Wednesday, 21 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zaigham Qadeer
  4. Dopamine Ke Ghulam

Dopamine Ke Ghulam

ڈوپامین کے غلام

ہر انسان منفرد پیدا کیا گیا ہے۔ کچھ ذہین پیدا کئے گئے ہیں تو کچھ کُند ذہن، کچھ کے پاس ظاہری خوبصورتی ہے تو وہیں کچھ ظاہر سے اچھی شکل نا رکھنے کے باوجود باطن سے ایسے خوبصورت ہوتے ہیں کہ اُن کے نزدیک دنیا کے خوبصورت سے خوبصورت چہرے بھی بھدے لگیں۔

مطالعہ کا شوق ایک بہت بُری لت ثابت ہو سکتا ہے خاص کر تب جب یہ آپ پر بہت چھوٹی عمر سے طاری ہو۔ لیکن بات مطالعہ پر نہیں رُکتی، ورنہ ہر وہ شخص جو دانا ہے وہ صاحب کتاب ہوتا اور ہر صاحب کتاب شخص دانا ہوتا، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا ہے۔

بہت سے دانا اپنی ساری زندگی ایک جملہ تو دور اپنی دانائی سے بھرا ایک حرف نہیں لکھ پاتے ہیں۔ وہیں بہت سے صاحب کتاب ایسے مل جاتے ہیں جن کے قریب سے دانائی نہیں گزری ہوتی ہے۔

افسوس کی بات کہیں یا حقیقت سے جڑی بات کہہ لیں لیکن میں آج تک جتنے بھی صاحبِ کتاب حضرات کو جانتا ہو اُن کی شخصیات تضادات سے بھری ہی ملی ہیں۔ گو زندگی کا ایک اصول بنا رکھا ہے کہ کبھی کسی کو یکطرفہ ہو کر پرکھنا نہیں ہے ہر کسی کو انسان ہونے کا ہدف دے کر سننا ہے لیکن ہمارے کھوکھلے معاشرے میں صاحب کتاب حضرات وہی ہیں جو بس شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن سکتے ہیں یا اُن کی مداح سرائی کر سکتے ہیں۔ آخر پیٹ کی آگ کو بھی تو بجھانا ہوتا ہے۔

زندگی میں خدا سے بہت سی چیزیں مانگی ہیں اور بہت سی ابھی مانگنا باقی ہیں، کیونکہ انسان کی زندگی کا سفر ہی مانگنے پر چلتا ہے۔ اگر آپ خدا سے نہیں مانگ رہے ہیں تو پھر خدا کے بندوں سے مانگنا شروع ہو جائیں گے۔ کبھی مال، کبھی دولت، کبھی شہرت تو کبھی توجہ، غرضیکہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو پیدا تو بہت سی خوبیوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن اُس کے اندر کی بھوک اُس کی سب سے بڑی خامی بن جاتی ہے۔

انسانی دماغ سمیت تمام مخلوقات کا دماغ مختلف کیمیکلز کی مدد سے چلتا ہے۔ ان کیمیکلز کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔ بہت سے مشہور زمانہ کیمیکلز کے نام تو زبان زد عام ہیں جیسے ڈوپامین، سیریٹونن، اوکسیٹوسن وغیرہ وغیرہ لیکن ان چند کیمیکلز کی بجائے ہم مجموعی طور پر سب کی بات کرنا پسند کریں گے۔

یہ کیمیکلز ہماری شخصیت کو بناتے ہیں۔ جب میں چھوٹا بچہ تھا تو بہت سی چیزوں کے بارے میں تجسس ہوتا تھا، سب سے بڑا تجسس مشہور شخصیات کا تھا کہ ان کو اتنے زیادہ لوگ کیسے جانتے ہیں لیکن بچپن سے ہی یہ کمینی عادت جسے اکثر دیکھوں تو خامی لگتی ہیں لیکن عموماََ یہ خدا کی ودیعت کردہ ایک خوبی ہے کہ دل کبھی کسی مشہور شخصیت کا گرویدہ نہیں بن سکا ہے۔ خدا اور اُس کے رسول ﷺ کے بعد خدا سے بس جو مانگا وہ یہی تھا کہ ہمیشہ اپنی شخصیت کو زندہ رکھ کر جینے کی ہمت دینا اور یہ ہمت بہت بار آزماتی بھی ہے۔

بچپن میں جب صرف تار والا فون تھا تب یہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بیس پچیس سال کی عمر کراس کرتے وقت ہمارے ہاتھوں میں فقط ایک فون نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت والے پروگرام ہونگے اور دنیا کی ہر مشہور شخصیت، ہر تازہ خبر، ہمارے ہاتھوں سے فقط ایک سوائپ کی دوری پر ہوگی۔ مگر اس سب کی ایک قیمت ہوگی۔

