Tuesday, 31 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zubair Hafeez
  4. Islam Ki Siasi Tabeer

Islam Ki Siasi Tabeer

اسلام کی سیاسی تعبیر

مسلم دنیا کو اسلام کی سیاسی تعبیر کی ضرورت کیونکر پڑی۔۔ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔۔ اسلام کی سیاسی تعبیر ایک خاص طرح کے سیاسی و سماجی حالات کی پیدوار تھی۔۔ یہ حالات بیسویں صدی کے شروع میں مسلم دنیا کے جس جس خطے میں پیدا ہوئے وہاں سے سیاسی اسلام کی داعی تحریکیں ایک آندھی کی طرح اٹھیں اور اسلام کی تمام روایتی تعبیروں کو اپنے ساتھ اڑا کر لے گئیں مگر جب آندھی چھٹی تو قدیم اور فرسودہ تعبیروں کے آثار تو پھر بھی موجود تھے مگر سیاسی تعبیر ریت کے تنکوں کی مانند بکھر کر ہوا میں ہی غائب ہوگئی۔۔

بیسیوں صدی کے اوائل مسلمانوں کے سیاسی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ کا دور تھا۔۔ ہند میں مغل کھڈے لائن لگا دئیے گئے اور وارثانِ سلطنت مغلیہ کے سر طشت میں پرو کر ہند کے فرمانروا کو پیش کیئے جا چکے تھے۔۔ ادھر مرد بیمار سلطنت عثمانیہ فرنگی کنیولے پر لگا تھا۔۔ مشرق وسطی میں بھی حالاتِ خاصے ماڑے تھے۔۔ عرب سلطنت عثمانیہ کے آگے آنکھوں کو زمین کے بجائے آسمان پر لگائے بیٹھے تھی۔۔ خلافت کی بوڑھی ہڈیاں عربوں کو لگام دینے سے قاصر تھیں۔۔ عرب بھی خلافت کے مذہبی تشخص سے نکل کر قومیتی تشخص بنانے کی تیاری میں تھے۔۔

ادھر برصغیر میں بھی مغلوں کے بعد سے مسلمان نصف صدی تک تو کلچرل شاک سے باہر نہیں نکلے تھے۔۔ انھیں لگتا تھا۔۔ ابھی دہلی کے لال قلعے پر فضائے بدر پیدا ہونے والی ہے اور فرشتے قطار اندر قطار اتر کر ان کی نصرت کرنے والے ہیں۔۔ سرسید احمد خان کبھی کبھی ان مسلمانوں کو بیچ بیج میں اٹھانے کے لیے الارم لگا دیتے جو اکثر کارگر نہ ہوتا۔۔

ادھر ابوالکلام آزاد کی ہجرت تحریک، تحریک خلافت بھی ناکام ہوگئیں۔۔ مغلوں کے بعد مسلمانان ہند کا آخری سیاسی سہارا سلطنت عثمانیہ ملاح سمیت غرقاب ہوگیا۔۔

یہ وقت تقاضا کر رہا تھا ایک نئی تعبیر اسلام کا جو کم ازکم حقیقت میں نہ سہی کم از کم تصوراتی دنیا میں مسلمانوں کو ایک سیاسی سہارا دے سکے۔۔ پھر سہارے کی تعمیر و ترقی کے لیئے سریا سمینٹ کا انتظام شروع ہوا۔۔ شٹرنگ مصر کے امام حسن البنا نے باندھی۔۔ نظریاتی سریا سمینٹ کا انتظام ہند کے سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے کیا۔۔ پلستر سید قطب شہید نے کیا اور باقی کا جو رنگ روغن رہ گیا تھا اس کی کسر ایران کے امام خمینی نے پوری کر دی۔۔

سیاسی اسلام کے یہ چار بڑے نام دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھتے تھے مگر سب کو سیاسی حالات ایک جیسے ملے جن کی بنیاد پر انھوں نے سیاسی اسلام کی تحریکیں چلائیں۔۔ یہ سب تحریکیں نصوص اسلام سے ذیادہ اپنے دور کے حالات کی پیدوار تھیں۔۔

اور یہ بلکل فطری بات تھی جب بھی ایک بڑا نظام ٹوٹتا ہے اس کے نتیجے میں چند تحریکیں اس نظام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے ابھرتی ہیں۔۔ بعض اوقات یہ تحریکیں عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے مذھب کا سہارا لیتی ہیں جیسے امام حسن البنا نے لیا، یا نسلیت کا سہارا لیتی ہیں۔۔ جیسے علوی تحریک نے لیا یا سلطنت فارس کی فتح کے بعد ایرانیوں کی زمین دوز تحریکوں نے کیا جس کا ایک نمائندہ ابو لولو فیروز تھا۔۔ ایران کی تہذیبی تاثیر ہمیشہ سے ہی بہت مضبوط تھی حضرت عمر رض اس تاثیر کو بہت باریکی سے دیکھتے تھے۔۔

اس کی ایک مثال سیدنا عمر رض کا ایک قول بھی ہے جو الکامل فی التاریخ ﷺ 363 جلد 2 میں درج ہے۔۔ " کاش ہمارے اور فارس کے درمیان آگ کا پہاڑ حائل ہوتا نہ ہم ان تک پہنچ سکتے اور نہ وہ ہم تک، مجھے مال غنیمت سے زیادہ مسلمانوں کی سلامتی عزیز ہے"۔۔

کیا دور اندیشی تھی۔۔ ایک حکمران کی نظریں پانچ سو سال بعد کے اثرات بھی دیکھتی ہیں۔۔ نگار سجاد ظہیر نے اپنی کتاب "عرب اور موالی" میں اس موضوع پر بہت ہی تفصیلی اور نادر بحث کی ہے۔۔

حضرت عمر رض غیر قوم کے لوگوں کا عربوں کے ساتھ زیادہ confrontation پسند نہ کرتے۔۔ اسی وجہ سے انھوں سیدنا امیر معاویہ کو بھی بحری جنگوں کی اجازت نہ دی۔۔

نگار سجاد صاحبہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں۔۔ "کوفہ و بصرہ شہر بسانے کا مقصد بھی یہی تھا" یعنی غیر اقوام کی وسطی حجاز سے تہذیبی کمیونیکیشن کم سے کم ہو۔۔

یا پھر یہ تحریکیں وطنیت کا سہارا لے کر پرانے نظام کی جگہ ایک نئے نظام پر لوگوں کو جمع کرتی ہیں جیسے کمال اتاترک نے کیا۔۔

فی الحال میں صرف مذہب کا سہارا لینے والی تحریکوں کی کی بات کروں گا جو نے بیسیوں صدی کے شروع میں سیاسی اسلام کی داعی بنیں۔۔ ان کے تحریکوں کے بانیان نے عوام کو بتایا کہ اسلام صرف مسجدوں تک محدود ہونے نہیں آیا اس کا اپنا سیاسی، معاشی و عسکری نظام بھی ہے۔۔ یہ مسجد سے لے کر پارلیمنٹ ہر جگہ نافذ العمل ہے۔۔ مذہب کو سیاست سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔۔ ان کا تنظیمی ڈھانچہ بھی خاصا دلچسپ تھا۔۔ چاہے جماعت اسلامی ہو، مصر کی اخوان المسلمین ان کا تنظیمی ڈھانچہ سوشلسٹ تحریکوں سے متاثر نظر آتا ہے۔۔

اولیور رائے نے اپنی failure of political Islam میں اسی جانب نشاندھی کرکے میرے مفروضے کو مزید تقویت دی۔۔

اولیور راوئے کا کہنا ہے سیاسی اسلام کی یہ تحریکیں کالج یونیورسٹی میں چلنی والی ان سوشلسٹ پارٹیوں سے متاثر تھیں جن میں بھائی چارے کی بنیاد کامریڈ ازم تھا۔۔

آپ خود ہی دیکھ لیجیے، سید قطب شہید، مولانا مودودی، امام حسن البنا، ڈاکٹر اسرار احمد کوئی ایک بھی مدرسے کا فارغ التحصیل نہیں تھا۔۔ سب اپنے دور کے جدید تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ تھے۔۔ ان اداروں میں ضروری بات ہے سوشلزم کا بھی چرچا رہا ہوگا۔۔ کوئی شک نہیں نظریاتی طور پر نہ سہی تنظیمی نقش ان مسلم دماغوں پر ضرور پڑے ہوں گے۔۔

تحریکی تنظیم کی تو بات ہوگئی مگر اسلام کی سیاسی تعبیر کی غذا انھیں اپنے خطے کے سیاسی حالات نے مہیا کی۔۔ مغل رہے نہیں تھے، عثمانی بھی چل بسے تھے، ابوالکلام آزاد بھی تحریک ہجرت کے سٹنٹ کے بعد سے جواب دے گیے تھے، علی برداران کا چندہ بھی تحریک خلافت کی کشتی کو ساحل پر نہ پہنچا پایا۔۔

ایسے میں مولانا مودودی نے حیدرآباد دکن سے ہجرت کرکے پٹھان کوٹ میں تمبو قناتیں گاڑ لیں۔۔ سیاسی کشمکش جب لکھی تو مسلم لیگ اور پاکستان کو بھی خوب لتاڑا مگر جب پاکستان بن گیا تو اسی پاکستان میں آن بسے، اچھرا کی فضا راس آئی تو سیاسی اسلام تبلیغ بھی تندو تیزی آتی گئی۔۔

مصر میں بھی حالات ایسے ہی تھی۔۔ ترکوں کے سایے سے نکلنے کے بعد مصر بھی قومی تشخص کی جنگ لڑ رہا تھا۔۔ ایک تشخص قوم پرستی پر مبنی تھا جس کے داعی طہ حسین جیسے زرخیز دماغ تھے۔۔ جو مصر کی نظریاتی بنیاد مذھب سے الگ کر ادب الجاہلی اور شعر الجاہلی میں ڈھونڈ ریے اور دوسری جانب اس طبقے کی تلاش نے امام حسن البنا اور سید قطب جیسوں کی صفوں میں انتشار برپا کر دیا تھا۔۔ وہ مذہب کے پیرہن سے وطنیت کا کفن اتارنا چاہتے تھے۔۔ جس کا نتیجہ اخوان المسلمین کی شکل میں نکلا۔۔

ادھر ایران میں بھی کچھ ایسے ہی حالات تھے۔۔

ماڈرن ازم خواتین کو سکرٹس پہنانے کا نام نہیں اور نہ ہی لبرلزم اس چیز کا نام ہے کہ فرنگی پالیسیوں کو لوگوں پر نافذ کر دیا جائے بلکہ ماڈرن ازم بلکل ایک داخلی عمل ہے، ماڈرن ازم سماج کے اندر سے پھوٹتا ہے اسے دوسری اقوام سے ادھار لے کر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔۔ یہ بات ڈاکٹر علی شریعتی جیسے اعلی دماغ سمجھ گئے اور وہ انقلاب کی فضا کو تیار کر گئے مگر اسی فضا کو ہائی جیک امام خمینی نے کر دیا۔۔

آپ نے دیکھ لیا ہوگا اسلام کی سیاسی تعبیر مختلف خطوں میں یکساں سیاسی حالات کی پیدوار تھی یہ کیلکولیشن صرف بیسویں صدی کی تحریکوں پر ہی نہیں اپلائی ہوتی بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریک پر بھی نافذ ہو سکتی ہے۔۔ جنھوں اولین اس نظریے کی بنیاد رکھی۔۔ وہ بھی مغلوں کے سیاسی زوال اور مرہٹوں کی شورش سے رنجیدہ تھے کبھی ایک چارہ کرتے کبھی دوسرا یہاں تک احمد شاہ ابدالی کو دعوت مسیحائی دے ڈالی کہ وہ ہندوستان میں آکر مرہٹوں کا قلع قمع کرے۔۔ شاہ صاحب کے وہ خطوط پڑھنے لائق ہیں جس میں انھوں نے ایک بیرونی حملہ آور کو ہندوستان کے مالیاتی راز بھی دئیے۔۔

خیر ابدالی ہندوستان آیا تو ضرور مگر مرہٹوں کے ساتھ ساتھ بونس بھی مسلمانوں کو بھی رگڑا لگا گیا۔۔یہاں تک پنجاب کے مسلمان بھی یہ کہنے لگے۔۔

کھادا پیتا لاہے دا

باقی سب احمد شاہے دا

یہ کوئی قابل اعتراض بات بھی نہیں ہے اسلام کی سیاسی تعبیر کی اشاعت کے لیے تحریکیں کیوں اٹھیں۔۔ اس کی صرف ایک قابلِ قبول وجہ ہے اور وہ یہی کہ یہ سیاسی زوال کے زخم کھائی مسلم قوم کی نفسیاتی ڈیمانڈ پورا کرنے کے کام آتی ہیں۔۔

ایم جے اکبر نے اپنی کتاب Tinder box میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کو دی گاڈ فادر آف پاکستان کا دلنشین لقب دیا تھا۔۔ گاڈ فاڈر قوموں کے نفسیاتی زخموں پر مرہم رکھنے کے کام آتے ہیں چاہے مرہم تصوراتی ہی کیوں نہ ہو۔۔

Check Also

Kharg: Aik Jazeera, Aik Jang

By Muhammad Umar Shahzad