سایا ہے یہاں پر میرے مولا کے کرم کا

عالمی منظرنامے میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر پاکستان بالآخر دنیا کو ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی شدت کی شکل میں ایک ممکنہ بڑی قیامت سے بچانے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ تاریخ کے ان نازک موڑوں میں سے ایک ہے جہاں ایک قوم کا کردار پوری انسانیت کے مستقبل پر اثر انداز ہو جاتا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی بروقت، متوازن اور حکیمانہ حکمتِ عملی نے نہ صرف کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، باشعور اور قائدانہ ریاست کے طور پر اس کی حیثیت کو بھی مضبوط کیا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سیاست، حکمت اور تقدیر ایک دوسرے میں مدغم ہوتی نظر آتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک بار پھر صوفی برکت علی اور ڈاکٹر اسرار احمد کی وہ بصیرت افروز پیش گوئیاں موضوعِ بحث بن گئی ہیں جن میں انہوں نے نہایت یقین کے ساتھ کہا تھا کہ دنیا کے بڑے فیصلے پاکستان کے مرہونِ منت ہوں گے۔ اس بیان کو ماضی میں شاید ایک روحانی تعبیر یا جذباتی اظہار سمجھا گیا ہو، مگر آج جب عالمی حالات اس سمت میں ڈھلتے نظر آ رہے ہیں تو یہ الفاظ محض پیش گوئی نہیں بلکہ ایک گہری بصیرت کا اظہار محسوس ہوتے ہیں۔
روحانی و فکری حلقوں کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسی معنوی حقیقت ہے جس کی جڑیں اس خطے کی صدیوں پر محیط روحانی تاریخ میں پیوست ہیں۔ اس سرزمین نے ہمیشہ سے ایسے افراد کو جنم دیا ہے جنہوں نے وقت کی دھند میں چھپے حقائق کو پہلے ہی دیکھ لیا۔ ان بزرگوں کے نزدیک پاکستان صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور روحانی ذمہ داری کا حامل ملک ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جس کے بارے میں تصور کیا گیا کہ یہاں سے ایک ایسا فکری اور اخلاقی پیغام اٹھے گا جو دنیا کو توازن، امن اور اعتدال کی طرف لے جائے گا۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ ان خطوں سے جنم لیتی ہیں جہاں فکری اور روحانی توانائی یکجا ہو جاتی ہے۔ پاکستان بھی شاید اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
گزشتہ اٹھتر سال سے بار بار مسلط کی جانے والی جنگوں اور چالیس سال سے ڈھائے جانے والی دہشت گردی جیسی مشکلات نے اس قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ لیکن یہی آزمائشیں دراصل اس قوم کی تربیت کا ذریعہ بھی بنیں۔ ہر بحران نے اس کی اجتماعی شعور کو ایک نئی سطح پر پہنچایا، ہر زخم نے اس کے اندر برداشت اور حکمت کو مزید گہرا کیا۔ آج جب پاکستان عالمی سفارتکاری کے ایک اہم مقام پر کھڑا نظر آتا ہے تو یہ محض سیاسی مہارت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان تمام آزمائشوں کا حاصل بھی ہے جنہوں نے اسے مضبوط بنایا۔
مبصرین اس صورتحال کو خدا ذوالجلال کی خاص مہربانی اور نظرِ کرم سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض قومیں تاریخ میں ایک خاص مقصد کے لیے منتخب کی جاتی ہیں اور ان کے سفر میں آنے والی مشکلات دراصل انہیں اس مقصد کے لیے تیار کرتی ہیں۔ پاکستان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے بے شمار قربانیاں دیں، لیکن اس کے باوجود اپنی شناخت، اپنے نظریے اور اپنی امید کو زندہ رکھا۔
روحانی تجزیہ نگار اس پہلو پر خاص طور پر زور دیتے ہیں کہ صوفی برکت علی کی تعلیمات میں اُمتِ مسلمہ کے اتحاد اور عالمی امن کا تصور نمایاں تھا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ پاکستان کو محض اپنے داخلی مسائل میں اُلجھنے کے بجائے ایک بڑے عالمی کردار کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ اسی طرح ڈاکٹر اسرار احمد نے بھی اپنی تقاریر میں اس خطے کو ایک فکری اور روحانی مرکز قرار دیا تھا، جہاں سے ایک نئی عالمی سوچ جنم لے سکتی ہے۔ آج جب ہم حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ خیالات محض نظری نہیں رہے بلکہ عملی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ ادھر اس تناظر میں میرا ایک ذاتی حوالہ بھی اپنی معنویت رکھتا ہے۔ تقریباً ستائیس سال قبل میں نے ایک صاحبِ بصیرت دانشور اور ایک ممتاز صحافی زبیر رانا سے اس موضوع پر کتاب لکھنے کی درخواست کی اور اس کا عنوان"امریکہ کا زوال اور نیا پاکستان" تجویز کیا۔
اس وقت شاید یہ خیال صرف ایک جرات مندانہ تصور محسوس ہوا ہو، لیکن آج کے حالات نے اس تصور کو ایک نئی معنویت دے دی ہے۔ یہ واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ کچھ لوگ وقت سے پہلے وہ دیکھ لیتے ہیں جو عام آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے۔ تاہم اس تمام تر کامیابی کے باوجود ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر اس قدر مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے تو کیا وہ اپنے داخلی مسائل کو بھی اسی سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ حل نہیں کر سکتا؟ کیا ہم اپنی معیشت کو مستحکم، اپنی قوم کو متحد اور اپنے اداروں کو مضبوط نہیں بنا سکتے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہمیں خود دینا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق سفارتی کامیابیاں اسی وقت دیرپا ثابت ہوتی ہیں جب ان کے پیچھے ایک مضبوط داخلی ڈھانچہ موجود ہو۔ معاشی استحکام، ملی یکجہتی اور قومی اعتماد وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اگر ہم نے ان پہلوؤں کو نظر انداز کیا تو ہماری بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہو سکتی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس لمحے کو صرف فخر کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اسے ایک موقع سمجھیں۔
ایک ایسا موقع جس کے ذریعے ہم اپنے داخلی نظام کو بہتر بنا سکیں، اپنی ترجیحات کو درست کر سکیں اور ایک ایسی قوم بن سکیں جو نہ صرف دنیا کے لیے بلکہ اپنے لیے بھی امن، خوشحالی اور استحکام کا ذریعہ ہو۔ اس حوالے سے مَیں یہی کہوں گا کہ تاریخ کے اس موڑ پر پاکستان کا کردار ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اس ملک پر واقعی خدا ذوالجلال کا خاص کرم ہے۔ دعا ہے کہ یہ کرم ہمیشہ قائم رہے، یہ ملک ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن رہے اور اس کے عوام کو وہ سکون اور خوشحالی نصیب ہو جس کے وہ حق دار ہیں۔
کیا پوچھتے ہو میرے گلستاں کے بھرم کا
سایا ہے یہاں پر میرے مولا کے کرم کا

