Chamakte Sarab Aur Lut Te Babul Ki Betiyan
چمکتے سراب اور لٹتی بابل کی بیٹیاں

یہ جو سوشل میڈیا کی سکرینوں پر روز اِک نیا تماشہ سجتا ہے یہ جو چند لایک، چند پیسوں اور سستی واہ واہ کی خاطر ہماری نئی نسل اخلاقیات کی ہر دیوار پھلانگنے پر تلی بیٹھی ہے کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اس رقصِ بسمل کا تماشائی کون ہے اس کے پیچھے کارفرما ذہنیت کیا ہے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ جب معاشرے کے ضمیر پر مصلحتوں کے تالے پڑ جائیں اور بابل کے آنگن میں حیا کی جگہ ہوس اور نمائش لے لے تو پھر ثنا یوسف جیسے سانحے جنم لیتے ہیں جو دلوں کو دہلا دیتے ہیں اور روح کو چھلنی کر جاتے ہیں۔
ہم ایک ایسے عجیب اور منافق دور میں جی رہے ہیں جہاں مادہ پرستی نے رشتوں کے تقدس کو نگل لیا ہے۔ المیہ دیکھیے کہ جب اولاد چند روپوں اور عارضی نام و نمود شہرت کی خاطر اپنے وجود کی نمائش کرتی ہے، اپنے تہذیبی اور اخلاقی اثاثوں کو سرِبازار نیلام کرتی ہے تو ابتدا میں والدین ایک عجب غفلت اور مستی کا شکار ہوتے ہیں وہ اپنی اولاد کی اس کامیابی پر اتراتے ہیں فخر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے زمانے کی رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں، وہ اس بات سے یکسر بے خبر ہوتے ہیں یا شاید جان بوجھ کر آنکھیں موند لیتے ہیں کہ اس رنگین دنیا کے پیچھے کتنے خونخوار مگرمچھ بھڑئے کتنے ہوس پرست درندے اپنے جال بچھائے بیٹھے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ چمکتی ہوئی دنیا کوئی گلستان نہیں بلکہ ایک دلدل ہے ایک ایسا سراب ہے جو پیاس بجھانے کے بجائے زندگی ہی نگل جاتا ہے۔
ثنا یوسف کا قصہ کوئی پہلا قصہ ہے اور نہ ہی آخری وہ ایک کم عمر نادان لڑکی تھی جو اپنی خوبصورت اداؤں اور معصومیت کو لے کر سوشل میڈیا کے اس بے رحم سمندر میں اتری۔ اس نے سوچا ہوگا کہ یہاں صرف پھول برسیں گے اس نے سمجھا ہوگا کہ یہ لایک اور کمنٹس کرنے والے اس کے خیر خواہ ہیں، اس نے آگے بڑھنے کی دھن میں تمام تر خاندانی اور اخلاقی حدود کو پامال کیا لیکن وہ یہ نہ جان سکی کہ اس رنگین دنیا کے بھیڑیے صرف موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں بلکہ مہنگے طائف اور پیسوں سے اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور پھر وہی ہوا جو روزِ ازل سے مکافاتِ عمل کا قانون ہے۔ ایک حوس پرست درندے نے اس کی معصومیت کا سودا کیا اور خود اس کے اپنے ہی گھر میں اس کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیا۔ جب لاش آنگن میں تڑپ رہی تھی تب والدین کی وہ غفلت وہ مستی اور وہ سستی شہرت کا نشہ ہرن ہوا تب انہیں ہوش آیا لیکن افسوس! تب تک پانی سر سے گزر چکا تھا اور پچھتاوے کے سوا ہاتھ میں کچھ نہ بچا تھا۔
یہ المیہ صرف ایک خاندان کا نہیں یہ آج کے ہر اس باپ اور ہر اس ماں کے لیے ایک کھلا تازیانہ ہے جو اپنی اولاد کو کھلا چھوڑ کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ تربیت صرف یہ نہیں کہ آپ نے بچوں کو اچھے کپڑے پہنا دیے مہنگے موبائل دلا دیے اور انہیں برانڈڈ زندگی فراہم کر دی۔ تربیت تو یہ ہے کہ آپ نے ان کے دلوں میں حلال و حرام کا فرق کتنا واضح کیا؟ آپ نے انہیں یہ کتنا سکھایا کہ جو راستہ عزت غیرت اور حیا کو روند کر گزرتا ہے وہ منزل کی طرف نہیں بلکہ تباہی کے گڑھے کی طرف جاتا ہے۔ ہماری مائیں آج ٹی وی سکرینوں اور موبائلوں میں مگن ہیں اور باپ رزق کی دوڑ یا پھر اپنی ہی دنیا میں مست ہیں۔ اولاد انٹرنیٹ کے تاریک غاروں میں کن راستوں پر نکل گئی ہے اس کی کسی کو فکر نہیں یاد رکھیے! اگر آپ اپنی اولاد کو وقت نہیں دیں گے اگر آپ ان کے دوست نہیں بنیں گے تو باہر بیٹھے شکاری ان کے ہمدرد بن کر انہیں اپنا لقمہ بنا لیں گے۔ سوشل میڈیا پر اپنی بیٹیاں پیش کرکے ڈالرز کمانے والے غیرت مند نہیں ہو سکتے وہ تو اس زہر کے بیوپاری ہیں جو پورے معاشرے کی رگوں میں اتارا جا رہا ہے۔
آج وقت ہے کہ ہر والدین ثنا یوسف کے اس دردناک انجام سے عبرت حاصل کریں اپنی اولاد کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھیں، انہیں اس رنگین دنیا کی لہروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں کیونکہ ان لہروں کے نیچے چھپے مگرمچھ کسی پر رحم کرنا نہیں جانتے وہ تو اپنی ہوس کو لیکر ہر لمحہ جال بچھائے تدبیریں کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اس سے پہلے کہ آپ کی دہلیز پر بھی کوئی نیا سانحہ دستک دے ہوش کے ناخن لیجیے۔ اولاد اللہ کی دی ہوئی ایک مقدس امانت ہے اس امانت میں خیانت مت کیجیے انہیں کردار کی بلندی دیجیے نہ کہ سستی شہرت کی پستی کالم نگار کا کام صرف رونا رونا نہیں ہوتا معاشرے کے اس ناسور پر انگلی اٹھانا بھی ہوتا ہے، آئینہ دکھانا ہوتا ہے حالات سے باخبر رکھنا ہوتا ہے۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ اپنی بابل کی عفت کے محافظ بنتے ہیں یا اس غافل تماشے کا حصہ! فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

