Saturday, 11 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Waleed Babar
  4. Barrister Abdul Hamid Bashani Ka Khwab, Insan Dost Samaj

Barrister Abdul Hamid Bashani Ka Khwab, Insan Dost Samaj

بیرسٹر عبدالحمید باشانی کا خواب، انسان دوست سماج

بیرسٹر عبدالحمید باشانی کی پہلی برسی آج کلگیری کینڈا میں عزت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ یوں تو باشانی ہم سے عمر میں نصف بڑے تھے مگر ان کے ساتھ ہمارا دوستانہ تعلق تھا۔ ان سے تعلق کا پہلا ذریعہ ہمارے نظریاتی استادِ محترم سعید اقبال (دادا) تھے جو باشانی کے سیاسی، نظریاتی و ذاتی (شادی کے) دوست تھے۔ دادا اکثر باشانی کا ذکر عزت و احترام کے ساتھ کرتے یوں ہمارا باشانی کے ساتھ ایک بلواسطہ تعلق قائم ہوگیا۔ سیاسی جدوجہد کے دوران لمبا عرصہ میں ان کے کالم کا مستقل قاری رہا۔

باشانی سے زاتی تعلق ان کے ایک مضمون پر تنقید سے شروع ہوا جو انھوں نے بیرسٹر قربان علی کی وفات پر لکھا تھا اور میرے نزدیک حقائق کی درست ترجمانی نہ کرتا تھا۔ اس دوران میں طلبا سیاست میں خاصا متحرک اور پی این پی کے طلباء ونگ کا صدر تھا۔ میں نے ان باکس انھیں ایک لمبی تحریر ارسال کی۔ باشانی نے فوراً جواب دیا اور بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقرار کیا کہ واقعی کچھ حقائق درست طور پر بیان نہیں ہوئے ہیں اور مزید کہا کہ میں اگلے مضمون میں وہ اپنی تصیح کریں گے۔ مجھ سے روایتی دعا سلام کے بعد جب معلوم ہوا میں دادا کا عزیز ہوں تو ایک ذاتی تعلق قائم ہوا اور یوں گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ جب میں نے مخلتف موضوعات پر قلم کشائی شروع کی تو وہ ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ان باکس میں اپنی رائے دیتے اور کبھی کبھار ہمارا اختلاف بڑھ جاتا تو کہتے اس پر ہم پھر بات کریں گئے۔

2017 میں جب میں کینڈا منتقل ہوا تو پوچھا کیا پروگرام ہے۔ میں نے بتایا میرا ٹھکانہ کلگیری ہے۔ کہنے لگے مجھے کینڈا آئے کوئی پچیس تیس سال ہو گزرے ہیں۔ جب سے کلگیری سے ٹورنٹو آیا ہوں ایک دو بار ہی واپس کلگیری جا پایا ہوں۔ زندگی کی دوڑ میں مصروف ہو جاؤ گئے کیا پتہ دوبارا ملاقات ہو نہ ہو اس لیے کچھ دن میرے پاس رک جاؤ پھر جدھر مرضی جانا۔ میں نے ٹال مٹول کی ناکام کوشش کی تو کہا یا تو میں چار گھنٹے ڈرائیو کر کہ منٹیریال آتا ہوں اور تمہں ساتھ لے آتا ہوں یا تم خود آ جاؤ۔ میں ان کے پاس ٹورنٹو چلا گیا اور چار دن ان کے گھر رہا۔

باشانی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ تعلق داری نہیں رکھتے مگر میرے ساتھ ان کا تعلق ایک عزیز جیسا رہا۔ چار دن خود ناشتہ تیار کر کہ دیا، عموماً میرے دوپہر اٹھنے سے پہلے دفتر سے واپس گھر آ جاتے اور شام دفتر سمیت مخلتف پروگرامات میں ساتھ لے جاتے۔ اس کے بعد میں کلگیری آگیا اور پڑھائی میں مصروف ہوگیا۔ وقتا فوقتا فون پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہا پھر گزرتے وقت کے ساتھ اس میں تعطل آ گیا۔ دراصل باشانی، دادا اور ان کے ہم عصر دوستوں کا المیہ ہے کہ ان کے فون میں آؤٹ گوئنگ (out going) بند ہے اور وہ کال کرنے پر ہی رابطے میں آتے ہیں۔

تین چار سال بعد میں بیرسٹر کے پیپر دینے ٹورنٹو گیا مگر ان کی بیماری کے باعث انھیں اطلاع نہیں دی۔ ہمارے مشترکہ دوست حبیب الرحمان سے بات جیت کے دوران انھیں علم ہوا کہ میں ٹورنٹو آیا ہوا ہوں تو کال کر کہ ایڈریس لیا اور مجھے لینے آگئے۔ وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے اور ڈاکٹرز نے انھیں میل ملاپ سے منع کیا ہوا تھا اس لیے دوران عیادت بھی میں نے انھیں ٹورنٹو آنے کا نہیں بتایا تھا۔ مجھےان کی بیماری کا علم تھا، کرونا اپنے عروج پر تھا اور ان کی متوتر کیموتھراپی چل رہی تھی اس لیے ان کے اسرار پر بھی میں ان کے گھر ساتھ رہنے نہیں گیا اور وہ تقریباً ناراض ہو کر واپس گئے۔ میرے بیرسٹر کے امتحانات پاس ہونے پر مبارکباد دی۔ ان کی بیماری شدید ہوتی گئی اور پچھلے سال ان کی تیمارداری کرنے ٹورنٹو ان کے گھر گیا۔ ان سے اکثر گھر واپس نہ جانے پر بات ہوتی اور ہمیشہ ناخوش گوار ماحول میں اختتام پذیر ہوتی۔

باشانی ایک واضع دار اور جاذبب شخصیت کے حامل شخص تھے۔ ان کی ذاتی زندگی میں ان کے نظریات کی واضع جھلک نظر آتی تھی۔ ان کے پسندیدہ مضوعات سیاستات، عصرئے حاضرہ، ترقی پسند تحریک اور تاریخ تھے۔ انھوں نے کم و پیش 8 کتب تحریر کی ہیں (جن میں سے اثر ان کے مضامین پر مشتمل ہیں)۔ باشانی ایک عرصے سے سوشل و الیکٹرنگ میڈیا میں متحرک تھے اور شائد پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے ترقی پسند لوگوں میں سے سب سے ذیادہ پاپولر (مشہور) شخص بھی۔ میری ان سے اکثر بحت ہوتی کہ ایک نظریاتی تنظیم کے بغیر یہ سب تگ و دو لاحاصل ہے۔ منظم کام ہی اثر انگیز ہو سکتا ہے۔ ان کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا میں سیاسی جدوجہد میں نہیں جا سکتا۔ اپنے حصے کا یہی کام کر سکتا ہوں کہ نوجوان نسل کو ایک راستہ دکھا سکوں۔ ان کے اور ہمارے درمیان مشترکہ نکتہ جموں کشمیر کے عوام کی حالت زار بدلنے کے لیے ایک جاندار تحریک کی ضرورت تھی۔

باشانی انڈین سیکولر ازم سے متاثر تھے مگر اگست 2019 کے واقعے پر وہ برہم تھے۔ پی این اے کی تحریک شروع ہوئی تو باشانی خاصے پر جوش نظر آئے۔ کینڈا میں موجود دوستوں نے میری ذمہ داری لگائی کہ میں پی این اے قیادت سے رابطہ کر کہ مرکزی سفارتی کمیٹی کی تشکیل کے لیے انھیں آمادہ کروں چونکہ اس دوران بیرون ممالک خود ساختہ کمیٹیوں کا اعلان ہو رہا تھا جس کے باعث اختلافات پروان چڑ رہے تھے۔ میرا ذوالفقار احمد (چئیرمین پی این اے)، لیاقت حیات (سیکرٹری جنرل) اور سجاد افضل (سیکرٹری مالیات) سے رابطہ ہوا اور انھیں آمادہ کیا کہ ہمیں پروفیسر نذیر نازش، حمید باشانی اور شوکت مقبول بٹ پرمشتمل سفارتی کمیٹی بناکر اپنے لیے لابنگ کرنے چائیے۔

میرے نزدیک باشانی ایک پریزنٹ ایبل شخص تھے جو ہمارے مسلے کو مدلل انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکتے تھے اور پروفیسر نازش اور شوکت مقبول پر کسی آزادی پسند پارٹی کا کوئی اعتراض بنتا نہیں تھا۔ اس سلسلہ میں پروفیسر نازش اور بیرسٹر باشانی سے بات چیت کر کہ انھیں رضا مند کر لیا گیا تھا بلکہ باشانی نے تو اس حد تک کہہ دیا تھا کہ دوست جو ذمہ داری دیں گئے وہ پوری کریں گے۔ پی این اے قیادت نے اس تجویز کو خوش دلی سے قبول کیا اور سجاد افضل نے مرکزی کمیٹی سے منظوری کے لیے وقت لیا مگر پی این کی قیادت ایسی الجھی کہ سفارتی کمیٹی تو درکنار مرکزی کمیٹی بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔

حمید باشانی بہترین اوصاف کے مالک انسان تھے۔ ان کی نظریاتی پختگی کہ پیچھے ان کی پیتالیس (45) سال کی محنت و تربیت شامل تھی۔ ان کی موت پر ایسے لوگ بھی ان کے لیے جنت کے طالب ہیں جنہوں نے طلباء سیاست سے لے کر عملی زندگی تک انھیں کرب، اذیت، طعنوں اورلعن تعن کے سوا کچھ نہیں دیا۔ انھیں دہریہ، کافر اور انڈین ایجنٹ کہا گیا۔ ان کی فکرکے خلاف اخبارات میں کالم لکھے گئے اور جان لیوا دھمکیوں نے انھیں ماں باپ، عزیز و اقارب اور وطن سے دور رہنے پر مجبور کیا۔

آج اکثر لوگ کہہ رہے ہیں کہ باشانی بہتر زندگی اور ذریعہ معاش کے لیے کینڈا آئے تھے۔ باشانی نے آسائشِ زندگی کے لیے ہجرت نہیں کی تھی بلکہ زبان بندی، اظہار آزادی پر قدغن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث ملک چھوڑا تھا۔ ان کی موت پر بے شمار لوگوں نے مظم سازش کے تحت ان کی بیرون ملک سکونت (جلاوطنی) کو معاشی تنگ دستی سے تعبیر کیا۔ ایسے لوگ ساری دنیا میں موجود ہوتے ہیں جن کا مطع نظر ذاتی مفادات ہوتے ہیں۔ وہ بیک وقت حکومت وقت کے وضیفہ خور بھی ہوتے ہیں اور قلم فروخت اور ضمیر فروش بھی۔ وہ محفل سرور میں ترقی پسند اور عملی زندگی میں حاکم وقت کی دلالی کا کردار ادا کرتے ہیں۔

حمید باشانی کی موت پر جموں کشمیر کے آزادی و ترقی پسند سورماں سے میں سوال کرنے کی جسارت کروں گا کیونکہ یہ سورما عوام کی حالات زار بدلنے کا دم بھرتے ہیں۔ چار ہزار مربع میل اور 44 لاکھ نفوس پرمشتمل علاقہ بدلنے کے لیے کتنی افرادی قوت اور کیا وسائل درکار ہیں؟ آج جب ہزروں لوگ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کے لیے جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں تو ترقی و آزادی پسند قیادت اس تحریک کو لیڈ کرنے کے بجائے آپسی عناد کا شکار کیوں ہے؟

عوامی تحریک کسی ایک تنظیم یا سوچ کی عکاس نہیں اور نہ ہیں تمام قیادت کلیتا ایک ایجنڈہ پر متفق ہو سکتی ہے مگر کم از کم نکات پر اتحاد میں سوائے شخصیت پسندی اور نرگسیت کے کیا رکاوٹ ہے؟ اب بھی اگر ذاتی عناد کو درگزر کر کہ ایک عوامی تحریک منظم نہ کی گئی تو حمید باشانی جیسے لوگ انسان دوست سماج کے خوبصورت خواب آنکھوں میں سجائے موت کی آغوش میں جاتے رہیں گئے اور یہی سکیم خور چغادار حمید باشانی کے وارث بن کر انھیں فروخت کریں گئے اور بہینا کل ان کے نام پر عرس شروع کر دیں۔

Check Also

Bab e Mandeb Aur Nehr e Swez Ki Kahani

By Wusat Ullah Khan