Sair Karni Hai, Chalein?
سیر کرنی ہے، چلیں؟

اگر آپ کسی بھی پاکستانی سے پوچھ لیں کہ میں کہیں گھومنے جانا چاہتا ہوں کوئی جگہ تجویز کر دو تو وہ آپ کو پہلی جست میں شمالی علاقہ جات میں سے کسی ایک جگہ کا نام لے کر بتائے گا کہ وہاں چلے جائیں۔ زیادہ تر امکانات یہی ہیں کہ وہ کہے گا کہ ناران، کاغان، مری یا ہنزہ چلے جاؤ گھومنے کا بہت مزہ آئے گا۔ ننانوے فیصد پاکستانیوں کے نزدیک گھومنے پھرنے یا سیر کرنے سے مراد آپ کا کسی دشوار گزار پہاڑی علاقے اور خاص کر ناران، کاغان، مری یا "کشمیر" جانا ہے اس سے بڑھ کر آپ کہیں جا ہی نہیں سکتے ہیں۔
اس کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑی وجہ ہمارے شہروں کی تعمیر میں کسی قسم کے منصوبے کا شامل نا ہونا ہے اور اب تک کسی بھی حکومتی ادارے نے اس بات پر توجہ نہیں دی ہے اور دوسری سب سے بڑی وجہ شمالی علاقہ جات سے ہٹ کر کسی اور علاقے کی تشہیر نا کرنا بھی ہے۔
عام طور پر ہوتا یہی ہے کہ کسی کو ہفتے کی چھٹیاں ملتی ہیں جو کہ زیادہ تر عیدین، جشن آزادی یا ابھی آنیوالی کرسمس کی چھٹیاں ہیں تو لوگ اچانک سے گھومنے کا منصوبہ بناتے ہیں اور مکمل تحقیق نا ہونے کی وجہ سے گھوم گھما کر وہی مری، ایبٹ آباد اور یہاں سے ہوتے ہوئے ہنزہ تک چلے جاتے ہیں اور اسی پٹی سے باہر کبھی نہیں نکل پاتے ہیں۔ کیونکہ دوبارہ ایسے کہیں جانے کا موقعہ انہیں چار یا پانچ سال بعد ہی ملتا ہے۔
اگر ہم پنجاب کی بات کریں تو پنجاب میں مری، نتھیا گلی سے ہٹ کر بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں کہ جن کی خوبصورتی کو داد دئیے بنا آپ رہ نہیں پاتے ہیں۔ جیسا کہ اگر آپ راولپنڈی سے نکلتے ہی چکوال جانے والی سڑک پکڑیں تو یہ دو رویہ سڑک اتنے خوبصورت سبزوں سے گزرتی ہے کہ بندہ کیا ہی کہے۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی اور درخت دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کہیں چھوٹی موٹی پہاڑیوں سے گزرتی یہ سڑک آپ کو سون وادی کے آغاز یا پھر کلر کہار لے جاتی ہے۔ یہاں تک آتے ہوئے آپ کو نا صرف میدانی علاقے دیکھنے کو ملتے ہیں بلکہ چھوٹے موٹے پہاڑی سلسلے بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ انہی پہاڑی سلسلوں میں canyons of chakwal بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جن کی مشابہت ہو بہو امریکہ اور بلوچستان کے canyons سے ملتی ہے اور اگر روشنی اچھی ہو تو انسٹاگرام کے لئے کافی تصاویر لی جا سکتی ہیں۔
