بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

کیاوینزویلا میں امریکی کاروائی سے براعظم امریکہ میں چین کی تجارتی پیش قدمی رُک گئی ہے؟ اِس کے جواب میں ہاں نہیں کہہ سکتے بلکہ اِس واقعہ نے دنیا کوجھنجوڑ اہے اور عالمی تبدیلیوں کو تیز تر کردیا ہے صدر ٹرمپ نے حامی اور مخالف دونوں کو زچ کررکھا ہے جس کی وجہ سے کئی ایسے ممالک بھی چین کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں جو کئی عشرے امریکہ کے ساتھ رہے اِن میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں بظاہر وینزویلا سمیت کسی بھی ملک کے خلاف امریکی کاروائی کے خلاف چین نے ہمیشہ شدید عملی ردِ عمل دینے سے گریز کیالیکن اب احتیاط پسندی پر حقیقت پسندی غالب ہے ایران امریکہ کشیدگی میں بھی چینی ردِ عمل سفارتی رہالیکن کچھ شدت محسوس کی گئی جس سے کمزور ممالک کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اوروہ سرمایہ کاری اور متبادل سمجھ کر چین کی طرف متوجہ ہوئے ہےں۔
کینیڈا کو 51واں صوبہ بننے کی پیشکش اورگرین لینڈ کوحصہ بنانے کا ٹرمپ اعلان دنیا نے مسترد کر دیا ہے حالانکہ ڈنمارک کا شمارنیٹو دفاعی اتحاد کے بانیوں میں ہوتا ہے جس کی ایک شق یہ ہے کہ اِس تنظیم میں شامل کسی ملک پر ہونے والا حملہ تمام رُکن ممالک پر تصور ہوگا ویسے بھی ٹرمپ کونسا کسی کی سُنتے ہیں جوقوانین، اخلاق یا اصول کی بات کریں مگر اُن کے اقدامات نے عالمی تبدیلیوں کواِس حدتک ناگزیر بنا دیا ہے کہ کینیڈاجیساہمسایہ بھی متبادل کی طرف راغب ہے اوروہ روایتی پالیسی ترک کرتے ہوئے چین کی طرف دیکھنے لگا ہے جس کاچینی قیادت نہ صرف گرمجوشی سے خیر مقدم کررہی ہے بلکہ اِس تبدیلی کامثبت جواب دے رہی ہے غالب اِمکان ہے کہ چین و کینیڈا شراکت داری سے براعظم امریکہ میں چینی رسوخ میں تیزی سے اضافہ ہوسکتاہے۔
کینیڈا سے چین کے سفارتی تعلقات میں برسوں تک کشیدگی کا عنصر غالب رہا جس کی اہم وجہ امریکہ جیسے اتحادی کو خوش رکھنا تھا کینیڈانے چینی سامان تجارت پر سوفیصد محصولات لگائے توجواب میں چین نے بھی محصولات بڑھا دیے جس سے باہمی تجارت شدید متاثر ہوئی لیکن کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کا ایک ہی جست میں برسوں کی کشیدگی ختم کرنے سے لگتا ہے کہ دونوں طرف ہی قریب آنے کی خواہش تھی جسے پوراکرنے کے ٹرمپ نے اسباب پیداکردیے کینیڈا نے چین کو سب سے پسندید ہ ملک درجہ دیکراُس کی الیکٹرک گاڑیوں پرنہ صرف کم ترین محصول چھ فیصد لاگوکردیاہے بلکہ سالانہ 49000گاڑیوں کا کوٹہ بھی دیاہے چین نے بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کینیڈین کینولا پرمحصولات 85 سے پندرہ فیصدکردیاہے جس سے طویل عرصہ بعد کینیڈین زرعی مصنوعات کی برآمد کاراستہ ہموار ہوگیاہے دونوں ممالک نے زراعت، توانائی، ثقافت کے ساتھ زرعی خوراک جیسے شعبوں میں جامع تعاون کے تحریری معاہدے بھی کیے ہیں دوکھرب یوان کامقامی کرنسی کامالیاتی معاہدہ دوطرفہ تجارت واقتصادیات کی بنیادبن سکتاہے اِس سے نہ صرف دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھے گا اور ڈالرسے منسلک تجارت میں کمی کے ساتھ بااعتماد شراکت داری کو فروغ ملے گا یہ فیصلے براعظم امریکہ میں چین کے لیے بڑا دروازہ کھولیں گے یہ وینزویلا میں امریکی کاروائی کے بعدایک اہم ترین تبدیلی ہوگی۔
