5 Hazar Qeemti Qadam
پانچ ہزار قیمتی قدم

ہماری خواتین کی زندگی سے زیادہ غیر صحتمند زندگی اس دنیا میں کسی شخص کی نہیں ہو سکتی ہے۔ ایک عام انسان کو ایک دن میں کم سے کم بھی چھ ہزار سے لیکر دس ہزار قدم چلنے چاہیں۔یہ دس ہزار تک قدم آپ کی اچھی صحت کی ضمانت ہوتے ہیں۔لیکن ہماری خواتین دن میں مشکل سے ہی سو قدم چلتی ہیں۔ اس سے بڑھ کر نا وہ چل سکتی ہیں اور نا ہی اُن کو ایسا ماحول میسر ہوتا ہے کہ چلا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی باون فیصد خواتین موٹاپے کا شکار ہیں اور اگر فقط شہروں کی بات کی جائے تو یہی تعداد ستر فیصد کے قریب جا پہنچتی ہے اور اس وقت پاکستان موٹاپے کے لحاظ سے جنوبی ایشیاء میں پہلے نمبر پر ہے۔اور اس کا سب سے بڑا اور بُرا نقصان ان خواتین کے چہرے دیکھ کر معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک لڑکی جونہی چھبیس یا ستائیس سال کی عمر کراس کرتی ہے اور اگر اُس کی شادی ہو چکی ہے تو وہ لڑکی لڑکی نہیں لگتی بلکہ خالہ بن چکی ہوتی ہے۔
اُس کے چہرے کے خدوخال ہی لڑکی جیسے نہیں رہتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو چالیس سال تک کی عمر تک جوان دکھنا چاہیے لیکن ہماری خواتین کا بڑھاپہ تیس سال کی عمر سے ہی شروع ہو جاتا ہے اور عموماََ اسی عمر سے پیٹ نکلنا شروع ہوجاتا ہے جو کہ پھر ساری عمر اندر نہیں جاتا ہے۔
اس کے علاوہ نا چلنے کی وجہ سے ان خواتین کے جوڑوں خاص کر گھٹنوں، ریڑھ کی ہڈی یا پھر کمر میں درد حد سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ ہر وقت کمرے میں بند رہنا ہے اور دھوپ نا لگنے کی وجہ سے جسم میں وٹامنز کی کمی ہونے کے ساتھ ساتھ جوڑوں کی حرکت نا ہونا ہے۔ جس کی وجہ سے مستقبل میں مزید مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔
مزید برآں یہ خواتین حد سے زیادہ میٹھے کی شوقین ہوتی ہیں جس کی وجہ سے تیس کی عمر میں ہی انہیں شوگر یا پھر ذیابطیس بھی ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نا چلنے کی وجہ سے دل کے پٹھے اُتنے مضبوط نہیں رہتے اور گھی والی غذائیں کھانے کی وجہ سے خون میں لوتھڑے جمنا شروع ہو جاتے ہیں جو کہ بعد میں سٹروک یا دل کے دورے کی وجہ بنتے ہیں۔
اس سب سے ہٹ کر چلنے کی وجہ سے آپ کی عمر بڑھتی ہے۔ وہیں چلنے سے آپ کے اضافی فیٹ اور کارب بھی استعمال میں آتے ہیں اور آپ کا جسم اینٹی آکسی ڈنٹس کو ریلیز کرتا ہے جن کی وجہ سے جلد کی چمک بھی بڑھتی ہے۔
انسانی جسم حرکت کے لئے بنا ہے نا کہ ایک کمرے میں قید ہونے کے لئے اور اگر آپ سارا دن ایک جگہ بیٹھی رہتی ہیں یا کوکنگ کرتے ہوئے کھڑی رہتی ہیں تو یہ صحت کے لئے نہایت نقصاندہ حرکت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شہروں کی خواتین میں موٹاپہ گاؤں کی خواتین سے زیادہ ہے اور شہروں میں ہر دس میں سے سات خواتین موٹی ہیں جبکہ گاؤں میں یہی تعداد چار یا پانچ ہے جو کہ ابھی بھی زیادہ ہے۔
اس لئے کوشش کریں کہ دن میں کم سے کم پانچ ہزار قدم ضرور چلیں۔ ورنہ آپ نا صرف خود کو ایجنگ کی طرف لیجا رہی ہیں بلکہ آپ اپنی صحت کو بھی خراب کر رہی ہیں جس کا نقصان آنیوالے سالوں میں اٹھانا پڑے گا۔

