Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Tauseef Rehmat
  4. Cash Back

Cash Back

کیش بیک (استردادِ رقم)

دوسری دہائی کے شاید دوسرے ہی سال کی بات ہے۔ دفتر میں معمول کے کاموں کی مصروفیت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ، تیسری میز سے چوتھی میز تک کی راہیں ناپی جا رہی تھیں کہ شعبہ مالیات (فنانس ڈیپارٹمنٹ) سے ایک صاحب نے درخواست کی کہ ایک چھوٹی سی غیر رسمی ملاقات ہے، ذرا سی دیر کو آ جائیں۔ شعبہ مالیات کو تب میں ازراہِ تفنن شعبہ مال پانی کہا کرتا تھا کہ ٹھنڈے پانی کے کولر تک جانے کے لئے شعبہ مال کا رخ کرنا پڑتا تھا تو پانی کی نسبت سے مال پانی کہنا شروع کر دیا۔ گو یہ محض مزاح کی بات تھی لیکن فی زمانہ مروجہ شہرت کی وجہ سے مالیات سے وابستہ احباب اس میں چھپی طنز اور مخفی کاٹ سے بخوبی واقف تھے۔

غیر رسمی ملاقات میں دیگر ھمکاران (آفس کولیگز) کے علاوہ بینک کے کوئی آفسر بھی تھے اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ بازارکاری کے شعبے (مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ) سے تھے۔ انہوں نے اپنے بینک کی طرف سے جاری کردہ کریڈٹ کارڈز اور ان کے فوائد و ثمرات پہ روشنی ڈالی اور ہر ممکنہ پہلو بیان کیا کہ یہ کریڈٹ کارڈذ کیسے کیسے زندگی میں مزید سہولتیں پیدا کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے۔ جیسا کہ بازارکاری والوں کا وطیرہ ہوتا ہے، وہ اپنے تئیں پورا زور لگا رہے تھے کہ چند ایک بندے تو آج ضرور گھیر لئے جائیں اور ان کا متعین کردہ حدف پورا ہو سکے۔

بینک والے صاحب نے جب دیکھا کہ کوئی بندہ بھی جیب ڈھیلی کرنے کو تیار نہیں اور ان کے بازارکاری کے سارے تیر خطا جا رہے ہیں تو اپنے آخری حربے کو آزمایا۔ فرمانے لگے کہ فلاں صاحب اگر آپ پٹرول پمپ پہ اپنی گاڑی میں سو روپے کا پٹرول ڈلوائیں اور مہینے کے آخر میں جب آپ کو بل آئے اس میں آپ کو صرف پچانوے روپے ہی ادا کرنے ہوں تو ایسی بچت آپ کو کیسی لگے گی؟ اور فلاں صاحب اگر آپ اپنی فیملی کے ساتھ یا دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے باہر کسی ہوٹل میں ہیں اور بل دو ہزار روپے بنے لیکن آخر میں آپ کو صرف اٹھارہ سو ہی دینے پڑیں تو واپسی کی آئسکریم تو سمجھیں مفت ہی پڑ گئی۔

آخری تیر نشانے پہ بیٹھا تھا، سبھی ھمکاران جو کرسی پہ ڈھیر سے ہوئے پڑے تھے فوراً سیدھے ہوئے اور کہنیوں کو میز پہ ٹکایا اور اپنے اپنے سوالات کی بوچھاڑ کر دی کہ:

ایسے کیسے؟

کیونکر؟

آخر کیوں؟

ہوگا کیسے؟

کرنا کیا ہے؟

بھریں گے کیسے؟

جانا کہاں ہے؟

جوابات ملنے کی دیر تھی، اِدھر گتھیاں سلجھیں اُدھر طلب کے پروانے گرنے لگے۔ ایک ہی نشست میں بینک والے صاحب بہادر کی چاندی ہوگئی۔ مطلوبہ معلومات اور درکار کاغذات کا پلندہ تیار کرنے میں کچھ وقت لگا اور صاحب تمام احباب کو مژدہ سنا گئے کہ اس کریڈٹ کارڈ سے اب آپ کو کیش بیک (استردادِ رقم) ملے گا۔

