Thursday, 02 December 2021
  1.  Home/
  2. Asif Mehmood/
  3. Ahsen Iqbal Sahib Ki Khidmat Mein

Ahsen Iqbal Sahib Ki Khidmat Mein

کلبھوشن یادیو پر لکھے گئے کالم پر احسن اقبال صاحب کا موقف موصول ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:" میں نے آپ کا کالم پڑھا اور حیرت زدہ رہ گیا کہ آپ جیسے کالم نویس سے یہ بات کیسے پوشیدہ ہے کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے کنونشن میں شامل ہے۔ پاکستان کے پاس اس کیس سے فرار کی آپشن نہیں تھی وگرنہ یکطرفہ فیصلہ آ سکتا تھا جو زیادہ خطرناک ہو سکتا تھا۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس مقدمہ کے جملہ معاملات ان قوتوں کی نگرانی میں کیے گئے جنہیں آپ مقتدرہ قوت لکھتے ہیں۔ لہذا مسلم لیگ ن پر آپ کی تنقید بلاجواز ہے"۔

پورے احترام کے ساتھ مجھے یہ کہنا ہے کہ احسن اقبال صاحب کا استدلال بے بنیاد ہے اور بین الاقوامی قانون سے بالکل متصادم ہے۔ جس مغالطے نے جناب احسن اقبال کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے وہ مغالطہ یقینا پوری مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی لاحق ہو گا اور امکان موجود ہے کہ عوامی سطح پر انٹر نیشنل لاء کے بارے یہی نقص فہم موجود ہو گا۔ اس لیے ضروری ہے اس پر بات کی جائے تا کہ معاملہ اپنے سارے سیاق و سباق کے ساتھ واضح ہو کر سامنے آ سکے۔

احسن اقبال صاحب کے مقدمے میں دو قانونی دلیلیں پیش کی گئی ہیں۔ اول: پاکستان کے پاس مقدمے سے الگ ہونے کا کوئی آپشن نہ تھا۔ دوم: اگر پاکستان اس مقدمے سے لاتعلق رہتا تو عدالت یکطرفہ فیصلہ سنا دیتی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ احسن اقبال صاحب علمی پس منظر رکھتے ہیں البتہ قانون ان کا میدان نہیں۔ یقینا یہ اس وقت کی قانونی ٹیم کا موقف ہو گا جو کابینہ کے سامنے رکھا گیا ہو گا یا کم از کم اس وقت حکومت یہی سوچتی ہو گی جس کا اب احسن اقبال ابلاغ کر رہے ہیں۔ ریاست کے فیصلے اگر اس طرح کے نقص فہم کی بنیاد پر ہوتے رہے ہوں تو یہ چیز بہت پریشان کن ہے۔

یہ درست ہے کہ پاکستان عالمی عدالت کے کنونشن (سٹیچیوٹ آف آئی سی جے) میں شامل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے لازمی حق سماعت کو تسلیم کر لیا ہے۔ عالمی عدالت انصاف کا ذکر تو اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود ہے۔ اور اس چارٹر پر تو سب نے دستخط کر رکھے ہیں۔ کنونشن کا مقام و مرتبہ چارٹر سے زیادہ تو نہیں ہے۔ یہ تو محض چارٹر میں دیے گئے اصول کی عملی شکل ہے۔ جو ملک چارٹر سے متفق ہے وہ اس پر بھی دستخط کر دیتا ہے۔ اس سے ہر گز یہ مراد نہیں ہے کہ اب ہر معاملے میں عالمی عدالت انصاف کے حضور پیش ہونا لازم ہے۔

عالمی عدالت انصاف کے حق سماعت کے بارے میں یہ طے شدہ بات ہے کہ اس کی Binding Jurisdiction اس وقت تک نہیں ہے جب تک کہ فریقین اس کو مقدمے کی نوعیت دیکھ کر تسلیم نہ کر لیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس عدالت پر سب سے بڑی تنقید ہی یہی کی جاتی ہے کہ کوئی ملک اس کی کارروائی کا حصہ نہ بنے تو یہ اسے ز بردستی کارروائی میں طلب نہیں کر سکتی۔ اس لیے پاکستان کے پاس یہ حق موجود تھا کہ جب کلبھوشن کا مقدمہ بھارت اس عدالت میں لے گیا تھا تو پاکستان اس عدالت کا حق سماعت ماننے سے انکار کر دیتا اور کارروائی کا حصہ نہ بنتا۔

