عرب سرزمین، لاکھوں پاکستانیوں کا دوسرا وطن

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بے یقینی کی لپیٹ میں ہے، مگر اس ہنگامہ خیز منظرنامے میں ایک حقیقت نمایاں ہے کہ کئی عرب ممالک نے گزشتہ برسوں میں داخلی استحکام، شہریوں کے امن اور معاشی خوشحالی کی ایسی مثال قائم کی ہے جس نے پورے خطے کو ایک نئی سمت دکھائی۔ جدید انفراسٹرکچر، معاشی تنوع، سیاحت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے فروغ نے خلیجی ریاستوں کو استحکام کی علامت بنا دیا ہے۔ لاکھوں پاکستانی انہی ممالک میں باعزت روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ خطہ محض معاشی مواقع کا مرکز نہیں بلکہ دوسرا وطن ہے۔ اس پس منظر میں اگر ایران اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان سمیت پورے خطے کی معیشت اور سماجی توازن کو متاثر کریں گے۔
ایران کا معاملہ بھی پیچیدہ ہے۔ تہران پر عائد پابندیاں، اس کی دفاعی حکمتِ عملی اور اس کا علاقائی کردار سب بحث کا حصہ ہیں، مگر ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایران خود مختاری کے اپنے تصور پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے تیل، گیس یا اسٹریٹیجک محلِ وقوع پر مکمل اختیار برقرار رکھنے کی کوشش کی، وہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنے۔ ایران، عراق، لیبیا، شام، وینزویلا اور یوکرین کے تجربات مختلف ضرور ہیں، مگر ان سب میں بیرونی مفادات کی مداخلت ایک مشترک عنصر کے طور پر دکھائی دیتی ہے۔ توانائی کے ذخائر اور جغرافیہ آج بھی عالمی سیاست کے بنیادی محرک ہیں۔
چین اور امریکہ کے اپنے اپنے سٹریٹیجک مفادات ہیں۔ بیجنگ توانائی کے محفوظ راستوں اور تجارتی تسلسل کا خواہاں ہے، جبکہ واشنگٹن اپنی عالمی عسکری و مالیاتی برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس وسیع تر مقابلے میں اسرائیل کا خوف اور اس کی جارحانہ حکمتِ عملی بھی ایک مستقل تناؤ کو جنم دیتی ہے۔ خطہ اس وقت کسی نئی تقسیم یا بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایران اور عرب ممالک کے درمیان کھلی محاذ آرائی نہ صرف توانائی کی عالمی ترسیل کو متاثر کرے گی بلکہ عالمی منڈیوں کو بھی ہلا دے گی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ریاست اس بڑھتی ہوئی کشیدگی میں تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہیں پاکستان کا ممکنہ مصالحتی کردار سامنے آتا ہے۔ پاکستان ایک منفرد پوزیشن رکھتا ہے۔ ایک طرف اس کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط ایران سے ہیں، تو دوسری جانب اس کے معاشی اور سفارتی تعلقات عرب دنیا خصوصاً خلیجی ریاستوں سے انتہائی مضبوط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی محنت کش خلیجی ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت میں زرمبادلہ کا اہم حصہ بھیج رہے ہیں۔ اسی طرح ایران کے ساتھ سرحدی ہمسائیگی، توانائی کے امکانات اور تاریخی روابط پاکستان کو ایک قدرتی پل بناتے ہیں۔ یہ توازن پاکستان کو ایک ایسے ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے جو دونوں فریقین کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے۔
تاہم مؤثر مصالحتی کردار محض خواہش سے ادا نہیں ہوتا، اس کے لیے حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں واضح توازن اور غیر جانب داری کو برقرار رکھنا ہوگا۔ کسی ایک فریق کے بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے اسے اصولی موقف اختیار کرنا ہوگا کہ خطے میں امن، خود مختاری کا احترام اور اقتصادی استحکام سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر بیک چینل رابطوں کو فعال کرنا چاہیے، اعتماد سازی کے اقدامات کی تجاویز دینی چاہئیں اور ایسے فورمز مہیا کرنے چاہئیں جہاں ایران اور عرب ممالک کے نمائندے غیر رسمی ماحول میں بات چیت کر سکیں۔
دوسرا اہم پہلو معاشی سفارت کاری ہے۔ پاکستان مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی تجویز دے سکتا ہے جن میں ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستیں شامل ہوں۔ توانائی کے شعبے میں علاقائی تعاون، بجلی اور گیس کی تجارت، بندرگاہوں اور ٹرانزٹ روٹس کا اشتراک ایسے عملی اقدامات ہیں جو باہمی مفاد کو تنازعہ پر فوقیت دے سکتے ہیں۔ جب ریاستوں کے درمیان اقتصادی مفادات جڑ جاتے ہیں تو جنگ کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
تیسرا عنصر مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی کا فروغ ہے۔ فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینا بیرونی طاقتوں کے لیے آسان راستہ ہوتا ہے۔ پاکستان کو داخلی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ خطے کو بھی یہی پیغام دے سکے کہ اختلاف کے باوجود بقائے باہمی ممکن ہے۔ اگر پاکستان اپنے معاشرے میں اتحاد اور برداشت کی مثال قائم کرے تو اس کی سفارتی ساکھ بھی مضبوط ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے داخلی استحکام پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ معاشی کمزوری یا سیاسی عدم استحکام کسی بھی مصالحتی کردار کو کمزور کر دیتا ہے۔ مضبوط معیشت، شفاف حکمرانی اور داخلی اتحاد پاکستان کی سفارتی قوت میں اضافہ کریں گے۔ ایک ایسا ملک جو خود بحرانوں میں گھرا ہو، دوسروں کے بحران حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ لہٰذا قومی یکجہتی، اقتصادی اصلاحات اور ادارہ جاتی ہم آہنگی اس کردار کی بنیادی شرط ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کو متحرک سفارت کاری اختیار کرنی چاہیے۔ اسلامی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کو فعال بنانا، چین اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ مشاورت بڑھانا اور اقوامِ متحدہ میں متوازن مؤقف اختیار کرنا پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان خطے میں مکالمے کا داعی بن کر سامنے آئے تو وہ نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔
دنیا اس وقت طاقت کی سیاست کے ایک پیچیدہ مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایران اور عرب ممالک کے درمیان تصادم خطے کو ایک نئے بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے پاس ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ محض تماشائی نہ بنے بلکہ ایک فعال، ذمہ دار اور مؤثر مصالحت کار کے طور پر کردار ادا کرے۔ امن کی راہ مشکل ضرور ہوتی ہے، مگر یہی راستہ پائیدار استحکام کی ضمانت ہے۔ اگر پاکستان توازن، حکمت اور جرأت کے ساتھ آگے بڑھے تو وہ نہ صرف خطے کو ایک ممکنہ تباہی سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ خود بھی ایک باوقار اور بااثر سفارتی قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