2017میں آخری بار جسٹن ٹروڈو چین گئے جس کے بعد کسی کینیڈین وزیرِ اعظم نے چینی دورے سے اجتنا ب کیاکینیڈا نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے معروف الیکٹرانک کمپنی ہواوے کے چیف فنانشل آفیسر مینگ وائزو کو 2018 میں وینکوورمیں گرفتارکر لیاجس سے دونوں ممالک کے تعلقات اِس حدتک کشیدہ ہوگئے کہ نہ صرف جوابی گرفتاریاں ہوئیں بلکہ باہمی محصولات میں اضافہ ہوا دونوں نے ایک دوسرے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے اور انتخابی مداخلت میں ملوث قراردیاگیا مگر گزشتہ برس کی سفارتی کوششوں سے نہ صرف مارک کارنی کارواں ماہ جنوری میں چارروزہ دورہ ممکن ہوا بلکہ یہ دورہ تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کا باعث بنا ہے دونوں ممالک کی گرمجوشی لگتا ہے کہ کینیڈا تجارت کو متنوع بناکر امریکہ پر انحصار کم کرناچاہتا ہے یہ دورہ دونوں ممالک کے عالمی تنازعات میں مشترکہ موقف اور دفاعی تعاون کی طرف بھی جا سکتا ہے۔
دنیا کی طرح چین اور کینیڈا بھی امریکی محصولات سے پریشان ہیں اور متاثرہ ممالک کو اشتراکِ کارکی راہ دکھائی ہے چین جس نے اپنی معیشت کوتجارت سے تقویت دی اور وہ اب ایک بڑی دفاعی طاقت بننے کے لیے کوشاں ہے تاکہ عالمی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی میں قائدانہ کردار ادا کر سکے اب جبکہ امریکی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور اُسے سالانہ ایک ٹریلین ڈالر سے زائد رقم قرضوں کے سود کی مدمیں ادا کرنا ہوتی ہے مگرٹرمپ خراب معاشی حالت کو سُدھارنے کے لیے نئی معاشی پالیسی بنانے کی بجائے حامی ممالک پر دباؤ ڈال کررقوم چھین رہے ہیں حالانکہ کسادبازاری کا شکاردنیا کی معیشت ایسے اقدامات کی متحمل نہیں، سوچ کا یہ فرق ہی دنیا کا منظر نامہ بدل رہا ہے اور چین کسی نوعیت کی فوجی کارروائی نہ کرنے کے باوجو د اپنے عالمی کردار کو وسعت دے کردنیاکی مجبوری بن رہا ہے چین اور کینیڈاکی طرف سے باہمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ اور ٹھوس اقدامات سے اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ امریکہ کے ستائے ممالک چینی چھتری تلے سستانے کی کوشش میں ہیں۔
امریکی پیداکردہ حالات سے دنیامیں آنے والی تبدیلی میں جہاں کئی خرابیاں ہیں وہیں مثبت پہلو بھی ہیں دنیا کو یہ سبق ملا ہے کہ کسی ایک ملک پر ہی مکمل طورپر انحصار کر نا درست نہیں بلکہ دانشمندی اِس میں ہے کہ معیشت اور تجارت متنوع ہو یہاں تک کہ جرمنی اور فرانس جیسے طاقتور یورپی ممالک بھی نئی حکمتِ عملی اختیارکر رہے ہیں 2024 میں امریکی ایما پرہی کینیڈانے چینی الیکٹرک کاروں پر سوفیصد محصولات لگا کر درآمد روک بندکرنے کی کوشش کی مگرحالیہ چین و کینیڈامفاہمت کے نتائج کا ٹیسلا جیسی کمپنی کو سامنا کرنا ہوگاجس کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ امریکی پالیسی اسی کے لیے نقصان دہ ہے۔ گزشتہ برس اکتوبرمیں کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ اور کینیڈین وزیرِ اعظم نے ملاقات میں دوطرفہ تعاون پر بات کی۔ کیسی تعجب کی بات ہے کہ جس چین کو براعظم امریکہ اور یورپ سے بے دخل کرنے کے لیے امریکہ نے ہزار کلو میٹر سے زائد دوری پر واقع ملک وینزویلا کے خلاف فوجی کاروائی کی اسی امریکہ کا ہمسایہ کینیڈا نہ صرف چین کی طرف دستِ تعاون بڑھا کرماضی کی غلطیوں کی تلافی کرنے کی کوشش میں ہے بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی تعاون کی طرف بھی آنے والے ہیں یہ تعاون عالمی تبدیلی کا عکاس ہے۔

