Monday, 20 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Umar Farooq
  4. Dua Aur Dawa: Mazhab Aur Nafsiyat, Tasadum Ya Ishtirak?

Dua Aur Dawa: Mazhab Aur Nafsiyat, Tasadum Ya Ishtirak?

دعا اور دوا: مذہب اور نفسیات، تصادم یا اشتراک؟

لاہور کے ایک متوسط گھرانے کی بائیس سالہ لڑکی۔ نام فاطمہ رکھ لیجیے۔ اصلی نام نہیں ہے، مگر کہانی اصلی ہے۔ مہینوں سے بستر سے نہیں اٹھ پاتی۔ کھانے میں ذائقہ مر چکا ہے۔ رات بھر چھت کو گھورتی ہے اور آنکھوں سے خاموش آنسو بہتے رہتے ہیں۔ وہ خود کو بیکار سمجھتی ہے۔ ایک بوجھ جو نہ گھر کے کام کی، نہ دنیا کے۔ اس نے کئی بار سوچا: اگر میں نہ ہوتی تو سب کو سکون ہوتا۔

اس کی ماں نے محلے کی عورتوں سے مشورہ کیا۔ سب نے ایک ہی بات کہی: نظر لگ گئی ہے۔ باپ اسے پیر صاحب کے پاس لے گیا۔ پیر صاحب نے کہا: جنات کا سایہ ہے، چلّہ کاٹو، تعویذ باندھو، سات شبِ جمعہ دم کرواؤ۔ چھ مہینے گزرے۔ فاطمہ اور ٹوٹ گئی۔ پھر ایک سمجھدار خالہ اسے ماہرِ نفسیات کے پاس لے گئیں۔ تشخیص ہوئی: شدید نوعیت کا ذہنی دباؤ۔ چند مہینوں کی مشاورت اور تھیریپی سے فاطمہ اٹھنے لگی، کھانے لگی، مسکرانے لگی۔

فاطمہ کی زندگی کے وہ چھ مہینے کس نے چرائے؟ اور کتنی فاطمائیں ہیں جن کے حصے میں وہ سمجھدار خالہ بھی نہیں آئی؟

یہ صرف ایک کہانی نہیں یہ پاکستان کے لاکھوں گھروں کی حقیقت ہے اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک سوال کا جواب ڈھونڈنا ہوگا جو تکلیف دہ ہے مگر ضروری ہے: کیا دعا اور دوا۔ واقعی ایک دوسرے کی دشمن ہیں؟ یا ہم نے خود یہ لڑائی گھڑی ہے؟

یووال نوح ہراری نے لکھا تھا کہ انسان حقیقت میں نہیں، کہانیوں میں رہتا ہے اور سب سے خطرناک وہ کہانی ہوتی ہے جسے ہم سچ مان لیں۔ بغیر جانچے۔ پاکستانی معاشرے میں ایک ایسی ہی کہانی مشہور ہے: مذہب اور سائنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور کہ جوشخص نفسیاتی مسائل کے لئے ماہر نفسیات کے جاتا ہے وہ اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں رکھتا۔ جس نے نفسیاتی علاج کے لئے دوا کھائی اس کا ایمان کمزور ہے۔

یہ جھوٹی کہانی کس نے گھڑی؟ کون ہمیں اس مقام تک لایا ہے اور تو اور خود اسلامی تاریخ اس جھوٹ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

نویں صدی عیسوی میں جب یورپ اندھیرے دور میں ڈوبا ہوا تھا بغداد میں ایک مسلمان طبیب ابو زید البلخی نے ایک کتاب لکھی: "مصالح الابدان والانفس" یعنی جسم اور روح کی صحت۔ اس کتاب میں انہوں نے ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کو الگ الگ اقسام میں بیان کیا، ان کی وجوہات سمجھائیں اور ایسے علاج تجویز کیے جنہیں آج کی جدید نفسیات "Cognitive Behavioral Therapy" کہتی ہے۔ یہ کام مغربی ماہرین سے ہزار سال پہلے ہوا۔ ہزار سال یہ تعداد ذرا دہرائیے۔

عثمانی دور کے ہسپتالوں میں ذہنی مریضوں کا علاج موسیقی، خوشبو اور باغبانی سے کیا جاتا تھا وہی طریقے جنہیں آج مغرب "جدید نفسیات" کے نام سے پیش کرتا ہے گویا کہ یہ جیسےکوئی نئی دریافت ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر رانیہ عوّاد جو خود ایک اسلامی عالمہ بھی ہیں نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ مریض اور معالج کے درمیان اعتماد کا رشتہ، مریض کی نفسیاتی بحالی اور ادراکی حکمت عملیاں ان سب پر مسلمان علماء نے یورپ سے صدیوں پہلے لکھا۔

