کب تلک دنیا انسانی قتل گاہ بنے گی

حالیہ سیز فائر سے پورے عالم نے سکھ کا سانس لیا ہے، گمان غالب ہے کہ اب مذاکرت کا اونٹ کسی کروٹ ضرور بیٹھ جائے گا، اس جنگ کے شر سے یہ خیر تو برآمد ہوا ہے کہ نیٹو ممالک نے انکل سام کی آواز پر لبیک نہیں کہا ہے اس سے یہ امید تو پیدا ہوئی، کہ آئندہ کسی بھی ملک پر یلغار کرنے سے پہلے غور وخوض کیا جائے گا۔
حالیہ جنگ کن مقاصد کے لئے لڑی جارہی ہے، لڑے والوں کو بھی شائد اس کا علم نہیں، کسی ملک میں رجیم کی تبدیلی، ملکی مفاد کے لئے یورینیم کی افزودگی جنگ کے آغاز کے لئے یہ پیرا میٹرز نہ تو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہیں نہ کوئی ضابطہ اسکی اجازت دیتا ہے، کسی فرد واحدکی خواہش لگتی ہے، جنگ سے نکلنا اب کمبل نہیں چھوڑتا والا معاملہ بن گیا، ہر سطح پر جنگ کی مخالفت کی جارہی ہے، امریکی عوام تو صدر کے گھر تک جا پہنچی ہے کہ غیر ضروری جنگ کو ختم کیا جائے، انرجی کرائسز کی وجہ سے قریباً ہر ریاست اور شعبہ ہائے زندگی اس سے متاثر ہوئے ہیں، عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل، امریکہ، ایران کو بھی بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ہر دور میں کہا تو یہی جاتا ہے کہ جنگیں کسی مسئلہ کا حل نہیں ہیں پھر بھی اس سے اجتناب نہیں کیا جاتا، المیہ ہے کہ اس کا ایندھن تو عام شہری، مردو خواتین، بوڑھے اور بچے بنتے ہیں، کہاجاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کی قیادت میں 6 بڑی جنگیں لڑی جاچکی ہیں کوریا، ویت نام، 1991کی خلیجی، کوسوو، نیٹو ممالک نے افغانستان، عراق، لیبیا اور نائین الیون، شام یمن جن میں قابل ذکر ہیں، محتاط اندازے کے مطابق ان جنگوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 30 سے 40 لاکھ بنتی ہے، اسی طرح سرد جنگ سے ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکہ کے ممالک زیادہ متاثر ہوئے، سرد جنگ کے دوران عالمی تجارت میں پانچ سے پندرہ فیصد کمی بتائی جاتی ہے۔
سوال ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مرنے والے انسانوں کا کیا قصور تھا؟ ایران کی حالیہ جنگ میں مرنے والے بچوں کی تعداد Haranaکے مطابق 224 ہے، کوئی عالمی، اخلاقی قانون بچوں کو یوں قتل کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ اقوام متحدہ، عرب لیگ اور او آئی سی کی معنی خیز خاموشی انکی بے حسی کو عیاں کرتی ہے۔
ایک طرف دنیا میں معاشی تفاوت پایا جاتا ہے، ترقی پذیر ممالک میں عوام کی بڑی اکثریت خط غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، سوڈان، افریقہ کے کئی ممالک میں عام شہری کو بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء کی ہی میسر نہیں ہیں، دوسری طرف بڑی طاقتیں طاقت کے بل بوتے پر کمزور ممالک کے وسائل پر قابض ہونے کے لئے جنگیں مسلط کر رہی ہیں، ان پر اٹھنے والے ہوشر با اخراجات ہیں، اگر انہیں انسانی فلاح کے لئے خرچ کیا جائے تو کافی حد تک دنیا سے غربت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ معاشی تفاوت کا یہ عالم ہے کہ امریکہ میں فی کس آمدنی85ہزار ڈالر سے زائد جبکہ جنوبی سوڈان میں 550ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ دنیا کی دولت کا بڑاحصہ تھوڑے لوگوں کے پاس ہے، سب سے زیادہ ارب پتی امریکہ میں موجود ہیں، انکی مجموعی دولت 8.4ٹرلین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
