Saturday, 02 May 2026
  1.  Home
  2. Farhat Abbas Shah
  3. Koi Sunta Nahi Faryad Zameen Zadon Ki

Koi Sunta Nahi Faryad Zameen Zadon Ki

کوئی سنتا نہیں فریاد زمیں زادوں کی

پاکستان اب اتنا بڑا مسائلستان بن چکا ہے کہ عوام کی شنوائی کا سسٹم کہیں نظر نہیں آتا۔ وزیر اعلیٰ یا وزہر اعظم کے لیول پر اگر کچھ نوٹس میں آگیا تو کچھ نہ کچھ ہوجاتا ہے ورنہ فریادی اور فریاد دونوں پر مٹی کی تہہ رفتہ رفتہ دبیز ہوتی چلی جاتی ہے اور ادھر سرکاری اداروں کی تباہی کسی ایک دن یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک مسلسل زوال کا عمل ہوتا ہے جس میں نااہلی، بدانتظامی، سیاسی مداخلت، احتساب کی کمی اور اخلاقی دیوالیہ پن رفتہ رفتہ اداروں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے اور جب یہ عمل اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو اس کا بوجھ سب سے زیادہ عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے، یوں ریاستی مشینری کی ناکامی کی سزا عوام کو دی جاتی ہے، کبھی مہنگائی کی صورت میں، کبھی سہولیات کی کمی کی صورت میں اور کبھی ان بنیادی حقوق کی محرومی کی صورت میں جو آئین اور قانون نے انہیں دیے ہوتے ہیں۔

ملک کے ایک بڑے قومی ادارے نیشنل بینک آف پاکستان کے پنشنرز کی موجودہ حالت اسی اجتماعی ناکامی کی ایک واضح مثال ہے جہاں وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں ایک ادارے کی خدمت میں گزار دیں، آج اپنے ہی جائز حق کے لیے دربدر ہیں، یہ صرف ایک مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحران ہے، ایک ایسا بحران جو یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ریاست اپنے محسنوں کے ساتھ انصاف کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے یا نہیں، مبینہ طور پر عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس معاملے میں واضح احکامات جاری کیے، ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین کو ان کی مکمل پنشن ادا کرنے کا حکم دیا، اربوں روپے کی ادائیگی کا فیصلہ سنایا، مگر اس کے باوجود تاخیر، رکاوٹیں اور بے یقینی کا سلسلہ جاری ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ادارہ جاتی ناکامی ایک کھلی حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عدالت کا حکم موجود ہے تو پھر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا، کیا ریاستی ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں یا پھر ان کے اندر ایسی کمزوریاں پیدا ہو چکی ہیں جو انہیں اپنے ہی فیصلوں پر عمل کرنے سے روک دیتی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اداروں کی تباہی کی بنیادی وجوہات میں سب سے اہم وجہ احتساب کا فقدان ہے، جب کسی افسر یا ادارے کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی نااہلی یا بدعنوانی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا تو وہ اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اسے ایک رسمی عمل بنا دیتا ہے، دوسری بڑی وجہ سیاسی مداخلت ہے جہاں تقرریاں میرٹ کے بجائے تعلقات اور مفادات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں، یوں ادارے پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے وفاداریوں کے مراکز بن جاتے ہیں۔

تیسری وجہ پالیسیوں کے تسلسل کا نہ ہونا ہے، ہر نئی حکومت اپنے ساتھ نئی ترجیحات لے آتی ہے اور پچھلے منصوبے ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں، چوتھی وجہ وسائل کا غلط استعمال ہے جہاں بجٹ کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات اور نمائشی منصوبوں پر خرچ ہو جاتا ہے جبکہ اصل ضرورتیں نظرانداز ہو جاتی ہیں اور پانچویں اور سب سے خطرناک وجہ اخلاقی زوال ہے جہاں خدمت کا جذبہ ختم ہو کر مفاد پرستی میں بدل جاتا ہے، انہی وجوہات کا نتیجہ ہے کہ آج سرکاری مشینری عوام کے لیے سہولت کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک بوجھ بن چکی ہے اور جب یہ مشینری ناکام ہوتی ہے تو اس کی قیمت عوام کو چکانی پڑتی ہے، نیشنل بینک کے پنشنرز کا مسئلہ اسی حقیقت کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے جہاں پنشنرز کو ان کے حقوق سے محروم رکھ کر ادارے کی مالی حالت بہتر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ محض ایک مالی چال نہیں بلکہ ایک اخلاقی جرم ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے جو اپنی زندگی کا بہترین وقت اسی ادارے کو دے چکے ہیں، ایسے میں ریاست کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے کیونکہ پنشنرز صرف ایک مالی بوجھ نہیں بلکہ ریاست کی امانت ہوتے ہیں، ان کا حق ادا کرنا صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی فرض بھی ہے، اگر ریاست اپنے بزرگ شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو پھر اس کے ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو محض ایک انتظامی یا مالی مسئلہ سمجھنا ایک سنگین غلطی ہوگی، یہ دراصل ریاستی وقار اور انسانی عزت کا مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی اسی سطح پر تلاش کرنا ہوگا۔

جناب وزیر اعظم پاکستان اس معاملے کو فوری طور پر اپنی توجہ کا مرکز بنائیں، ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا حکم دیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عدالتی احکامات کے باوجود عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے، اس کے ساتھ ساتھ ایک مستقل اور خودکار نظام تشکیل دیا جائے جس میں پنشن کی ادائیگی کسی فرد یا افسر کی صوابدید پر نہ ہو بلکہ ایک مربوط اور شفاف طریقہ کار کے تحت ہو، ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایسا نظام بنایا جا سکتا ہے جہاں ہر پنشنر کو بروقت اور مکمل ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید برآں پارلیمانی نگرانی کا ایک موثر نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل دوبارہ پیدا نہ ہوں، کیونکہ ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں کی عمارتوں یا بجٹ کے حجم میں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کے اعتماد میں ہوتی ہے اور جب یہ اعتماد ٹوٹ جاتا ہے تو پھر کوئی بھی اصلاح دیرپا ثابت نہیں ہوتی، نیشنل بینک کے پنشنرز کا مسئلہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے اداروں کو ٹھیک نہ کیا تو یہ بحران صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس وقت تک عوام ہی اس کی قیمت ادا کرتے رہیں گے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس مسئلے کو ایک انتباہ کے طور پر لیں اور فوری، موثر اور پائیدار اقدامات کے ذریعے نہ صرف پنشنرز کو ان کا حق دلائیں بلکہ پورے نظام کو ازسرنو استوار کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی شہری کو اپنے حق کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے، کیونکہ ریاست کی عظمت کا اصل معیار یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہری کے ساتھ کس حد تک انصاف کرتی ہے۔

Check Also

Chief Justice Of Pakistan Ke Naam Khula Khat

By Khalid Mahmood Faisal