معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کا مطالبہ

ایران اور امریکہ میں آٹھ اپریل سے عارضی جنگ بندی ہے مگر کیا یہ مستقل ہو پائے گی؟ اِس حوالے سے وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ دونوں طرف بداعتمادی ہے جس کی وجہ سے بے یقینی کی فضا ہے اِس کا کسی ایک ملک کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ دونوں کو ذمہ دار کہنا انصاف ہوگا۔ جب بھی اتفاقِ رائے کے امکانات بڑھتے ہیں تو امن معاہدہ پر دستخط سے قبل ایسی شرائط اور مطالبات پیش کردیے جاتے ہیں کہ اتفاق کا جاری عمل رُک جاتا ہے۔ ایران کی طرف سے آبنائے ہُرمز پر حاکمیت تسلیم کرانے کی کوششوں نے ثالثی کے عمل کومشکل کیا اور پھر افزدہ یورنیم پربے لچک رویے نے حالات کو یکدم ہی غیر یقینی بنادیا حالانکہ جوہری ہتھیاروں کے خلاف امام خمینی کا باقاعدہ فتویٰ موجود ہے۔
صدر ٹرمپ کی زبان و بیان اور اقدامات بھی امن معاہدے کی راہ میں ایک بڑی اور مشکل رکاوٹ ہیں موجودہ کشیدگی میں اُن کا نمایاں کردار ہے جس سے ایسے قیاسات کو تقویت ملتی ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں امن عمل میں سنجیدہ نہیں کیونکہ دونوں ہی خطے پر غلبہ چاہتے ہیں جس سے امن عمل کی راہ غیر ہموار اور مشکل ہوئی ہے۔
پاکستان سمیت اہم مسلم ممالک سے معاہدہ ابراہیمی پرصدر ٹرمپ کی طرف سے دستخط کا نیا مطالبہ بلا جواز اور امن عمل کو ختم کرنے کی دانستہ کوشش ہے; ایسے کام دباؤ سے نہیں بلکہ سفارتکاری سے ممکن ہیں ; اگر امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل محفوظ ہو تو پہلے اسرائیل کو گریٹر اسرائیل کے منصوبے سے دستبردار کرائے ہمسایہ ممالک کو حملے نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرانا ہوگی اور مسئلہ فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو خطے سے کشیدگی کا خاتمہ مشکل ہے۔
متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان پر دباؤ ڈال کر دستخط کرانے کے باوجود حالات یہ ہیں کہ مزکورہ ممالک کے عوام میں اب بھی اسرائیل کے لیے تحفظات اور نفرت ہے جو حکومتوں اور عوام میں خلیج بڑھانے کا باعث ہے۔ اسرائیل نے اِس وقت عراق، شام، لبنان اور فلسطین کے خلاف اعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے۔ فلسطین، شام اُردن اور لبنان کے علاقوں پر قابض ہے اِن حالات میں امن کی بحالی آسان نہیں بلکہ شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن چاہتا ہے تو اُسے اسرائیل کو جارحانہ کاروائیوں سے باز رکھنا ہوگا جس کا امکان کم ہے کیونکہ اسرائیل کے اُکسانے پر اگر وہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے تو وہ اسرائیل سے کیسے امن کی توقع رکھ سکتاہے؟
عرب ممالک اور اسرائیل کی فوجی طاقت میں نمایاں فرق ہے۔ اِس حوالے سے اسرائیل کی برتری واضح ہے مگر رواں دہائی میں عرب ممالک نے کچھ ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے نہ صرف خطے کے بدلتے منظرنامے کا تاثر گہرا ہوا ہے بلکہ امریکی رسوخ میں بھی کمی کا تاثر ہے۔ اِس حوالے سے سعودی عرب اور چین میں تیل کی تجارت کے لیے یوان کرنسی کے استعمال کاmemorandum of understanding(ایم اویو) پر دستخط کرنا بڑی پیش رفت ہے۔ قطر میں حماس کے مزاکراتی وفد کو نشانہ بناکر اسرائیل نے مزید عرب ممالک کے خدشات میں اضافہ کیا جو خطے میں دفاعی تبدیلی کی بنیادثابت ہوئی اور نہ صرف پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ طے پایا بلکہ دیگر مسلم ممالک کی شمولیت بھی خارج از امکان نہیں۔ اِس کے باوجود صدر ٹرمپ کی طرف سے معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت پر اصرار خوش فہمی کہی جا سکتی ہے کیونکہ عین ممکن ہے ایسے مطالبات سے خطے میں امریکی کردار مزید کم ہو۔
