Shakhsi Marzi Se Nahi, Ijtimai Mashawarat Se
شخصی مرضی سے نہیں، اجتماعی مشاورت سے

کہتے ہیں اقتدار کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ وہ انسان کو خود سے بے خبر کر دیتا ہے۔ جب فیصلے کی کرسی پر بیٹھا ہوا شخص اپنے گرد موجود آوازوں کو شور سمجھنے لگے اور اپنی آواز کو حرفِ آخر، تب وہ لمحہ دراصل زوال کی ابتدا ہوتا ہے۔ تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جن حکمرانوں نے خود کو عقلِ کل سمجھا، انہوں نے نہ صرف اپنی ذات کو نقصان پہنچایا بلکہ قوموں کو بھی اندھی گلیوں میں دھکیل دیا۔ اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے مشاورت کو شعار بنایا، اختلافِ رائے کو برداشت کیا اور اجتماعی دانش پر بھروسہ کیا، وہی تاریخ میں سرخرو ٹھہرے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں یہ جملہ ایک گہری معنویت اختیار کر لیتا ہے کہ "ایک شخص کی مرضی سے نہیں، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے"۔ یہ محض ایک فقرہ نہیں، بلکہ ایک اصول ہے، ایک آئینہ ہے، جس میں اقتدار کا اصل چہرہ دکھائی دیتا ہے۔
تصور کیجیے کہ ایک عظیم عمارت میں، جہاں دن بھر شور، مباحثے اور فیصلوں کی گونج رہی ہو، اب رات کا سکوت چھا چکا ہے۔ مہمان جا چکے ہیں، راہداریاں سنسان ہیں، ستون خاموشی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مگر اس خاموشی کے بیچ ایک آئینہ رکھا ہے، جو نہ بولتا ہے، نہ حرکت کرتا ہے، مگر اس کی موجودگی ہی ایک سوال بن جاتی ہے۔ یہ آئینہ کسی ایک فرد کے لیے نہیں، بلکہ ہر اُس شخص کے لیے ہے جو اقتدار کے ایوان میں قدم رکھتا ہے۔ جب بھی کوئی فیصلہ محض ذاتی خواہش کے تحت کیا جائے گا، جب بھی اجتماعی عقل کو نظرانداز کیا جائے گا، تب یہ آئینہ خاموشی سے اپنا فرض ادا کرے گا۔ وہ چیخے گا نہیں، مگر اس کی خاموشی ایک گونج بن کر دل و دماغ میں اترے گی کہ فیصلے فردِ واحد کے نہیں، قوم کے ہوتے ہیں اور قوم کی آواز مشاورت کے ذریعے ہی سنائی دیتی ہے۔
یہ آئینہ دراصل ایک استعارہ ہے، ضمیر کا، احتساب کا اور اس اصول کا جو ہر مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا، وہ صرف وہی دکھاتا ہے جو سامنے ہوتا ہے۔ اگر چہرہ صاف ہو تو آئینہ بھی صاف دکھائے گا اور اگر چہرہ داغدار ہو تو وہ داغ بھی نمایاں ہو جائیں گے۔ یہی حال اقتدار کا ہے۔ اگر فیصلے دیانت، بصیرت اور اجتماعی مشورے سے کیے جائیں تو ان کے نتائج بھی روشن ہوں گے، لیکن اگر وہ انا، ضد اور خود پسندی کے زیرِ اثر ہوں تو ان کے اثرات بھی تاریک ہوں گے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آئینہ کیا دکھا رہا ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دیکھنے والا اپنے چہرے کو دیکھنے کی ہمت رکھتا ہے یا نہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اقتدار میں بیٹھا ہوا شخص آئینہ دیکھنے سے ہی انکار کر دیتا ہے، کیونکہ سچ کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوتا۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ آئینہ پکڑنے والے کا کردار۔ وہ شخص جو آئینہ سامنے رکھتا ہے، اس کا کام صرف سچ کو نمایاں کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اس پر پردہ ڈالنا۔ معاشروں میں ایسے لوگ ہمیشہ موجود رہے ہیں، دانشور، صحافی، اہلِ قلم، جو اقتدار کے سامنے آئینہ رکھتے ہیں۔ وہ خوشامد نہیں کرتے، بلکہ حقیقت بیان کرتے ہیں۔ ان کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں، بلکہ درست راستہ دکھانا ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے اکثر اوقات ایسے لوگوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، یا ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی نظام کو بگاڑ سے بچا سکتے ہیں۔ آئینہ دکھانا آسان نہیں اور آئینہ دیکھنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔
تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ مشاورت صرف ایک اخلاقی قدر نہیں، بلکہ ایک عملی ضرورت بھی ہے۔ کوئی ایک شخص، چاہے وہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو، تمام مسائل کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ مختلف ذہن، مختلف تجربات اور مختلف زاویہ ہائے نظر مل کر ہی ایک متوازن فیصلہ تشکیل دیتے ہیں۔ جب فیصلے چند لوگوں تک محدود ہو جائیں، یا بدتر یہ کہ ایک ہی شخص کے گرد گھومنے لگیں، تو ان میں غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب مشاورت کا دائرہ وسیع ہو، جب اختلاف کو برداشت کیا جائے اور جب ہر آواز کو سننے کی کوشش کی جائے، تو فیصلے زیادہ پائیدار اور مؤثر ہوتے ہیں۔ یہی وہ اصول ہے جو جمہوریت کی روح بھی ہے اور کسی بھی کامیاب نظام کی بنیاد بھی۔
آخرکار بات وہیں آ کر ٹھہرتی ہے کہ آئینہ اپنی جگہ پر موجود رہے گا۔ وہ نہ تھکے گا، نہ ہٹے گا، نہ اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرے گا۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس آئینے میں دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کا ظرف رکھتے ہیں؟ اور کیا ہم اس اصول کو اپنانے کے لیے تیار ہیں کہ فیصلے فردِ واحد کے نہیں، بلکہ اجتماعی دانش کے ہونے چاہییں؟ شاید ہر بار یہ آواز سنی نہ جائے، شاید ہر بار اسے نظرانداز کر دیا جائے، مگر آئینہ اپنا کام کرتا رہے گا۔ کیونکہ آئینہ پکڑنے والے کا کام آئینہ پکڑنا ہے اور اس میں چہرہ دکھنا یا نہ دکھنا، یہ سامنے کھڑے شخص کا اپنا مسئلہ ہے۔

