Tuesday, 13 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zaigham Qadeer
  4. Shah Bano Case

Shah Bano Case

شاہ بانو کیس

ایک عورت تھی شاہ بانو، اُس کا شوہر جوانی میں اسے بتائے بغیر دوسری شادی کرتا ہے اور اُس شادی کے چالیس اکتالیس سال بعد چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ عورت اپنا خرچہ مانگتی ہے تو وہ عورت کو تین طلاق اکھٹی دے دیتا ہے اور پچپن سو روپے مہر دے کر کہتا ہے اب تم میری ذمہ داری سے فارغ ہو۔

پھر وہ عورت اپنا مقدمہ لڑتی ہے اور یہاں تک لڑتی ہے کہ پورے ملک کا قانون بدلنا پڑ جاتا ہے۔

ہمسائیہ ملک میں یہ کیس اتنا مشہور ہوا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی اپنے کیس میں شاہ بانو کے کیس کے فیصلہ کا ریفرنس دیا تھا۔

لیکن اچھی بات یہ ہے کہ جن باتوں کی بنیاد پر یہ کیس لڑا گیا پاکستان میں اُن کا وجود ہی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں عورت کو اُس کا قانونی اور شرعی حق دینے کا باقاعدہ پراسس ہے اور ایسے کیسز اکثر دیکھنے اور سننے کو مل جاتے ہیں۔ پاکستان کا عائیلی قوانین کا آرڈیننس 1961 میں ریلیز ہوا تھا اور تب سے یہ ہمارے قانون کا حصہ ہیں اور اسی بنا پر کیسز میں انصاف بھی ملتا ہے۔

جیسا کہ اگر ایک مرد تین طلاق اکھٹی دے دیتا ہے تو وہ قانونی طور پر ایک طلاق ہی ہوگی اور نوے دن کے نوٹسز کے بعد وہ قانونی طور پر تین گنی جائیں گی۔ اسی طرح ایک مرد قانونی طور پر پہلی بیوی سے اجازت لئے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتا ہے اور لاہور ہائیکورٹ کے کئی فیصلے اس بات کے بارے میں موجود ہیں۔

وہیں اس فلم میں بھی مولانا مودودیؒ کا اس ضمن میں ذکر ہوا جس میں وہ تین طلاقوں کے بارے میں تشریح دیتے ہیں اور یہ ذکر دیکھ کر تفہیم القرآن یاد آگئی جسے بچپن میں کئی بار پڑھا تھا۔ مولانا کے لکھنے کا انداز بہت ہی شاندار تھا اور میرے اندر لکھنے کی تحریک کے پیچھے اُن کی تحاریر کا بھی ہاتھ ہے۔

دوسرا پاکستان کا قانون طلاق کے بعد نابالغ اور غیر شادی شدہ بچیوں کو نان و نفقہ دینے کی ذمہ داری شوہر پر ڈالتا ہے جو کہ میرے خیال سے بہت زبردست قانون ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں بچے پالنا اور وہ بھی تنہا عورت کے لئے، کافی مشکل ہوتا ہے لیکن پھر بھی بہت سے لوگ وہ حق کھا جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی حق شاہ بانو کا کھایا گیا تھا اور اُس کے کیس نے ہمسائیہ ملک کے قانون کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

یہ فلم ضد اور انا کے بیچ بنی ہے اور کہانی کافی دیکھنے لائق ہے۔ میں اصل کیس یا اس کے فیصلے سے مکمل متفق بھی نہیں ہوں کیونکہ اصل کیس میں شاہ بانو کے جوان بچے موجود تھے جو کہ شادی شدہ تھے اور وہ ماں کو پال سکتے تھے لیکن ماں نے ضد میں آکر یہ کیس لڑا تھا جس کے پیچھے اس کی عزت نفس کا سوال تھا کہ ایک مرد کو زندگی کے چالیس سال دینے کا صلہ اگر پچپن سو ہے تو کیا یہ انصاف ہوگا؟ اس کیس کا بظاہر کم عمر طلاق یافتہ خواتین کو فائدہ ہوا تھا اور ابھی بھی ہو رہا ہے۔

باقی قانونی سقم اور شرعی تشریحات پر اختلاف ہو سکتے ہیں اور کئی لوگ کر بھی رہے ہیں۔ لیکن مجھے اس ضمن میں پاکستانی عائلی قوانین کافی متناسب لگے ہیں۔

یہ فلم اور پورا شاہ بانو کیس دراصل سورہ بقرہ کی آیت نمبر 241 کے گرد گھومتا ہے۔ جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے "اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو انہیں مناسب طور پر کچھ نہ کچھ (مال/فائدہ) دینا چاہیے، یہ پرہیزگاروں پر ایک حق (لازم) ہے"۔

باقی آپ دیکھ کر اپنی رائے رکھ سکتے ہیں مگر مجھے پاکستانی قوانین سے کمپئیر کرکے کافی تسلی ملی کہ ہمارے ہاں کم سے کم خواتین کے عائیلی حقوق کے بارے میں 1961 سے ہی باقاعدہ قانون سازی موجود ہے اور بہت سے معاملات پر اس پر عمل درامد بھی ہوتا ہے۔

Check Also

Lamha e Fikriya

By Sumaira Zaheer