یہ بھولی بسری یاد پھر سےعود آئی جب بیچ صحرا میں ایک ھمکار نے خبر دی کہ آج آدھ مہینہ گزر جانے کے بعد اسے اب تک ایک سو ستر درھم تک کا کیش بیک ملا ہے۔ لفظ کیش بیک سننے کی دیر تھی کہ لاہور کی اس غیر رسمی ملاقات کا فلیش بیک چل گیا۔ جیسے حالات کے بدلنے سے حالت بدل جاتی ہے، ایسے ہی گیان دھیان پانے سے سوچ کا زاویہ، نہج اور نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔

بینکاری کے ان معاملات میں ایک نہایت لطیف پیغام پوشیدہ ہے اور اسے مثال کے طور پہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ اگر ایک مالیاتی ادارہ محض اپنے کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر چند فیصد کیش بیک دے کر صارف کو اپنی طرف راغب کر سکتا ہے، تو پھر اس مالکِ حقیقی کے وعدوں پر کیوں نہ یقین کیا جائے جو خود اعلان فرماتا ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کیا گیا ایک عمل بھی ضائع نہیں جائے گا۔ وہ ایک کے بدلے کئی گنا عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے، صرف دنیا ہی میں نہیں بلکہ آنے والی نسلوں تک اپنی برکتوں کے آثار پہنچاتا ہے اور آخرت میں ایسی جزا سے نوازنے کا مژدہ دیتا ہے کہ بندہ پوری طرح راضی ہو جائے۔

دنیا کے مالیاتی اداروں کی طرف سے ملنے والا کیس بیک بہرحال اسی دنیا کے بازاروں میں خرچ ہو کر ختم ہو جانا ہے۔ وہ ایک عارضی فائدہ ہے، جس کی مدت بھی محدود ہے اور افادیت بھی۔ لیکن اس کے برعکس ربِ کریم کی راہ میں کیے گئے اخلاص بھرے اعمال پر ملنے والے انعامات نہ صرف اس دنیا میں سکون، برکت، کشادگیِ رزق اور دل کا اطمینان بن کر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ ان کے اثرات انسان کی اولاد اور آنے والی نسلوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ پھر جب آخرت کا مرحلہ آئے گا تو یہی اعمال ایسی دائمی نعمتوں، لازوال رحمتوں اور ابدی کامیابیوں کا ذریعہ بنیں گے جن کا نہ کوئی اختتام ہے اور نہ زوال۔ دنیا کا کیش بیک چند سکوں کی واپسی ہے، مگر ربِ کریم کا انعام اس سرمایہ کی مانند ہے جو ہر لمحہ بڑھتا رہتا ہے، کبھی کم نہیں ہوتا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انسان کی حقیقی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔

بات تو بس دل کی رغبت اور ترجیحات کی ہے۔ ایک طرف دنیا کے چند فیصد کیش بیک کی کشش ہے، جو چند دنوں بعد پھر اسی دنیا کی ضروریات میں خرچ ہو کر ختم ہو جاتی ہے اور دوسری طرف ربِ کریم کا وہ وعدہ ہے جو کبھی خلاف نہیں ہوتا۔ عقل مند تاجر وہ نہیں جو صرف دنیا کے سودے میں نفع دیکھے، بلکہ وہ ہے جو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ اس ذات کے سپرد کر دے جس کی عطا بے حساب ہے، جس کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے اور جس کی دی ہوئی جزا نہ کبھی ختم ہوتی ہے اور نہ کم پڑتی ہے۔ اگر ہم دنیا کے معمولی فائدے کے لیے اپنی عادتیں بدل سکتے ہیں تو پھر لازم ہے کہ ہم اپنے رب کے ان وعدوں پر بھی اسی یقین، اسی شوق اور اسی اعتماد کے ساتھ عمل کریں، جن کی ضمانت خود ربِّ العالمین نے دی ہے۔

Check Also

Qurbani Ka Ehteram, Magar Ehsan Nahi

By Fazal Qadeer