت میں ایک پوری تہذیب کے خواب، اس کی کمزوریوں اور اس کے اخلاقی زوال کی کہانی ہے۔
پہلی عالمی جنگ کے بعد امریکا میں خوشحالی کی ایک غیر معمولی لہر آئی۔ صنعتیں ترقی کر رہی تھیں، کاروبار بڑھ رہے تھے، دولت تیزی سے پیدا ہو رہی تھی اور ہر شخص یہ یقین کرنے لگا تھا کہ اگر وہ زیادہ سے زیادہ دولت کما لے تو زندگی کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ یہی وہ تصور تھا جسے بعد میں امریکی خواب کا نام دیا گیا۔ لیکن "ایف۔ سکاٹ فٹزجیرالڈ" نے اس خواب کے اندر چھپی ہوئی خاموش تباہی کو دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ جب کامیابی کا مطلب صرف دولت رہ جائے تو انسان خود بھی ایک جنس بن جاتا ہے۔ تعلقات خریدے اور بیچے جانے لگتے ہیں، محبت مفاد میں بدل جاتی ہے، دوستی ضرورت کا دوسرا نام بن جاتی ہے اور عزت کا معیار کردار نہیں بلکہ دولت قرار پاتی ہے۔ "دا گریٹ گیٹسبی" اسی تلخ حقیقت کا ادبی اظہار ہے۔
اس ناول کا مرکزی کردار بے پناہ دولت حاصل کر لیتا ہے۔ اس کی محفلوں میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں، اس کے محل نما گھر میں ہر رات جشن برپا رہتا ہے، اس کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جسے دنیا کامیابی کہتی ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے اندر ایک ایسی تنہائی بسی ہوئی ہے جسے دنیا کی کوئی دولت دور نہیں کر سکتی۔ یہی اس ناول کا سب سے بڑا پیغام ہے۔ انسان کے پاس اگر محبت نہ ہو، اعتماد نہ ہو، سچائی نہ ہو اور مقصد نہ ہو تو دولت اسے آسائش تو دے سکتی ہے، سکون نہیں دے سکتی۔ یہ وہ سبق ہے جو ہر دور کے انسان کو سیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ زمانے بدل جاتے ہیں مگر انسانی خواہشیں نہیں بدلتیں۔
"دا گریٹ گیٹسبی" کی عظمت اس میں نہیں کہ اس نے دولت کی مخالفت کی، بلکہ اس میں ہے کہ اس نے دولت کی پرستش کی مخالفت کی۔ اسلام بھی رزق کمانے سے منع نہیں کرتا بلکہ اسے عبادت قرار دیتا ہے، لیکن وہ دولت کو انسان کا آقا نہیں بننے دیتا۔ یہی فرق "ایف۔ سکاٹ فٹزجیرالڈ" نے اپنی کہانی میں نہایت باریک بینی سے واضح کیا۔ جب دولت ایک ذریعہ رہتی ہے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے، لیکن جب وہ مقصد بن جاتی ہے تو انسان اپنی اصل منزل کھو دیتا ہے۔ ناول کے کردار اسی گمشدہ منزل کی تلاش میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ وہ جتنا زیادہ حاصل کرتے ہیں، اتنا ہی زیادہ خالی ہوتے جاتے ہیں۔ ان کے گھروں میں روشنی بہت ہے مگر دلوں میں اندھیرا اس سے بھی زیادہ ہے۔
یہ ناول ہمیں اپنے معاشرے کے آئینے میں بھی جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ آج ہمارے ہاں بھی کامیابی کا معیار بدلتا جا رہا ہے۔ ہم کسی شخص کے کردار سے پہلے اس کی گاڑی دیکھتے ہیں، اس کی دیانت سے پہلے اس کا گھر، اس کے علم سے پہلے اس کی دولت اور اس کی خدمت سے پہلے اس کا بینک کھاتہ۔ بچوں کو بھی یہ سکھایا جا رہا ہے کہ ہر قیمت پر امیر بنو، لیکن یہ کم ہی بتایا جاتا ہے کہ اچھا انسان بھی بننا ہے۔ یہی سوچ معاشروں کو آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب دولت عزت کا واحد معیار بن جائے تو پھر جھوٹ، دھوکا، بدعنوانی، سفارش اور ناجائز ذرائع بھی قابلِ قبول محسوس ہونے لگتے ہیں، کیونکہ مقصد صرف کامیابی رہ جاتا ہے، اس کے حصول کا راستہ نہیں۔ "دا گریٹ گیٹسبی" اسی اخلاقی بیماری کی تشخیص کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فکشن اپنی اصل طاقت دکھاتا ہے۔ اگر کوئی ماہر معاشیات یہ لکھتا کہ سرمایہ پرستی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے تو شاید چند لوگ اس کی کتاب پڑھتے اور بھول جاتے، لیکن ایک ناول نے یہی بات اس انداز میں کہی کہ تقریباً ایک صدی گزرنے کے باوجود اس کی معنویت کم نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اعداد و شمار سے کم اور کرداروں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ایک زندہ کردار ہماری یادداشت میں اس لیے زندہ رہتا ہے کہ ہم اس میں اپنا عکس دیکھ لیتے ہیں۔ عظیم ناول انسان کو دوسروں کی کہانی نہیں سناتے بلکہ اس کی اپنی کہانی اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادب دل کے راستے ذہن تک پہنچتا ہے، جبکہ اکثر علمی کتابیں ذہن سے دل تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہیں۔
ابتدا میں اس ناول کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کا وہ مستحق تھا۔ بہت سے لوگوں نے اسے محض ایک رومانوی داستان سمجھ کر نظر انداز کر دیا، لیکن وقت سب سے بڑا نقاد ہوتا ہے۔ چند دہائیوں بعد دنیا نے محسوس کیا کہ یہ ناول دراصل ایک عہد کی اخلاقی سرگزشت ہے۔ آج یہ امریکا کے تقریباً ہر بڑے تعلیمی ادارے میں پڑھایا جاتا ہے، اس پر تحقیق ہوتی ہے، اس پر فلمیں بنتی ہیں اور ہر نئی نسل اس میں اپنے زمانے کا عکس تلاش کرتی ہے۔ یہی کسی بڑے ادب کی پہچان ہے کہ وہ اپنے عہد تک محدود نہیں رہتا بلکہ آنے والی نسلوں سے بھی گفتگو کرتا رہتا ہے۔
"دا گریٹ گیٹسبی" ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قوموں کی اصل دولت ان کے کردار ہوتے ہیں، ان کے خزانے نہیں، ان کی دیانت ہوتی ہے، ان کی دولت نہیں، ان کے اصول ہوتے ہیں، ان کی عمارتیں نہیں۔ جب قومیں اس ترتیب کو الٹ دیتی ہیں تو ان کے شہر ضرور آباد رہتے ہیں مگر ان کے دل ویران ہو جاتے ہیں۔ "ایف۔ سکاٹ فٹزجیرالڈ" نے ایک انسان کی کہانی لکھتے لکھتے پوری تہذیب کا مقدمہ قلم بند کر دیا۔ یہی عظیم فکشن کی معراج ہے۔ وہ محض وقت نہیں گزارتا، وقت کا احتساب کرتا ہے، وہ صرف کہانی نہیں سناتا، انسان کو اس کے باطن سے ملواتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ "دا گریٹ گیٹسبی" آج بھی زندہ ہے، کیونکہ دولت کی چمک کبھی پرانی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس چمک کے پیچھے چھپی ہوئی تنہائی۔

