ہائے اس شخص کی جانب سے خبر آتی نہیں

ثمینہ سیدایک باوقار زندگی گزارتی ہوئی اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، ان کے جانے سے ان کے بچے ہی نہیں، پوری ادبی دنیا اداس اور دکھی ہے۔ ایک ایسی شائستہ روح جس کے مزاج، گفتگو اور قلم سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچی، وہ ایک ہنس مکھ، شفاف اورسلجھی ہوئی دوست تھیں، ان کے زندگی سے لبریز قہقہے اور ان کے لہجے کی چاشنی محفل کو معطر کر دیا کرتی، آج وہ محافل اداس ہوگئیں، وہ قہقہے روٹھ گئے جن سے زندگی کی مہک آتی تھی یعنی ہماری ثمینہ سید چل بسیں۔
ثمینہ سید ایک Crowd Puller Lady تھیں، وہ جس محفل میں ہوتیں، پھر وہی ہوتیں، ان کی باتیں اور ان کی شاعری اس محفل کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی، لوگ ان کو پورے انہماک سے سنتے تھے، ان کی مقناطیسی شخصیت اور نرم مزاجی کا ایک زمانہ معترف ہے، انھوں نے اپنی کامیابیوں کو اپنی طاقت بنایا، خود کو کہیں میں کمزور نہیں ہونے دیا، وہ ایک باہمت اور پرعزم خاتون تھیں اور اس کا اعتراف ان کے دشمن بھی کرتے ہیں۔
دشمن سے یاد آیا، ثمینہ سید نے ہمیشہ محبتیں بانٹیں، ہمیشہ لوگوں کو آپس میں جوڑا، دوستوں میں تھی یا گھر والوں میں، پیار کا درس دیتی رہیں۔ خدا بہترین منصوبہ ساز ہے، اس نے ثمینہ سید کو زندگی میں بھی اور بعد از مرگ بھی جس عزت سے نوازا ہے، یہ کم قلم کاروں کے حصے میں آتی ہے۔ ادبی دنیا کی منافقت سے ثمینہ کبھی کبھی دکھی ہو جایا کرتیں، ایک دن مجھے کہنے لگی کہ "میں نے اپنے درجنوں سینئرز اور معاصرین کے لیے لکھا ہے مگر مجھے ایک بات کا افسو س ہے کہ میرے لیے بہت کم لکھا گیا ہے"۔ بقول ثمینہ سید:
دشمنوں کے لشکر میں کس قدر منافق ہیں
ورنہ یوں مقابل تو اتنے سر نہیں ہوتے
انھیں کون بتاتا کہ ہمارے ہاں پیش لفظ اور دیباچے شاعری پر نہیں، تعلقات پر لکھے جاتے ہیں اور ایسے دیباچے لکھنے اور لکھوانے والے، دونوں بونے ہوتے ہیں، ثمینہ سید تو ایسی نہیں تھی، وہ تو بلا کی تخلیق کار تھیں لہٰذا ان کے لیے چاہے کم لکھا گیا مگر جتنا لکھا گیا، وہ ہر لحاظ سے شاندار اور جاندار ہے، جیسی وہ خود جینوئن شاعرہ تھیں، ان پر لکھے گئے مضامین بھی جینوئن لوگوں کے ہیں۔ بقول ثمینہ سید:
میرے ہم عصر دعائوں میں مجھے یاد رکھیں
مر کے زندہ رہوں میں ایسی فنا چاہتی ہوں
ثمینہ سیدنے آخری دو سال شدید علالت میں گزارے، ایک قدم گھر ہوتا تھا تو دوسرا ہسپتال کے کسی ایمرجنسی وارڈ میں، ہسپتال اور گھر کی کشمکش میں کٹنے والی زندگی نے انھیں بہت تکلیف میں رکھا مگر اس تکلیف کو انھوں نے ہمیشہ اپنے اندر رکھا، کبھی اپنے پیاروں کو اپنی تکلیف میں شامل نہیں کیا، ان سے جب بھی بات ہوتی، وہ مسکرا دیتی، ہم جانتے تھے کہ ثمینہ سید کی یہ مسکراہٹ اب زندگی سے لبریز نہیں رہی مگر پھر بھی ہم اس کی ہنسی میں ہنس دیتے، اس کے قہقہے کے ساتھ قہقہہ لگا دیتے، اس کی خوشی کا سامان کرتے رہتے، ہمیں ہنسی دیتی، خوشیاں دیتی، قہقہے دیتی خود اداس دنیا کے سفر پر نکل پڑیں، مجھے پورا یقین ہے کہ بعد از مرگ بھی مسکرا رہی ہوں گی، انھوں نے خدائے مہربان سے کہا ہوگا "اے رب ذوالجلال! میں نے تیری طرف سے ملنے والی بیماری کو بھی خوشی سے کاٹا، کبھی تیری ناشکری نہیں کی، کبھی تیرے لوگوں کا دل نہیں دکھایا، کبھی خود پر افسردگی طاری نہیں کی، جتنی بڑی بھی آزمائش ملی، میں نے مسکرا کر تیرا شکر ادا کیا، اب تو مجھے بخش دے"۔ وہ ضرور سرخرو ہوں گی۔ بقول ثمینہ سید:
کر لیا ذات کے حجرے میں مقید خود کو لے
جب سے دنیا لگی بازار، ثمینہ سید
ایک بس اس کی ہی رحمت پہ یقیں ہے ورنہ
ہوں میں سرتاپا گنہ گار، ثمینہ سید
ثمینہ سید کے بارے میں یہ بات برے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ ادبی سیاست سے دور تھیں یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں زندگی سے بھری ہوئی ہیں، بالکل ایسے جیسے ان کے اشعار اور قہقہے زندگی سے لبریز تھے۔ آپ اس کے افسانوے مجموعے "زن زندگی"کا مطالعہ کریں تو ہر دوسری کہانی آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دے گی، ثمینہ کی زندگی کا مشاہدہ، ان کی کہانیوں میں جھلکتا ہے جیسے ان کی کہانی"بھاگ بھری"، ہے یا پھر"گواہی" اور "بندھن کا بوجھ"۔ سلمی اعوان نے ثمینہ سید کے لیے درست ہی کہا تھا "افسانہ ایک سحر ہے جو لکھنے والے کی جادوگری میں مہارت اور پڑھنے والے کو تادیر گرفت میں رکھتا ہے، میں ثمینہ کو اس فن میں ماہر محسوس کرتی ہوں"۔
ثمینہ سید کی کہانیاں بلاشبہ زندگی کی تلخیوں سے نڈھال ہیں اور ثمینہ کا قاری ان کہانیوں کی گرفت سے تادیر نہیں نکل پاتا۔ ثمینہ کی شاعری ہو یا پھر کہانیاں اور مضامین، ان سب کی بنیادی خوبی یہی ہے کہ اس میں زندگی کو دیکھنے کا ایک نیاز زاویہ ملتا ہے، یہ بڑی بات ہے کہ کوئی تحریر آپ کے انداز فکر کو بدل دے۔ بانو قدسیہ نے درست فرمایا تھا "ثمینہ سید کی کہانیوں میں ارتقا ہے جمود نہیں "، اسی ارتقاء نے ثمینہ کو مسلسل متحرک رکھا۔
دن بھی تاریک ہوا شب کی سحر آتی نہیں
اپنی آنکھوں سے میں خود کو بھی نظر آتی نہیں
ڈاکیا آخری خط لے کے چلا آئے کبھی
ہائے اس شخص کی جانب سے خبر آتی نہیں