جب تک اصل مسائل حل نہیں ہوتے تب تک مکمل امن بحال نہیں ہوسکتا جبکہ دباؤ ڈال کر امن لانے کی کوششوں کے نتائج مُضر آسکتے ہیں۔ سعودی عرب نے دو ریاستی حل کے بغیر ایسے کسی معاہدے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ قطر کا بھی کچھ ایسا ہی موقف ہے۔ جب دونوں نے واضح کر دیا ہے کہ تب تک اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں لاسکتے جب تک ایسی آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت یورشلم ہو، معرضِ وجودمیں نہ لائی جائے یہ مشروط پیشکش اسرائیل کے سرپرست امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول ہے اسی لیے خدشہ ہے کہ خطے سے اپنے رسوخ میں کمی کو برداشت کرنے کی بجائے امریکہ ایسے حالات پیدا کردے جس سے عرب ممالک اور اسرائیل میں کشیدگی فروغ پائے۔
ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے عربوں کو اسرائیل تسلیم کرنے پر مجبور کرنا بے وقت کی ایسی راگنی ہے جس کے مثبت نتائج نہیں آسکتے کیونکہ خطے میں جارحانہ کاروائیوں اور مسلم نسل کشی کی وجہ سے اسرائیل عالمی نفرت کا شکار ہے۔ پہلی بار مغربی ممالک میں بھی اسرائیل کے بارے میں ایسی ہی فضا ہے۔ اسلامی ممالک میں تو غزہ پر فضائی حملوں اور کارپٹ بمباری کی وجہ سے نفرت عروج پر ہے۔ اِن حالات میں جو بھی کسی مسلم ملک کا حکمران امریکی مطالبے پر اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کرے گا وہ عوامی غیض و غضب کا شکار ہوگا۔ اب جبکہ روس اور چین کی شکل میں متبادل موجود ہیں جن سے دفاعی ہتھیاروں کی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں تو بھلا کیونکہ کوئی حکمران عوامی نفرت مول لینے کی کوشش کر ے گا؟
شام میں کٹھ پتلی لاکر امریکہ نے اسرائیل سے امن معاہدہ تو کرا لیا ہے لیکن دیگر ممالک کو ایسی مجبوریاں نہیں اسی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ غزہ امن بورڈ کی طرح معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کا مطالبہ بھی شاید ہی پورا ہو۔
امریکی طاقت اپنی جگہ، مگر یہ طاقت معاہدہ ہونے کے باوجود قطر کو تحفظ نہیں دے سکی لہذا معاہدے میں شامل نہ ہونے کو قطر کو غلط نیت کی علامت کہنے کا جواز نہیں رہتا۔ ایران سے کشیدگی کم کرانے میں پاکستان اور قطر پیش پیش ہیں۔ قالیباف، عباس عراقچی اور ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ اب بھی دوحہ میں ہیں اِن حالات میں ایسے مطالبات پیش کرنا جن کا ایران اور امریکہ جھگڑے سے دور کا بھی واسطہ نہیں امریکی ذہنیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ امن عمل سے دلچسپی کی بجائے اُس کے عزائم کچھ اور ہیں۔
امریکہ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن سے عرب ممالک کمزور اور اسرائیل مضبوط، مستحکم اور خوشحال ہو جو اُسے عربوں میں ناقابلِ اعتبار بنانے کاباعث ہے جس کا نتیجہ ہے کہ عرب ممالک کا انحصار امریکہ پر بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔ صدرٹرمپ کے دورے کے دوران سرمایہ کاری کے وعدوں پر سعودیہ میں نظرثانی کی سوچ جنم لے چکی جبکہ اسرئیل سے متحدہ عرب امارات تعلقات بڑھا کر بھی اِس حد تک غیر محفوظ ہے کہ نہ صرف امریکہ سے مالی تعاون کا مقصد پورا نہیں ہو سکا بلکہ ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہے۔ اِس لیے کہہ سکتے ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ نے مقاصد حاصل کرنے ہیں تو شام میں ماضی کے دوران القائدہ سے وابستہ رہنے والے احمد الشرع جیسی مسلم ممالک میں کٹھ پتلیاں لا کر ہی ممکن ہے اِس کے علاوہ بظاہر اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا جس پر چل کر صدر ٹرمپ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔

