Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Zaigham Qadeer

Cancel Culture

جو اس موضوع پہ میری پسند کی رائے نہیں دے گا اس کو میں انفرینڈ کر رہا ہوں۔

یہ جملہ آپ گزشتہ دو دن سے پڑھتے آ رہے ہوں گے۔ اسی طرح ہر طرح کے واقعے پہ سوشل میڈیا پہ ایک گروپ یہ سلسلہ شروع کر دیتا ہے کہ اگر آپ اس موضوع پہ فلاں رائے نہیں رکھتے تو آپ کو میں انفرینڈ کر دوں گا۔ اب یہ ایسا کرتے بھی ہیں کہ نہیں، مجھے علم نہیں؟ مگر چونکہ مجھے انسانی بہیوئرز کا مطالعہ بہت پسند ہے اور میں کراس کلچرل چیزیں دیکھنے کا بہت شوق رکھتا ہوں تو یہ ٹرینڈ بھی مجھے انسانی رویوں کے مطالعے کے لئے بہت موزوں لگا۔

اس ٹرینڈ پہ بات کرنے سے پہلے آپ کو کینسل کلچر کا بتاتا چلوں کہ یہ دراصل ہے کیا؟

کینسل کلچر کی شروعات می ٹو موومنٹ کےساتھ شروع ہوئی، جی وہی می ٹو موومنٹ جس میں کچھ خواتین اپنے ساتھ ہراسگی کے واقعات کو کافی عرصہ بعد ایک کمپین کے نتیجے میں شئیر کرنا شروع ہوئیں۔ اس تحریک کے دوران پورے سوشل میڈیا پہ ایک پولرائزیشن پیدا ہوگئی کہ جو شخص ایک عورت کے ہراسگی کے الزامات کو جھوٹے الزامات کہتا ہے یا ان کی انکوائری کی بات کرتا ہے وہ شخص دراصل عورتوں کو ہراس کرنے کے حق میں ہے۔

کیسے؟

کسی کو علم نہیں مگر چونکہ مجارٹی ایسا کہہ رہی ہے تو ایسا ہی ہوگا اور سمجھا جائے گا۔ اس کینسل کلچر کو دوسرا بڑا عروج بلیک لائیو میٹرز کے دوران ملا، خیر جس شخص نے یہ ٹرینڈ شروع کیا اب وہ اس کاز کے نام پہ کروڑوں ڈالر چندا اکھٹا کرکے امریکہ سے بھاگ کر آسٹریلیا میں رہ رہا ہے لیکن تب بھی یہ ہر جگہ عام ہو گیا کہ جو شخص سیاہ فام کمیونٹی کے حق میں اٹھی اس کمپین کی شفافیت پر بولے گا وہ دراصل سیاہ فام دشمن ہے اور اس کو معاشرے میں جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

کیوں؟

اس بات کا کسی کو علم نہیں مگر چونکہ لاکھوں ہیش ٹیگ مذمت میں ہیں اس لئے ہر کسی پر مذمت کرنا فرض ہے ورنہ وہ سیاہ فام نسل کشی میں برابر کا شریک سمجھا جائے گا۔ یہ سلسلہ تھما نہیں، جینڈر پروناؤنز کا مسئلہ عروج پہ آ گیا۔ مغرب اور امریکہ میں اب یہ راسخ بات ہے کہ آپ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر اس کی بائیولوجیکل جنس کےمطابق بلانے کی کوشش کریں گے تو آپ ایک racist کا لقب پائیں گے۔

مطلب آپ کے سامنے ایک انسان ہے وہ بائیولوجیکلی آپ کو عورتوں والے خدوخال رکھتا دکھائی دیتا ہے مگر اس کو آپ اس کی مرضی کے پروناؤن جیسا کہ They/Their نہیں کہہ کر بلاتے تو آپ بنیادی طور پہ ایک شدت پسند ہیں اور آپ کو نوکری سے نکالنا بنتا ہے کیونکہ آپ اس کو ایسا کہہ کر ٹرانس جینڈر کے حقوق کی تلفی کر رہے ہیں۔

کیسے؟

نہیں معلوم، مگر جو ہے سو ہے۔ مغرب اور امریکہ کے مقابلے میں ہمارے سماج کے مسائل کچھ مختلف ہیں۔ چونکہ سوشل میڈیا گلوبلائزڈ ہے اس لئے وہاں کے ڈیجیٹل رسوم یہاں آنا عین فطری مظہر ہے مگر ان کو کلچرل پاجامہ پہنانا ہماری ذمہ داری ہے سو وہ شروع ہو گئی۔

یہاں پہ قصور میں زینب بچی کےساتھ زیادتی والا واقعہ ہوا۔ اس کی سب نے مذمت کی مگر ان دنوں سوشل میڈیا پہ ایک پول بن گیا کہ زینب کے واقعے کے پیچھے پورا ایک گروہ ہے جو کہ بچوں کی ویڈیوز بلیک مارکیٹ میں بیچتا ہے۔ اب یہ گروہ کہاں ہے اور اس کے ثبوت کی کچھ ویڈیوز کہاں سے ملیں گی؟ کسی کو علم نہیں مگر چونکہ یہ کانسپریسی وائرل ہو گئی تھی اس لئے اس کی وجہ پوچھنے والا ہر شخص اس ریپ کرنے والے کا ساتھی قرار دیا جانے لگا۔

کیوں؟

نہیں معلوم لیکن ٹرینڈ ہے سو جو وائرل ٹرینڈ کی وجوہات جاننے کی کوشش کرے گا وہ اس کےخلاف ہی سمجھا جائے گا۔ کچھ سال پیچھے چلتے ہیں۔ 2018 کے الیکشن سے پہلے تک، ملک پہ نوازشریف کی حکومت ہے۔ پانامہ کیس چل رہا ہے۔ ابھی کیس کا فیصلہ نہیں آیا، مگر سوشل میڈیا پہ اس بات کا فیصلہ ہو چکا تھا کہ نوازشریف ایک چور اور ڈاکو ہے۔ اب جو شخص نواز شریف کا حامی نا ہونے کے باوجود بھی اس بات کا ثبوت مانگے کہ نوازشریف چور کیوں ہے؟ تو وہ ڈائریکٹلی ملک دشمن ہے اور اس کو را سپورٹ کر رہی ہے۔

ثبوت؟

وہ تو نہیں ہیں مگر وائرل ہے اس لئے درست بات ہے۔ اسی طرح حالیہ واقعہ جس کی بنا پہ اتنا کچھ یاد آیا کہ مسجد نبویؐ کے باہر یا مسجد نبویؐ کے اندر، جہاں بھی، کچھ لوگوں نے ہلڑ بازی شروع کی، میرے نزدیک انہوں نے غلط کیا۔ اس کی مذمت کرنا بنتی ہے سو بہت سے لوگوں نے کی مگر اس دوران ایک ٹرینڈ شروع ہوتا ہے کہ جو اس واقعے پہ خاموش رہے گا وہ میری لسٹ میں نہیں رہے گا۔

حالانکہ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں کچھ کے جذبات ہرٹ ہو سکتے ہیں اور وہ اس پر بول کر مزید ہرٹ نہیں ہونا چاہتے، کچھ ہر طرح سے ایسے واقعات نہیں چاہتے اس لئے اس واقعے کا ماضی سے موازنہ کر رہے ہیں۔ مگر سب لوگ ان کی نیتوں پہ کسوٹی لےکر بیٹھ گئے۔ جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ خود تین سال پہلے اسی طرح کے ایک واقعہ پہ چپ تھے جبکہ مریم نواز اور رانا ثناء نے اس قدم کو بالکل درست کہا۔

اب کچھ لوگوں نے ان کے کلپس اور ٹوئیٹ شئیر کرنا شروع کر دئیے کہ اس کو تو غلط کہہ لیتے ہیں مگر اس کا کیا کریں جو اسی چچا کی بھتیجی نے کہا تھا کیا وہ غلط ہے؟ اس مطالبے کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسا کہ وہ ہمیشہ کے لئے مقدس مقامات پہ یوں ایسے کرنے کو غلط کہلوانا چاہتے ہوں۔ مگر نہیں، ان کو وائرل ٹرینڈ والوں نے مذہب دشمن کہنا شروع کردیا۔ وجہ؟

پتا نہیں۔

مگر یہ سوال کرنے والے غلط ہیں کیوں؟

کیونکہ اس وقت وائرل ٹرینڈ یہ ہے اس لئے ایسا سوال کرنا غلط ہوگا۔

مجھے معاشرے میں یہ پولرائزیشن بہت ہی خطرناک لگ رہی ہے۔ ہر ایشو پہ اگر آپ ایک وائرل ٹرینڈ کا حصہ نہیں ہیں تو آپ سے لوگ جینے کا حق چھیننے لگ جاتے ہیں یہ بہت ہی غلط چلن چل نکلا ہے۔ مذہب، کرنٹ افئیر یا سیاست پہ ضروری ہو ہی نہیں سکتا کہ ہر کوئی آپ کی پسند کا نظریہ رکھ سکے۔ یہاں ہر کوئی اپنے جذبات کو دیکھتا ہے کہ اس کے جذبات کس کےساتھ جڑے ہیں؟

ایسے میں آپ ہر کسی کو یوں انفرینڈ، بلاک، ملک دشمن، سماج دشمن یا مذہب دشمن کا ٹائٹل دینے پہ آگئے تو کل کلاں آپ کے پاس نئی سوچ نہیں بلکہ ایک دبی سوچ ہو گی جو محض مشہور مؤقف پہ ہی بولنے کی ہمت رکھے گی اور مخالف رائے نا رکھے گی۔ اس وجہ سے معاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ فری سپیچ ہر کسی کا حق ہے مگر اس فری سپیچ کی آڑ میں صرف اپنے منہ کے علاوہ سب منہ بند کرنے کی روش غلط ہے۔

آپ کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ مخالف نظریے اہم ہیں اگر کوئی ایک ایشو پہ آپ کو رائے نہیں دے رہا تو بھی نارمل ہے اگر اس ایشو پہ مخالف رائے رکھتا ہے تب بھی اور اگر وہ اس ایشو کو قابل بحث نہیں سمجھتا تب بھی، اگر آپ لٹھ لےکر پیچھے نکلنے کی سوچ پہ کارفرما رہے تو باپ بیٹوں کی جان لیں گے اور بیٹے باپ کی، اور ایسا ہوتا آ رہا ہے۔

مغرب تو چلیں پولرائزیشن کو اپنے تئیں کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر ہمارے ہاں اس ایشو کی وجوہات تک کو ڈسکس نہیں کیا جاتا جو کہ الارمنگ ہے ہمیں تب تک فری سپیچ کا حق نہیں چھیننا چاہیے جب تک یہ کسی کی جان و مال کے لئے خطرہ نہیں ہے ورنہ ہم شدت پسندی کی ایک نئی لہر کا شکار ہوجائیں گے بلکہ ہو رہے ہیں۔

کم سے کم آپ جو پڑھ رہے ہیں ان کو اس شدت پسندی سے بچنا چاہیے۔ ہر کسی کو حق دیں کہ وہ مخالف مؤقف رکھ کر بھی آپ کا دوست رہے، دوست رہنے کے لئے آپ کی "وائرل" رائے کا ساتھ دینا ضروری نہیں ہے۔

Check Also

Ajrak (2)

By Sana Shabir