Ulysses
عولیس

یہاں کے ایک پرانے بازار میں، جہاں سیکنڈ ہینڈ اشیاء بکتی ہیں، چند برس قبل ایک اولڈ بک شاپ سے چند کتابیں خریدی تھیں۔ انہی میں ایک مترجم کتاب بھی تھی، جسے ڈاکٹر طہ محمود طہ نے ترجمہ کیا تھا۔ یہ بہت پرانی بات ہے۔ اُس وقت اسے پڑھتے ہوئے کبھی ایسا کوئی خاص احساس نہیں ہوا، مگر آج کل سوشل میڈیا پر چلنے والی بحث نے اسی کتاب کو دوبارہ یاد دلا دیا۔
حال ہی میں ایک ناشر نے Ulysses کے اردو ترجمے کا سرورق پوسٹ کیا تو بحث کا آغاز ہی نام سے ہوگیا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یولیسس غلط ہے اور یولیسسز درست اور ساتھ یہ کہا جارہا ہے کہ بنیاد ہی درست نہ ہو تو آگے کی ساری عمارت مشکوک ہو جاتی ہے۔ یہ بحث اب اتنی پھیل چکی ہے کہ سرحد پار سے بھی اس پر رائے دیکھنے میں آ رہی ہے۔
انہی بحثوں کے دوران مجھے اپنی وہی پرانی کتاب یاد آئی۔ نکال کر دیکھی تو اس کا نام "عولیس" تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر سوشل میڈیائی خلط مبحث کے معیار سے دیکھا جائے تو کیا طہ محمود بھی غلط تھے؟ انہوں نے فقط اس ترجمے کے پیچھے 20 سال محنت کی، ڈاکٹر طہ نے 1964 میں شاید ترجمے کا پہلا حصہ شائع کرنا شروع کیا اور تقریباً 20 سال ان جگہوں کو دیکھنے پرکھنے اور کتاب کے مطالعے میں گزارے جن کا ذکر جیمس نے کیا تھا۔۔ ان کا پورا کام محض اس لیے رد کردیا جائے کہ بھائی انہوں نے ایسا نام گھڑ لیا جو کہیں موجود ہی نہیں تھا، یا پھر پروفیسر اور مترجم ہونے کے باوجود وہ لسانیات کی سائنس اور پیچیدگیوں سے ناواقف تھے؟ کیا ایسا رویہ درست ہے یا پھر مسئلہ کہیں اور ہے؟
میں نے اس حوالے سے یہاں مقامی چند ایسے دوستوں سے بات کی جو عربی زبان میں تصنیف اور غیر ملکی زبانوں کے ترجمے کے کام سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق اس ایک نام کی کئی صورتیں پہلے سے مختلف زبانوں میں موجود ہیں۔ عربی میں يوليسيس، أوديسيوس، أوليس، عولیس جیسی شکلیں ملتی ہیں، فارسی میں اولیس اور اردو میں یولیسس اور یولیسسز دونوں درست ہو سکتی ہیں۔ یعنی یہ معاملہ کسی ایک درست شکل کا نہیں بلکہ مختلف لسانی روایتوں اور صوتی نظام اور لسانی و ادبی معیار کا ہے۔
یہاں اصل بات سمجھنے کی ہے، جب کوئی نام ایک زبان سے دوسری زبان میں آتا ہے تو وہ صرف املا کی نقل نہیں ہوتا، بلکہ زبان کے اپنے صوتی نظام کے مطابق ڈھلتا ہے۔ زبان پہلے بولی جاتی ہے، پھر لکھی جاتی ہے۔ اگر کوئی لفظ بولنے میں بھاری یا اجنبی لگے تو وہ چاہے املا کے لحاظ سے کتنا ہی اصل کے قریب کیوں نہ ہو، مقامی زبان میں مانوس نہیں بنتا۔
اسی لیے اصل Odysseus کا نام مختلف زبانوں میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس فرق کو غلطی سے تعبیر کرنا درست عمل نہیں بلکہ ہر زبان کا اپنا طریقہ ہے کہ وہ باہر سے آنے والے لفظ کو کیسے اپنے اندر جذب کرتی ہے۔
اسی تناظر میں عنوان عولیس کو بھی دیکھنا چاہیے۔ محض ایک متبادل یا مترجم نام نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا لسانی انتخاب ہے، ایک ایسا انتخاب جو اپنے وقت، اپنے ماحول اور اپنی زبان کے مزاج کے مطابق کیا گیا۔ اسے محض اس بنیاد پر رد کر دینا کہ یہ آج کی کسی مخصوص املا سے میل نہیں کھاتا، درست رویہ نہیں۔
میرے دوستوں نے ایک سادہ بات کہی جو اس پوری بحث کا خلاصہ ہے، یولیسسز اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر صرف اسی کو درست مان لینا درست نہیں۔ زبان میں ایک سے زیادہ صورتوں کا ہونا کمزوری نہیں بلکہ اس کی وسعت کی دلیل ہے۔
اور یہاں پر سوال یہ نہیں کہ عولیس، یولیسس یا یولیسسز یا پھر اوڈیسس میں کون سا نام درست ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا باہر سے آنے والے الفاظ کو ہم اپنی زبان میں اس کی فطری گنجائش کے ساتھ قبول کرتے ہیں یا اسے ایک ہی معیار میں قید کرنا چاہتے ہیں وہ معیار جو صرف شاید ہمارے نزدیک درست ہے عالمگیر نہیں۔ یہ فقط میری ذاتی رائے ہے۔۔ اگے تہاڈی اپنی مت مرضی۔۔
(نوٹ: اس کتاب کا دوبارہ مطالعہ شروع کردیا ہے اگر فرصت ملی تو چند اوراق آپ کے ساتھ شیئر کروں گا۔ بالخصوص ڈاکٹر طہ نے جو مقدمہ لکھا ہے وہ الگ سے شہکار ہے۔)