آج سے چھ سال پہلے جب چکوال اور کلر کہار سے گزر ہو رہا تھا تو یہ علاقے دسمبر میں بھی نیم ہریالی سے بھرے اور خوبصورت ترین لگ رہے تھے۔ میرے ساتھ تو ایک حسب معمول دھوکہ ہوا تھا کہ گوگل کے مطابق یہاں شہر میں ایک جھیل بھی ہے اور میں خیالوں میں اُس جھیل کو کافی خوبصورت سمجھ کر آیا تھا لیکن وہ کائی سے بھرے گندے جوہڑ کا عکس پیش کر رہی تھی اور یہ انتظامی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ وہیں پر کلر کہار میں تخت بابری بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے جہاں سے آپ خوبصورت جھیل اور شہر کا منظر بھی دیکھ سکتے ہیں۔
لیکن اگر آپ کلر کہار سے آگے کی طرف بڑھیں تو آپ کے پاس جگہیں پسند کرنے کے انتخاب بڑھ جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں سے آپ خوشاب جانا چاہتے ہیں، یا پھر نوشہرہ جو کہ سکیسر کا مرکز ہے وہاں جانا چاہتے ہیں یا پھر کٹاس راج سے ہوتے ہوئے آپ کھیوڑہ جانا چاہتے ہیں۔
آپ کوئی سا بھی راستہ چنیں ہر راستے میں آپ کو خوب صورت میدان اور پھر ان میدانوں میں چھوٹے چھوٹے سے پہاڑی سلسلے دیکھنے کو ملیں گے جو کہ شمالی علاقہ جات کے بڑے پہاڑوں کے مقابلے میں نیا منظر پیش کرتے ہیں اور اگر جھیلوں کی بات کریں تو چھوٹی موٹی جھیلوں سے لے کر آپ یہاں بڑی جھیلوں جیسا کہ اوچھالی جھیل، کھبیکی جھیل اور جھلر جھیل سمیت بہت سی جھیلیں مل سکتی ہیں۔ ان میں سب سے خوبصورت اول الذکر اوچھالی اور کھبیکی جھیل ہیں جو کہ آپ کو کسی رومانوی دیومالائی منظر میں لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ان جھیلوں میں آج کل سائبیریا سے ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کا مسکن بھی مل سکتا ہے اور شائد اس وجہ سے چند مخصوص مقامات پر یہ جھیلیں بند ملیں۔ یہاں آپ ہلکی پھلکی سے لے کر پیچیدہ تک ہر طرح کی ہائیکنگ اور ٹریکنگ کر سکتے ہیں۔
یہ تو ہو گئے نیم پہاڑی سلسلے، اب اگر میدانی علاقوں کی بات کریں جو کہ مجھے خوبصورت لگے ہیں ان میں سب سے پہلے تو شکرگڑھ کا علاقہ آتا ہے۔ اگر آپ لاہور سے آ رہے ہیں تو آپ کو چک امرو یا پھر کوٹ نیناں کا نقشہ لگانا چاہیے۔ پھر سے وہی گلہ ہوگا کہ یہاں سیاحتی مقامات ہیں لیکن ان پر کام نا ہونے کے برابر ہے۔ چک امرو اور کوٹ نیناں سے آپ ہندوستان سے پنجاب میں داخل ہوتا ہوا راوی دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں بیٹھنے کا بھی انتظام ہے لیکن وہ کھیت کھلیانوں جیسا انتظام ہے یعنی کہ کوئی کرسیاں یا بینچ نہیں ہیں بلکہ اپنی چٹائی ساتھ لانا ہوگی۔
یہاں سے آپ شکر گڑھ کے وسیع و عریض کھیت کھلیان اور انتہائی روایتی انداز میں پسماندہ گاؤں دیکھ کر آپ کرتار پور جا سکتے ہیں۔ وہاں جانے کا اگر خرچہ نہیں ہے تو کرتار پور سے ایک کلومیٹر پہلے ایک بند راوی کی طرف جاتا ہے۔ اُس کو صرف مقامی لوگ ہی ڈھونڈ سکتے ہیں اُس سے آپ سیدھا ایک ایسے میدان میں چلے جاتے ہیں جو کبھی ٹریننگ کیمپ تھا اور اب وہاں لوگ پکنک منانے آتے ہیں یا پھر انتظامی نااہلی کی وجہ سے گجر بھینسوں کا گوبر پھیلانے آتے ہیں۔ لیکن یہ میدان ایسا ہے کہ ایک طرف وسیع و عریض چراگاہ ہے جب کہ اس کے سامنے ہندوستان سے آتا ہوا راوی ہے اور قریب سے قریب آبادی بھی کئی کلو میٹر دور ہے جس کی وجہ سے کافی خاموشی دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ میری بہت خواہش ہے کہ کبھی یہاں پارک بنے۔