تو سوال یہ ہے: جس مذہب نے دنیا کو ذہنی علاج کی بنیادیں دیں اسی مذہب کے ماننے والے آج ذہنی علاج سے کیوں بھاگتے ہیں؟

سائنس کو سمجھنا ہر انسان کا حق ہے بشرطیکہ اسے سادہ زبان میں بیان کیا جائے۔ تو آئیے سادہ زبان میں سمجھتے ہیں کہ ذہنی بیماری میں دماغ کے اندر کیا ہو رہا ہوتا ہے۔

جب کوئی شخص شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے دماغ کا وہ حصہ جو فیصلے کرتا ہے، امید دیتا ہے اور مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے اس کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔ دباؤ کا ہارمون "کورٹیسول" مسلسل خون میں بہنے لگتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے جسم کا خطرے کا الارم مسلسل بجتا رہے، بغیر کسی حقیقی خطرے کے۔ اس شخص کے اعصاب تھکے ہوئے ہیں، اس کا دماغ تھکا ہوا ہے، اس کا جسم تھوڑا تھوڑا مر رہا ہے مگر باہر سے سب ٹھیک دکھتا ہے۔

اب ایک سیدھی سی بات سوچیے: اگر کسی کا گردہ ناکارہ ہو جائے تو کیا آپ کہیں گے کہ صرف دعا کرو، ڈاکٹر کی ضرورت نہیں؟ اگر دل کا دورہ پڑے تو کیا تعویذ باندھ کر ہسپتال نہیں جائیں گے؟ ہر عقلمند آدمی کہے گا: بھائی دعا بھی کرو اور ڈاکٹر کے بھی جاؤ۔ دونوں کام ساتھ ساتھ کرو۔ تو پھر جب دماغ بیمار ہو۔ جب اس کی کیمسٹری بگڑ جائے تو صرف دعا پر اکتفاء کیوں ہے؟ دماغ بھی ایک عضو ہے، بالکل دل اور گردے کی طرح اور عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کا علاج بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر رانیہ عوّاد جو اسٹینفورڈ میں بنیادی طور پر اسلام اور نفسیات کے اشتراک پر کام کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسلامی علوم میں انسان کو تین پرتوں میں سمجھا گیا: روح، قلب اور نفس اور یہ تینوں آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ جب نفس بیمار ہوتا ہے تو صرف روحانی تدبیر کافی نہیں عملی علاج بھی لازم ہے اور اس بات کی تائید خود نبی کریم ﷺ کی حدیث سے ہوتی ہے: "اللہ کے بندو، علاج کرواؤ، کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں بنائی جس کی دوا نہ بنائی ہو، سوائے ایک بڑھاپے کے"۔ یہ حدیث واضح ہے یہ علاج سے روکنے کی نہیں، علاج کی ترغیب ہے۔

اعداد و شمار تکلیف دہ ہیں مگر ضروری ہیں۔ پاکستان میں بیس کروڑ سے زیادہ آبادی کے لیے ماہرین نفسیات کی تعداد پانچ سو سے بھی کم ہے یعنی ہر دس لاکھ لوگوں کیلئے تین ڈاکٹرز بھی نہیں۔ لیکن اصل مسئلہ تعداد نہیں اصل مسئلہ سوچ ہے۔

ایک سروے میں ساڑھے تین ہزار پاکستانیوں سے پوچھا گیا: آپ نفسیاتی مدد کیوں نہیں لیتے؟ جوابات یہ تھے: "جو قسمت میں ہے وہی ہوگا"، خاندان کی ممانعت، ذاتی شرمندگی اور نفسیاتی علاج پر بھروسے کا نہ ہونا۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کے طلبہ پر ہونے والے ایک اور سروے کا نتیجہ اور بھی چونکا دینے والا تھا: بتیس فیصد نے ذہنی بیماری کی وجہ کالا جادو قرار دیا۔ یہ اَن پڑھ گاؤں والے نہیں یہ یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نوجوان ہیں اور صرف عوام ہی نہیں طبی شعبے کے لوگوں پر ہونے والی تحقیق نے بتایا کہ نصف سے زیادہ ڈاکٹر بھی ذہنی امراض کے بارے میں منفی رویے رکھتے ہیں۔ یعنی جو دوا دینے والے ہیں وہ خود بھی اس بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

انسان وہ واحد جانور ہے جو اپنے درد کو چھپانے کی تربیت لیتا ہے۔ پاکستانی معاشرے نے اس تربیت کو فن بنا دیا ہے۔ مرد کو سکھایا جاتا ہے: روؤ مت، تم مرد ہو۔ عورت کو سکھایا جاتا ہے: صبر کرو، یہی عورت کا مقدر ہے۔ بچے کو سکھایا جاتا ہے: بڑے ہو جاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا اور جب یہ دبایا ہوا درد پھٹتا ہے۔ بے خوابی کی شکل میں، غصے کے بے قابو دوروں میں، یا اس سے بھی بدتر صورت میں تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ یہ اسے، اچانک کیا ہوگیا ہے۔ اچانک کچھ نہیں ہوا۔ ہم نے صرف توجہ نہیں دی۔

سب سے زیادہ نقصان انہیں ہوتا ہے جن کی آواز سب سے کم سنی جاتی ہے۔ وہ بیٹی جو مسلسل گھبراہٹ میں رہتی ہے جس کا دل بلا وجہ دھڑکتا ہے، ہاتھ کانپتے ہیں، سانس تنگ ہوتی ہے اس سے کہا جاتا ہے: صبر کرو بیٹا، اللہ کی مرضی ہے۔ وہ ماں جو بچے کی پیدائش کے بعد اندھیرے میں ڈوب رہی ہے کھانا نہیں بنا پاتی، بچے کو اٹھانے کی ہمت نہیں، رات بھر روتی ہے اس سے کہا جاتا ہے: ماں بن کر، ناشکری کرتی ہو؟ شکر کرو اللہ نے بیٹا دیا۔ وہ نوجوان جو وسوسوں میں مبتلا ہے بار بار وضو کرتا ہے، بار بار نماز پڑھتا ہے، ہر لمحے خوف میں جیتا ہے کہ اس سے کوئی گناہ ہوگیا ہے۔ اس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں: ماشاء اللہ بہت پرہیزگار ہے۔

یہ تینوں ایک ہی بات چیخ رہے ہیں مگر کوئی سن نہیں رہا۔ بیٹی کو "اینگزائٹی ڈس آرڈر" ہے ایک حقیقی نفسیاتی بیماری جس کا علاج ممکن ہے۔ ماں "ولادت کے بعد کے ذہنی دباؤ" سے گزر رہی ہے جو دنیا بھر میں ہر سات میں سے ایک ماں کو ہوتا ہے اور جس کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ ماں اور بچے دونوں کو تباہ کر دیتا ہے اور وہ نوجوان؟ اسے "Obsessive Compulsive Disorder" ہے جس میں دماغ ایک ریکارڈر کی طرح ایک ہی خیال بار بار دہراتا ہے اور شخص اس خیال سے بچنے کے لیے ایک ہی عمل بار بار کرتا ہے۔ یہ پرہیزگاری نہیں یہ بیماری ہے۔

کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ اپنے طاقتوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے کمزوروں کے ساتھ کیا کرتا ہے اور ہم اپنے کمزوروں کو تعویذ تھما کر کہہ رہے ہیں: بس یہ باندھ لو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔

اس پوری بحث میں ایک بات بالکل واضح ہونی چاہیے: مذہب طاقت دیتا ہے یہ حقیقت ہے اور اس سے انکار نہ سائنسی ہے نہ ضروری۔ نماز میں سکون ہے۔ ذکر میں اطمینان ہے۔ قرآن میں شفاء ہے۔ تحقیق بھی بتاتی ہے کہ مذہبی عقائد اور روحانی عمل ذہنی صحت کے لیے حفاظتی ڈھال کا کام کرتے ہیں وہ انسان کو معنویت دیتے ہیں، تنہائی میں ساتھ دیتے ہیں، مصیبت میں سہارا بنتے ہیں۔ مسئلہ مذہب نہیں مسئلہ مذہب کی وہ غلط تشریح ہے جو کہتی ہے: "اگر تم نے ڈاکٹر کے پاس قدم رکھا تو اس کا مطلب ہے تمہارا ایمان ادھورا ہے"۔ یہ سوچ نہ اسلامی ہے، نہ عقلی۔ یہ صرف خطرناک ہے۔

ڈاکٹر رانیہ عوّاد نے اسٹینفورڈ میں ایک ماڈل بنایا ہے جس میں جدید نفسیاتی تکنیکوں کو اسلامی فکری ڈھانچے کے اندر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مرکز میں وہ مسلمان مریض آتے ہیں جو کسی عام ماہرِ نفسیات کے پاس اس لیے نہیں جاتے کیونکہ انہیں ایسے معالج کی ضرورت ہے جو ان کی ایمانی زبان بھی سمجھے۔ اوراس ماڈل کے نتائج حوصلہ افزا ہیں کیونکہ جب مریض کو لگتا ہے کہ اس کا معالج اس کے عقیدے کا احترام کرتا ہے، تو اعتماد بنتا ہے اور اعتماد علاج کی بنیاد ہے۔

پاکستان میں ایک عملی حقیقت ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کر سکتے: لوگ بحران میں سب سے پہلے مسجد جاتے ہیں، ماہرِ نفسیات کے پاس نہیں۔ تحقیق بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مسلم معاشروں میں مذہبی رہنما ذہنی بحران میں پہلی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ یہ کوئی عیب نہیں۔ یہ ایک زبردست موقع ہے۔ اگر مسجد کے امام کو ذہنی صحت کی بنیادی تربیت دی جائے۔ اگر وہ صرف اتنا سیکھ لے کہ شدید ذہنی دباؤ کی بنیادی علامات کیا ہیں اور مریض کو صحیح جگہ کیسے بھیجنا ہے تو لاکھوں لوگ بروقت علاج تک پہنچ سکتے ہیں۔ مسجد اور مشاورتی مرکز کا اشتراک ممکن ہے بلکہ آج کے پاکستان میں یہ شاید سب سے ضروری اشتراک ہے۔

اپنی سوچ بدلیے۔ ذہنی بیماری ایمان کی کمزوری نہیں ہے۔ جیسے شوگر اور بلند فشارِ خون کا علاج کروانے میں کوئی شرم نہیں، ویسے ہی ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کا علاج کروانا شرم کی بات نہیں۔ جسم کا ہر عضو بیمار ہو سکتا ہے دماغ بھی ایک عضو ہے۔ اس سادہ سی بات کو ماننا پہلی فتح ہے۔

دوسرا قدم علامات پہچانیے۔ اپنی بھی اور اپنے پیاروں کی بھی۔ ہفتوں تک مسلسل اداسی، نیند کا بگاڑ، ہر وقت خوف یا بے چینی کا احساس، روزمرہ کاموں سے دلچسپی ختم ہونا، خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات یہ "نظر" نہیں ہے، یہ "جنات" نہیں ہیں۔ یہ طبی علامات ہیں اور جس طرح سینے میں درد ہو تو دل کے ڈاکٹر کودکھاتے ہیں، اسی طرح یہ علامات ہوں تو ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا عقل کا تقاضا ہے۔

خاموشی توڑیے۔ گھر میں، خاندان میں، مسجد میں، محلے میں اس موضوع کو زبان دیجیے۔ ذہنی صحت پر بات کرنا شرم کی بات نہیں شرم کی بات یہ ہے کہ ہم خاموش رہیں اور ہمارے لوگ تنہا ٹوٹتے رہیں، مدد مانگنے کی ہمت جمع نہ کر سکیں۔ ایک ماں جو اپنے بیٹے سے پوچھے "بیٹا تم ٹھیک ہو؟" وہ شاید کسی دوا سے بھی پہلے شفا دے رہی ہے۔

ایک سادہ سی مثال سے بات ختم کرتا ہوں۔ اگر آپ کے گھر میں آگ لگ جائے تو آپ کیا کریں گے؟ دعا بھی مانگیں گے اور آگ بجھانے والوں کو بھی فون کریں گے۔ کوئی عقلمند آدمی صرف دعا پر بھروسہ کرکے آگ کو گھر جلاتا نہیں دیکھے گا اور کوئی صاحبِ ایمان آدمی آگ بجھاتے ہوئے دعا بھی نہیں چھوڑے گا۔ دونوں ساتھ ہیں بلکہ دونوں کو ساتھ ہونا چاہیے۔

آئزک ایسیموف نے لکھا تھا کہ سائنس کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سچ کی طرف لے جاتی ہے چاہے سچ کتنا بھی تکلیف دہ ہو اور سچ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کے نام پر اپنے مریضوں کو دوہرا نقصان پہنچایا ہے ایک بار بیماری نے توڑا، دوسری بار ہم نے علاج سے روک کر۔

لیکن یہ بھی سچ ہے اور یہ سچ خوبصورت ہے کہ وہ مذہب جس نے نویں صدی میں دنیا کے پہلے نفسیاتی شفاخانے بنائے، وہ مذہب آج بھی وہی کہتا ہے جو ہمیشہ سے کہتا آیا ہے: اللہ کے بندو، علاج کرواؤ۔

Check Also

Dayar e Rustam Pe Rustam Ka Qadam

By Abdul Hannan Raja