عالمی ادارہSIPRI کے اعداوشمار کے مطابق2025 کاگلوبل دفاعی بجٹ2.65ٹرلین ڈالر ہے، اس وقت مزائیل ٹیکنالوجی کی دوڑ لگی ہوئی ہے، جن ٹاپ 10 مزائل کا نام لیا جاتا ہے ان میں، پاکستان، روس، چین، امریکہ، بھارت، ایران، اسرائیل ان ممالک کے تیارہ کردہ مزائیل شامل ہیں، اب ایسے مزائیل تیار کئے جارہے ہیں جو ایٹمی ہتھیار لے جا کر 15 ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں، ایک مزائیل پر 35 سے40 ہزار ڈالر کا خرچ آتا ہے، مزائیل ایسے جنگی ہتھیار کے طور پر سامنے آیا ہے جو جنگ کا پانسا پلٹ سکتا ہے، یہ13ارب ڈالر کے ائر کرافٹ کیریر کو ڈبو سکتا ہے، ایران کے مزائیل حملے اس کی اہم مثال ہے۔
دفاعی تنصیبات، دفاعی آپریشن، اسٹریٹیجک سازو سامان پر اٹھنے والے بھاری اخراجات نے اس دنیا کو ہولناک تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا، مہذب سمجھے جانی والی دنیا کے انسان نے اپنی تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں بنا کر پورے عالم سے امن چھین لیا ہے، ہر جنگ کا آغاز اگرچہ یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ اس کا مقصد خطہ میں قیام امن ہے، مگر یہ خواہش ہی رہتی ہے، کیسے بودے، کم فہم، تنگ نظر، جھگڑالو حکمران اس دنیا پر مسلط ہیں، جو پہلے ریاستوں کو جنگی ہتھیاروں سے تباہ کرتے ہیں، پھر اسکی تعمیر کے لئے فنڈز جمع کرتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں کڑوڑوں بچے ایسے ہیں جو تعلیم کی روشنی سے محروم ہیں، سب سے کم شرح خواندگی افریقی ممالک میں بیان کی جاتی ہے۔
دنیا کی بدامنی دیکھ کر دکھائی دیتا ہے کہ شیطان کا یہ کہنا درست تھا کہ انسان بطور اللہ کے خلیفہ دنیا میں فساد پھیلائے گا، حالانکہ اللہ نے اس کو اشرف المخلوقات بنایا مگر اس نے اپنے عمل سے شیطان کے دعویٰ کو سچ کر دکھایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر کے وسائل بلا امتیاز انسانوں کے تصرف میں دیئے انسانیت کا بھلا ہو طاقتور ممالک نے دنیا کو جہنم بنا یا ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد امن ایک خواب بن گیا۔ 2001سے2023کے مابین جنگوں میں تباہی کے بعد عالمی راہنماؤں نے مغرب کی بجائے مشرق کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے، ایران، سعودی عرب، افغانستان، پاکستان، روس، یوکرائین تنازعہ، امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے کے علاوہ 30 ممالک سے مل کر ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی ادارہ چین نے تشکیل دیا ہے، کہا جارہا ہے کہ 2030 تک چین نے تائیو ان کا مسئلہ پر امن طور پر حل کرنے کا عندیہ دیا ہے، انہیں پیرا میٹرز دیگر عالمی تنازعات کا حل بھی ممکن ہوگا۔
شنید ہے کہ عالمی قیادت کا مرکز براعظم شمالی سے ایشیاء سے منتقل ہو رہا ہے متوقع تبدیلی خوش آئند ہے، اب یہ توقع ممکن ہے کہ جنگ و جدل پر خرچ ہونے والا سرمایہ انسانی ترقی پر صرف کیا جائے گا، جس انداز میں غزہ کے مظالم کے خلاف دنیا بھر کے عوام نے آواز اٹھائی ہے، اس طرح دنیا کے انسانوں کو بھی جنگ و جدل کے خلاف متحد ہونا ہوگا، لاکھوں انسانوں کی قتل گاہ بننے سے دنیا اب عاجز ہے، یورپی ممالک نے انکل سام کا ساتھ نہ دے کر بہتر فیصلہ کیا اقوام متحدہ کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیں، تقاضا وقت ہے کہ جنگوں پر خرچ سرمایہ کا رخ عالمی سماجی، معاشی ترقی کی طرف موڑا جائے، عالمی عدل قائم کیا جائے تاکہ سیز فائیر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ممکن ہو سکے۔

