Wednesday, 21 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Toqeer Bhumla
  4. Baghair Qasoor Ke Koi Saza Nahi

Baghair Qasoor Ke Koi Saza Nahi

بغیر قصور کے کوئی سزا نہیں

انسانی زندگی کا ایک مستقل مسئلہ یہ ہے کہ دکھ یا تکلیف کو کیسے سمجھا جائے۔۔ کسی انسان کو دکھ تکلیف میں دیکھ کر پہلا سوال ہمیشہ یہی ہوتا ہے، یہ کیوں ہوا؟ یہ انسان جبلت کا تجسس ہے جو وجہ یا سبب کریدنا چاہتا ہے۔ مگر اس کرید یا تجسس کو زیادہ دیر زندہ نہیں رہنے دیا جاتا۔ ہم فوراً کوئی جواب گھڑ لیتے ہیں، کبھی تقدیر کے کھاتے میں، کبھی مکافاتِ عمل، کبھی کسی پوشیدہ جرم یا خطا کا حوالہ، یا پھر نسب اور نسل کے کیے کا نتیجہ۔

اگر ہر مصیبت کو کسی سابقہ عمل کی سزا مان لیا جائے، تو پھر ظلم اور ناانصافی کا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے، وہ ہونا ہی تھا، بھگتنا ہی تھا، بن جاتا ہے اور جس پر بیت رہی ہوتی ہے، وہ بغیر سنے ہی مجرم قرار پا جاتا ہے۔

انسانی تاریخ کا شاید سب سے بڑا اخلاقی اتفاق یہ ہے کہ ذمہ داری ہمیشہ فرد سے جوڑی گئی ہے۔ مذاہب کی تعلیمات ہوں یا جدید قانون کی بنیادیں، ایک بات بار بار دہرائی گئی، کوئی شخص دوسرے کے جرم کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ نہ باپ کے گناہ بیٹے کے کھاتے میں ڈالے جا سکتے ہیں، نہ کسی نسل، خاندان یا قوم کو اجتماعی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسی سوچ کو قانون نے ایک مختصر مگر سخت اصول میں سمو دیا Nulla poena sine culpa، یعنی جہاں قصور ثابت نہ ہو، وہاں سزا محض ظلم ہوتی ہے۔

مکافاتِ عمل یا کرما کا تصور جب اس حد سے آگے بڑھ جاتا ہے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ کسی بچے کی بیماری، کسی عام انسان کی غربت، کوئی حادثہ یا کسی قوم کی تباہی کو اس کے آبا و اجداد کے گناہوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح متاثرہ شخص سے یہ حق چھین لیا جاتا ہے کہ وہ خود کو بے قصور سمجھے۔ وہ دکھ کے ساتھ ساتھ ایک غیر مرئی الزام کا بوجھ بھی اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اگر ہر تکلیف کسی نہ کسی خفیہ جرم یا سابقہ گناہ کا نتیجہ ہے، تو پھر دنیا میں ظلم نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ قاتل، جابر اور ظالم سب محض مکافات عمل کا وسیلہ بن جاتے ہیں اور انصاف ایک غیر ضروری تصور۔ یہ سوچ طاقت اور ظلم کو حق میں بدل دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی کسوٹی موجود نہیں جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ فلاں دکھ، بیماری، حادثہ واقعی کسی ذاتی عمل کا نتیجہ ہے اور فلاں محض ناانصافی۔ اس کے باوجود ہم فیصلے کرنے میں جلدی دکھاتے ہیں، خاص طور پر دوسروں کے بارے میں۔

میں انسانی اعمال کے نتائج کے تصور کی نفی نہیں کرتا۔ مگر صرف اس بات پر اصرار ہے کہ سزا اور قصور کے درمیان تعلق واضح اور ثابت ہونا چاہیے۔ جہاں یہ تعلق موجود نہ ہو، وہاں خودساختہ جج اور وکیل بننے کی بجائے احتیاط درکار ہوتی ہے۔

Check Also

Column Nigaron Ke Sath

By Najam Wali Khan