احسن اقبال صاحب کی یہ بات بھی غلط ہے کہ اگر پاکستان مقدمے کی کارروائی کا حصہ نہ بنتا تو یک طرفہ فیصلہ آ جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عدالت کے پاس اس کا کوئی اختیار نہیں۔ نکارا گوا کیس میں امریکہ نے اس کا حق سماعت تسلیم کیا اور مقدمہ شروع ہو گیا۔ اس کے بعد مقدمے کے دوران امریکہ اس سے الگ ہو گیا تو عدالت مزید کارروائی چلا ہی نہ سکی۔ یک طرفہ فیصلے آ سکتے تو جب ہمارا نیوی کا جہاز بھارت نے گرایا تھا اور ہمارے سولہ لوگ شہید ہوئے تھے ا ور ہم اسی عدالت میں گئے تھے تو بھارت کے خلاف یک طرفہ فیصلہ کیوں نہ آ سکا؟ عدالت تو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت بنی ہے اور بھارت اقوام متحدہ کا رکن ہے اگر فرارکا آپشن موجود نہیں تھا تو بھارت نے کیسے کہہ دیا کہ اس معاملے میں عالمی عدالت انصاف کو سماعت کا کوئی حق نہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ احسن اقبال صاحب انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس کو انٹر نیشنل کرمنل کورٹ سمجھ بیٹھے ہیں اور الجھن کا شکار ہو گئے ہیں؟ تاہم اگر ایسا نہیں تو احسن اقبال صاحب ہم طالب علموں کی رہنمائی کرد یں کہ آج تک بائنڈنگ جورسڈکشن میں کتنے ممالک کو جبری طلب کیا گیا اور کتنوں کے خلاف عدم حاضری پر یکطرفہ فیصلے آئے؟ جو کام دنیا میں آج تک اس عدالت نے نہیں کیا ہم کیسے اسے امکانی " حقیقت" سمجھ کر ڈر گئے؟

یہ بھی یاد رہے کہ عالمی عدالت کے قانون کے مطابق فریقین مقدمہ کا بھی ایک ایک جج اس بنچ کا حصہ ہوتا ہے۔ جب فریق راضی ہی نہ ہو تو بنچ ہی ادھورا ہے۔ اور فریق امریکہ کے نکاراگوا کیس کی طرح درمیان میں کیس سے الگ ہو جائے اور اس ملک کا جج بھی چلا جائے تو بنچ اس صورت میں بھی ادھورا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری رضامندی کے بعد جب ہماری طرف سے جسٹس تصدق جیلانی صاحب بنچ کا حصہ بنے تو اختلافی نوٹ میں وہ Consent جیسے اہم نکتے کو اٹھا ہی نہ سکے کیونکہ ر ضامندی تو ہم پہلے ہی دے چکے تھے۔

اہم بات یہ ہے کہ چند سال پہلے ملیحہ لودھی صاحبہ نے عالمی عدالت انصاف میں ایک ڈیکلیریشن جمع کرایا تھا جس میں ہم نے لکھا ہوا ہے کہ ہم اپنی سکیورٹی اور دفاع کے معاملے میں اس عدالت کے حق سماعت کو ماننے کے پابند نہیں ہیں۔ چنانچہ ہمیں یہ حق حاصل تھا کہ ہم کلبھوشن کیس کا حصہ ہی نہ بنتے اور یہ حق بھی تھا کہ درمیان میں اس سے الگ ہو جاتے۔ لیکن ہم نے یہ نکتہ اٹھایا ہی نہیں۔

احسن اقبال نے اپنے فیصلے کے حق میں دلائل دینے کے بعد وہی کام کر دیا جو اہل سیاست اپنی غلطیوں کے دفاع میں اکثر کرتے ہیں کہ یہ تو مقتدر حلقوں نے کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ انہوں نے کیا تھا تو اس کے حق میں آپ کیوں دلائل دے رہے ہیں؟ یہ کیا بات ہوئی کہ ایٹمی دھماکے تو آپ نے کیے ہیں لیکن کلبھوشن کیس میں غلطی مقتدرہ حلقوں نے کی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ مقتدرہ حلقوں نے کیا تھا تو حکومت کا موقف کیا اس سے مختلف تھا؟ آپ تو آج بھی اس فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں۔ اور دفاع بھی ان دلائل سے کر رہے ہیں جن کا بین الاقوامی قانون کی روشنی میں کوئی اعتبار ہے نہ کوئی وزن۔ یہ خلط مبحث کیوں؟

میں نے احسن اقبال صاحب کا موقف پڑھا اور حیرت زدہ رہ گیا کہ ان کا شمار تو مسلم لیگ ن کے چند صاحبان علم و فکر میں ہوتا ہے۔ اگر کلبھوشن کیس میں بین الاقوامی قانون کی نزاکتوں سے ان جیسے آدمی کی بے خبری کا یہ عالم ہے تو باقیوں کا کیا حال ہو گا۔