Thursday, 16 May 2024
  1.  Home/
  2. Javed Chaudhry/
  3. Khiwa Main

Khiwa Main

خیوا میں

خیوا کی فضا میں بہادر مگر بد نصیب جلال الدین کی اُداسی آج تک موجود تھی۔

ہم خیوا کے قلعہ کے سامنے کھڑے تھے، "یہ طالب گیٹ" تھا، خیوا کے چاردروازوں میں سے ایک دروازہ، گیٹ کی بلندی دستار گرا رہی تھی۔ میں بالآخر خیوا کے اس قدیم شہر پہنچ گیا جس کا فسوں اڑھائی ہزار سال سے مقناطیس کی طرح سیاحوں کو کھینچ رہا ہے، خیوا تاریخ کے اوراق میں گم فقط ایک خاموش شہر نہیں یہ ایک جادوگری بھی ہے، یہ الخوارزمی کا شہر تھا، جس نے دنیا کو 810ء میں الجبرا کی سائنس دی، یہ البیرونی کا شہر بھی تھا، البیرونی خراسان کے گاؤں بیرون میں پیدا ہوا۔

یہ بیرون سے نکلا، خیوا پہنچا اور یہاں علم و فضل کے موتی بانٹنے لگا، محمود غزنوی نے 1017ء میں خیوا فتح کیا تو یہ البیرونی کو غزنی لے گیا، البیرونی غزنی سے 1017ء میں ہندوستان گیا اور اس نے ہندوستان کے بارے میں تاریخ الہندکے نام سے شاندار کتاب لکھی، یہ کتاب ہندوستان کا پہلا تعارف تھی، یہ بو علی سینا کا شہر بھی تھا، یہ جلال الدین مینگو باردی کا شہر بھی تھا، وہ بدنصیب بہادر جس نے چنگیر خان کو پہلی اور آخری بار شکست دی۔

چنگیز خان کو زندگی میں صرف ایک بار شکست ہوئی اور یہ خیوا کے آخری حکمران خوارزم شاہ جلال الدین مینگو باردی نے دی، چنگیز خان نے ایک دن کہا "کاش کوئی شخص میرے سارے بیٹے لے لے اور مجھے جلال الدین دے دے، میں پوری دنیا فتح کر لوں گا" یہ وہ بدنصیب بہادر تھا جس کے بارے میں علامہ اقبال نے "دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے، بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے، جیسا عظیم شعر لکھا اور جس کے کارنامے پر چنگیز نے پینٹنگ بنوائی اور یہ پینٹنگ آج بھی برٹش میوزیم لندن میں موجود ہے۔

جلال الدین مینگو باردی کون تھا، یہ خیوا سے اٹک، کالا باغ اور بھکر کیسے پہنچا، اس نے لاہور کیسے فتح کیا، یہ اوچ شریف کیوں پہنچا اور یہ 32 سال کی عمر میں مرنے کے باوجود پوری زندگی چنگیز خان کے دل میں کیوں رہا، یہ ساری کہانی آگے آئے گی لیکن آپ پہلے خیوا کے بارے میں سنئیے۔

خیوا ازبکستان کا جنوبی شہر ہے، یہ آج سے پانچ سو سال پہلے تک دنیا کا سب سے بڑا کلچرل سینٹر سمجھا جاتا تھا، یہ شاہراہ ریشم پر واقع تھا، یہ شہر حضرت نوح ؑ کے صاحبزادے سائم نے آباد کیا، آج بھی قلعے میں ان کے ہاتھ کا کھودا ہوا کنواں موجود ہے، آپ اگرسینٹرل ایشیاء کا نقشہ سامنے پھیلائیں تو آپ کو جہاں ازبکستان، قزاقستان اور ترکمانستان ملتے دکھائی دیں گے آپ کو خیوا کا شہر وہاں ملے گا، یہ شہر ماضی میں خوارزم نامی ملک کا دارالحکومت تھا، یہ ریاست سکندراعظم کے خیوا پر حملے سے 980ء سال قبل قائم ہوئی، اس میں ترکمانستان، ایران، ازبکستان اور قزاقستان کے علاقے شامل تھے۔

خیوا "ارل سی، کی ہمسائیگی میں بھی واقع ہے، ارل سی 1975ء تک صاف پانی کا سمندر تھا، سینٹرل ایشیاء کے دو بڑے دریا آمو اور سریا ہزاروں سال تک ارل سی میں گرتے رہے لیکن پھر ستر کی دہائی میں سوویت یونین نے ان دونوں دریاؤں کا رخ موڑ دیا اور پھر لاکھوں میل تک پھیلا سمندر خشک ہو گیا، آج 35 برس بعد ارل سی کی جگہ ایک طویل صحرا ہے۔