یہاں سے آپ واپس شہر جاتے ہوئے کھیت کھلیان دیکھتے ہوئے جائیں گے اور اگر کوئی واقف مل جائے تو آپ ان کے ڈیرے پر گنے کا رس اور گڑ بھی کھانے بیٹھ سکتے ہیں۔
یہاں سے اگر آپ دوسری طرف سیالکوٹ کی طرف جائیں تو آپ کا انتظار کئی نہریں کریں گی۔ ان نہروں میں سب سے مشہور بی آر بی ہے جس کو مقامی لوگ ڈھلی نہر کہتے ہیں۔ یہ نہر مشہور ہے کہ ہر سال ایک بندہ "کھا" جاتی ہے۔ اس نہر پر کئی مقام ایسے ہیں جہاں نارووال کے مشہور پکوڑے اور خاص کر مچھلی والے پکوڑے مل سکتے ہیں۔
وہیں پر سیالکوٹ میں کئی علاقے گھومنے لائق ہیں جیسا کہ ہیڈ مرالہ، ہیڈ سلانوالی اور ہیڈ بمبانوالہ، ان تمام براجوں پر نا صرف دریا اور مصنوعی جھیلیں دیکھنے کو ملیں گی بلکہ آپ کو پکوڑے اور قلفیاں بھی ملیں گی۔ ایسے ہی گجرانوالہ میں بھی پرانے ہیڈ ہیں۔ وہیں پر کئی دیہات اتنے پرانے ہیں کہ ان کی تاریخ گورا دور سے بھی پہلے کی ہے۔ جیسا کہ ایک شہر قلعہ سوبھا سنگھ تھا جس کو مختون کرکے اب احمد آباد کہا جاتا ہے۔ وہ دیہی علاقہ کئی پرانے گھر رکھتا ہے اور پاس ہی ڈیک کا نالہ جو کہ خوبصورت لگتا ہے یا کم سے کم مجھے لگتا تھا۔
سیالکوٹ سے گجرات چلیں تو آپ ایک ایسے کشمیر جا سکتے ہیں جو اتنا مشہور نہیں لیکن پرسکون ہے۔ یہ بھمبھر اور سماہنی کا علاقہ ہے۔ یہ علاقہ بھی نیم پہاڑی اور پہاڑی ہے۔ مطلب سیالکوٹ سے آپ ایک گھنٹے میں کشمیر جا سکتے ہیں۔ کوئی ناران کاغان جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہاں سے جی ٹی روڈ پر اگر جائیں تو مجھے سب سے پسندیدہ جگہ ترکی ٹول پلازہ کے قریب والی لگتی ہے۔ تب چونکہ دنیا نہیں گھومی تھی تو یہ علاقہ مجھے موویز میں دیکھا گیا لاس اینجلس کی پہاڑیوں جیسا علاقہ لگتا تھا اور یہ دوبارہ سے واپس اسی چکوال کی طرف آ جاتا ہے۔
ان سے ہٹ کر اگر آپ لاہور سے فیصل آباد کی طرف جانا شروع کریں تو کئی میدانی علاقے ایسے ہیں جہاں آپ رک کر کتنی دیر دور لامتناہی کھیتوں کو دیکھ سکتے ہیں اور میرے نزدیک تو یہ بہت بڑی عیاشی ہے۔ بلکہ ایسی عیاشی نارووال کے ایک نواحی شہر بدوملہی میں بھی کرنے کو ملتی ہے۔ جہاں دو نہروں کے درمیان کچھ گاؤں ایسے ہیں جہاں آپ کو کئی کئی کلومیٹر تک محض سبز کھیت ہی نظر آ سکتے ہیں۔
لیکن مسئلہ وہی ہے کہ یہ علاقے سیاحتی ہونے کے باوجود سیاحتی نہیں بنائے گئے ہیں کیونکہ ہمارے محکمہ سیاحت کے مطابق بھی یہاں کون دیکھنے آ سکتا ہے۔ وہیں میرے جیسے کئی ٹھرکی آ سکتے ہیں اور جو اتنی لمبی تحریر پڑھ چکے ہیں وہ تو ضرور جائیں گے۔