اور وہ قیمت آپ کی شخصیت کے قتل کی صورت میں ادا کرنا ہوگی۔ لڑکی ہیں تو یہ قیمت اُس کو اپنی ہر نسوانی خوبی کو پس پشت ڈال کر ایک سے بڑھ کر ایک اُن خواتین سے متاثر ہونے کی صورت میں جن کی یہ خوبیاں کسی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ فقط اُن کی جینیات کی ودیعت ہونا ہے سے ہر وقت متاثر ہونے کی صورت میں، یا پھر ایسے لڑکوں سے متاثر ہونے کی صورت میں، جن کی شخصیت کا محض ایک پہلو دیکھنے کو مل سکتا ہے، اندر کا کھوکھلا پن کہاں ہے وہ فقط ساتھ رہنے کی صورت میں ملے گا، کی صورت میں آپ کو اپنی شخصیت کو مارنا ہوگا۔

لڑکے ہیں تو اس سے بھی برا پھندا یہ کہ ہر وقت آپ کے ہاتھ میں فون کی صورت میں اُس مواد کی دستیابی جس کو کبھی بادشاہ بھی اپنے حرم میں نہیں دیکھ پاتے تھے کیونکہ تب بھی روشنی بجھانے کی حیا موجود ہوا کرتی تھی، کی صورت میں اپنی جوانی بہا دینے سے لے کر انجانی خواتین جو کہ شائد خواتین ہیں ہی نہیں بلکہ کوئی مرد ہیں کے پیچھے تبصروں کے خانے میں اپنے تبصرے لکھتے پھنسنے کی صورت میں شخصیت مسلی جائے گی۔

مگر یہ تو وہ لوگ ہیں جو اوسط سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، معاشرے کا وہ حصہ جو آج سے سو سال پہلے ساری عمر محنت مزدوری کرکے کمر تڑواتا تھا، لیکن اس سے برا پھندا اُن لوگوں کے لئے ہے جو حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے کے پھندے میں پھنس کر شخصیت مار رہے ہیں۔

آج کل ایک خبر کی عمر انسانی سانس سے بھی چھوٹی ہو چکی ہے۔ ابھی انسان سانس بھی نہیں لیتا تو نئی خبر آجاتی ہے، تازہ خبر، بہت تازہ خبر اور حد سے زیادہ تازہ خبر، اس سب کے بعد یہ سب لوگ اپنے تبصرے کرنا پسند کرتے ہیں، یہ تبصرے ایک دماغی دھوکہ دیتے ہیں جس سے اِنہیں لگتا ہے کہ وہ دنیا کے حالات کو سنبھال رہے ہیں، اُن کے بغیر ٹرمپ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، یورپ کی ترقی سے لے کر چین کی تنزلی تک اُن کے خیالات ہر عالمی فیصلے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

اور یہی ایلیٹ کلاس چاہتی ہے کہ نیچے بسنے والے کیڑوں مکوڑوں سے طاقت چھین کر اُنہیں اس بات کا احساس دے دیا جائے کہ وہ طاقتور ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک حادثے کا شکار ہوتے ہیں تو آپ کا جسم ایک دم سے بند نہیں ہوتا بلکہ آپ ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ بھی اُٹھ کر اگلے بندے کو گالی دینے کی ہمت رکھتے ہیں، تھپڑ مارنے کی قوت رکھتے ہیں لیکن جونہی آپ اس خمار سے نکلتے ہیں اس وقتی ڈوپامین کے زور سے نکلتے ہیں تو آپ دھڑام سے نیچے جا گرتے ہیں۔

اور یہ سب آپ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ آپ میں مسلسل ڈوپامین کو انجیکٹ کیا جا رہا ہے۔ اُن نیوروکیمیکلز کو انڈیلا جا رہا ہے جو کہ آپ کو ہر وقت لڑنے اور مرنے کی حالت میں رکھتے ہیں اور اس کا نقصان یہ ہے کہ آپ کی شخصیت اندر کہیں مر چکی ہوتی ہے۔ اب آپ محض ایک روبوٹ ہیں جو کہ چیزوں پر اپنا تبصرہ دینا جانتا ہے، اپنا ردعمل دینا جانتا ہے لیکن اپنی زندگی کیسے درست کرنی ہے اُس کو بھول چکا ہے۔

بھولنا؟ بھولنا تو دور وہ اِس بات کا تجربہ ہی نہیں رکھتا کہ اپنی زندگی کہتے کسے ہیں، اپنی شخصیت کسے کہتے ہیں۔ آج کسی سے سوال پوچھیں کہ اپنی شخصیت کی دس ایسی خوبیاں بتاؤ جو تمہیں ممتاز کرتی ہیں تو وہ گھسے پٹے جوابات سے باہر نکل کر جواب نہیں دے پائے گا۔ آپ کی کیا کیا خامیاں ہیں؟ تو وہ کہے گا خامیاں؟ اور مجھ میں؟ یہ ناممکن بات ہے۔ مجھ میں خامیاں ہو ہی نہیں سکتی اور یہی وہ انفرادیت کا قتل ہے جو بے دردی سے ہو رہا ہے۔ لوگ اپنی ذاتی زندگی جینے کی بجائے دن کا زیادہ تر حصہ دوسروں کی زندگیاں جینے میں لگا رہے ہیں۔ جبکہ اُن سب کو آزاد پیدا کیا گیا ہے لیکن اب وہ سب غلام ہیں، اپنی اپنی ڈوپامین کی لت کے غلام ہیں۔

Check Also

Desi Sakhta Chanay

By Ali Raza Ahmed