آپ کو اگر زندگی میں موقع ملے تو قزاقستان، ازبکستان یا ترکمانستان کے آخر میں "ارل سی، تک ضرور جائیں اور اپنی کھلی آنکھوں سے خشک سمندر اور ریت کے اس خشک سمندر میں بحری جہازوں کے ڈھانچے دیکھیں، آپ کے لیے یہ "لائف ٹائم" تجربہ ہو گا۔"خیوا" تاریخ کا اہم ترین شہر تھا، یہ شہر سکندر اعظم نے 328 قبل مسیح میں فتح کیا جب کہ عرب 712 میں خیوا پہنچے، یہ شہر قیتبہ بن مسلم نے فتح کیا، دسویں صدی میں مقامی تاجروں نے علم بغاوت بلند کیا، آزادی حاصل کی، خوارزم کی ریاست قائم ہوئی اور حکمران خوارزم شاہ کہلانے لگے، خیوا کے گرد مضبوط اور طویل فصیل بنائی گئی۔

یہ فصیل آج بھی قائم ہے، یہ شہر تجارت، علم، سائنس اور کلچر کا عظیم مرکز تھا، شہر میں 80 مدارس تھے، 27 مدارس آج بھی سلامت ہیں، شہر کے اندر کارواں سرائے بھی تھے، محلات بھی، حمام بھی اور بازار بھی، بادشاہ شروع میں خوارزم شاہ کہلاتے تھے لیکن چنگیز خان کی آمد اور قبضے کے بعد یہ خان کہلانے لگے، یہ خان سوویت یونین کا حصہ بننے تک موجود رہے اور یہ خان ہی کہلاتے رہے، یہ شہر 1017ء میں محمود غزنوی نے بھی فتح کیا، لیکن شہر کو اصل نقصان چنگیز خان نے پہنچایا، چنگیز چین سے سینٹرل ایشیا میں داخل ہوا، یہ جب دریائے آمو کے قریب پہنچا تو خوارزم میں علاؤ الدین دوم کی حکومت تھی۔

یہ بزدل اور سست شخص تھا تاہم اس کا بیٹا جلال الدین زیرک اور بہادر تھا، جلال الدین کا لقب مینگو باردی (ہمیشہ رہنے والا) تھا، جلال الدین نے والد کو سمجھایا ہمیں چنگیز خان کو دریائے آمو پر روکنا چاہیے، منگولوں کی فوج دریا پار کر کے تھک جائے گی، ہمیں اس وقت ان پر حملہ کر دینا چاہیے، مینگو باردی کی حکمت درست تھی لیکن خوارزم شاہ نہ مانا، خوارزم شاہ کا خیال تھا ہمیں چنگیز خان کو سمر قند اور بخارہ کی فوجوں سے لڑنے کا موقع دینا چاہیے، یہ فوجیں جب منگولوں کو کمزور کر دیں گی تو پھر ہم اس پر حملہ کریں گے، یہ حکمت عملی غلط ثابت ہوئی کیونکہ منگولوں نے دریائے آمو عبور کرتے ہی تباہی مچا دی۔

چنگیز خان سمر قند آیا اور اس نے پورا شہر جلا کر رکھ کر دیا اور آگے بڑھ گیا، بخارہ کے ساتھ بھی یہی ہوا، منگول اس کے بعد خیوا کی طرف بڑھے، شہر کا محاصرا ہوا تو خوارزم شاہ علاؤالدین عوام کو چھوڑ کر بھاگ گیا اور کیسپئن سی کے ویران جزیرے میں پناہ گزین ہو گیا، وہ جلاوطنی کے عالم میں انتقال کر گیا جب کہ چنگیز خان نے خیوا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، منگولوں نے کل آبادی قتل کر دی، شہر لوٹ لیا اور گھروں کو آگ لگا دی، خوارزم شاہ کے انتقال کے بعد جلال الدین بادشاہ بن گیا، وہ خیوا کی شکست سے اس قدر شرمندہ تھا کہ اس نے خوارزم شاہ کا لقب چھوڑ دیا اور سلطان کہلانے لگا۔

مینگو باردی افغانستان پہنچا، اس نے شمالی افغانستان کے قبائلی، تاجک قبائل اور خوارزمی قبائل پر مشتمل فوج بنائی، کابل کے شمال میں "پروان" کے علاقے میں منگولوں سے لڑائی ہوئی اور جلال الدین یہ جنگ جیت گیا، یہ چنگیزی فوج کی پہلی اور آخری شکست تھی، شکست نے چنگیز خان کو حیران کر دیا اور وہ اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ طویل لشکر لے کر مینگوباردی کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا، جلال الدین اس کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا لیکن بد قسمتی سے سفید گھوڑے کی ملکیت پر اس کے سسر اور تاجک سردار کے درمیان اختلاف ہو گیا اور تاجک فوجی رات کے اندھیرے میں اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔

جنگ ہوئی اور جلال الدین کو ہندوستان کی طرف بھاگنا پڑ گیا، درہ خیبر پار کیا اور وہ پنجاب کی طرف روانہ ہو گیا، چنگیز خان بھی اس کے تعاقب میں ہندوستان داخل ہو گیا، جلال الدین ڈی آئی خان بھی آیا، اس نے بھکر بھی فتح کیا، وہ آخر میں ایک ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں آج کالا باغ کا قصبہ اور اٹک شہر آباد ہیں، آپ اگر موٹروے کے ذریعے اسلام آباد سے پشاور کی طرف جائیں تو آپ جب دریائے سندھ کے قریب پہنچیں گے تو آپ کو موٹروے کے دائیں جانب ایک چھوٹا سا گاؤں نظر آئے گا، یہ گاؤں "ہنڈ" کہلاتا ہے، ہنڈ ماضی کا اہم ترین شہر تھا، یہ بودھ مت کے دور میں پشاور ویلی کا دارالحکومت تھا۔

یہ سلطنت افغانستان سے لے کر اٹک اور اٹک سے لے کر سوات تک پھیلی تھی، ہنڈ، اٹک اور کالا باغ کے ایریا میں جہاں دریائے کابل دریائے سندھ سے ملتا ہے جلال الدین وہاں کشتیوں کا پل تیار کرا رہا تھا لیکن پل مکمل ہونے سے قبل منگول فوج وہاں پہنچ گئی، منگولوں اور مینگو باردی کی فوجوں میں لڑائی ہوئی، مینگو باردی کو شکست ہو گئی۔

چنگیز خان اسے زندہ گرفتار کرنا چاہتا تھا، منگولوں نے جلال الدین مینگو باردی کو گھیر لیا، اس وقت اس کے تین اطراف منگول سپاہی تھے اور پشت پر دریائے سندھ پوری طغیانی کے ساتھ بہہ رہا تھا، جلاالدین نے گرفتار ہونے کے بجائے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور گھوڑے سمیت دریائے سندھ میں چھلانگ لگا دی، اور وہ گھوڑے کے ساتھ تیرتا ہوا دریائے سندھ کے پار پہنچ گیا، چنگیز خان اس بہادری پر حیران رہ گیا، اس نے اس وقت کہا "یہ اگر میرا بیٹا ہوتا تو میں پوری دنیا فتح کر لیتا" دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد جلال الدین کی جلاوطنی کا طویل دور شروع ہو گیا۔

وہ دہلی گیا، سلطان التمش سے ملا، اس سے منگولوں کے خلاف مدد مانگی، التمش نے اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا، وہ لاہور سے نکلا، اوچ شریف پہنچا، ناصر الدین قباچر کو شکست دی اور سندھ کی طرف نکل گیا، وہ فوج جمع کرتا رہا وہ ایران پہنچا، 1224ء میں منگولوں پر حملہ کیا مگر کامیاب نہ ہو سکا، وہ وہاں سے کاکشیا پہنچا، آذر بائیجان فتح کیا۔

تبریز کو دارلحکومت بنایا، جارجیا فتح کیا، تبلیسی شہر کی اینٹ سے اینٹ بجائی، ترکی پہنچا، ترکی کے سلجوقوں کے ساتھ منگولوں کے خلاف اتحاد بنانے کی کوشش کی، دال نہ گلی، سلجوقوں نے بعد ازاں ایوبی فوج کے ساتھ جلال الدین کے خلاف اتحاد قائم کر لیا، یہ دونوں مل کر جلال الدین پر حملہ آور ہوئے، وہ سلجوقوں اور ایوبیوں کے خلاف زندگی کی آخری جنگ ہار گیا اور دیار بکر کی طرف نکل گیا، راستے میں اسے کردلٹیروں نے گھیر لیا اور اسے قتل کر دیا۔ یوں دنیا کا ایک ایسا عظیم مسلمان سپاہی 32 سال کی عمر میں لیٹروں کے ہاتھوں مارا گیا جس کی بہادری نے چنگیز خان تک کو حیران کر دیا تھا۔

جلال الدین کے مرنے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس کے خوارزمی سپاہیوں کو اپنے لشکر میں شامل کرلیا، یہ سپاہی 1243ء میں یوروشلم پہنچے اور انھوں نے 1244ء میں بیت المقدس فتح کیا، بیت المقدس 1917ء تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔ میں جمعہ 27 مارچ 2015 کی دوپہر جلا الدین مینگوباردی کے خیوا شہر پہنچ گیا، میں طالب گیٹ کے سامنے کھڑا تھا اور تا حد نظر خیوا کی فصیل۔

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.

Check Also

Shirini Khori Aur Khuda Fehmi

By Mojahid Mirza