Khush Khush Khush
خوش خوش خوش

لفظ خوش کا مرقع۔۔ خوش اخلاق، خوش مزاج، خوش گفتار، خوش لباس اور خوش شکل۔
وینکوور سے جہاز اُڑنے والا ہے۔ سامان باندھا جا چکا ہے۔ امی چلیں، بیٹا پوچھتا ہے۔ دو منٹ، ذرا ہمسائی کو مل آؤں، ماں یہ کہتے ہوئے باہر نکل جاتی ہے۔ بیٹا سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ ہمسائے میں تو کوئی دیسی نہیں رہتا، پھر امی کسے ملنے گئی ہیں۔
ماں ساتھ والے فلیٹ کی دروازے پہ دستک دیتی ہے۔ گوری دروازہ کھولتی ہے۔ ماں کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔ اب تک وہ اس ادھیڑ عمر عورت کو صرف لفٹ میں ملتی رہی ہے اور بات چیت صرف ہیلو تک محیط ہے۔ ماں ہاتھ سے ہوائی جہاز اُڑتا دکھا کر کہتی ہے، ایروپلین، پاکستان، بائی بائی۔ گوری ماں سے لپٹ جاتی ہے۔ ماں پیار کرتی ہے اور ہاتھ میں دبا ہوادس ڈالر کا نوٹ نکال کر دیتی ہے، بے بی، چاکلیٹ۔۔ بائی بائی۔
ماں بیٹی کے ساتھ کپڑے لینے جاتی ہے لیکن پانچ چھ سوٹوں کی بجائے ایک سوٹ لیتی ہے، کپڑا نرم ہونا چاہیے اور کڑھائی نفیس۔۔ میرے جسم پر چبھے نہیں، اصلی بریزے کی دکان پہ چلو۔
ماں بہت ملنسار ہے، ڈھیروں لوگ ملنے آتے ہیں، ماں کسی سے نہیں پوچھتی آپ کیا پئیں گے؟ پہلے شربت پھر چائے، بسکٹ اور پکوڑے۔ بیٹیاں آنکھ کے اشارے سے ٹرینڈ ہیں، مہمان ڈیوڑھی میں داخل ہوں تو کیتلی چولہے پہ چڑھ جاتی ہے۔
ماں بلا کی ہنرمند ہے۔ اسکے ہاتھ سے سلے کپڑے اور بُنے سوئٹروں کی دھوم ہے۔ ماں کسی کو انکار نہیں کرتی۔ بنا کسی معاوضے کے بنائے چلی جاتی ہے۔
دروازے پہ دستک ہوتی ہے۔ ساڑھی پہنے خاتون (ہما نواب کی والدہ) کسی کے گھر کا رستہ پوچھ رہی ہے۔ ماں نہیں جانتی مگر چائے پئے بغیر نہیں جانے دیتی، ارے آپ گھوم گھوم کے تھک گئی ہوں گی۔
ماں بیٹوں کی شادی کے بعد ان سے علیحدگی میں بات نہیں کرتی۔ جو بھی ہے بہو کے سامنے۔۔ یہ بچی غیر تھوڑی ہے۔ اب ہم اس کے اور یہ ہماری۔
ماں کبھی کسی بچے سے فرمائش نہیں کرتی۔ نہ زیور نہ کپڑا نہ جیب خرچ، بس تمہارے ابا کی پینشن کافی ہے میرے لیے۔۔
ماں آدھی رات کو آنے والوں کو بھی تازہ روٹی بنا کر دیتی ہے، ہائے میری موجودگی میں ٹھنڈی روٹی، ہمسائے میں رہنے والی سمدھن سکول سے چھٹی کرکے آتی ہے تو بلاتکلف آکر بل دار پراٹھے کی فرمائش کرتی ہے۔ ماں فوراََ بنا ماتھے پہ بل ڈالے خوشی خوشی بل دار پراٹھا بنا کر دیتی ہے۔
بہو کی زچگی کے وقت ماں بہو کے پاس جاتی ہے کہ بہو کی ماں سکول میں پڑھاتی ہے۔ ماں اس قدر خیال رکھتی ہے کہ لیبر روم کی آیائیں سوچ میں پڑ جاتی ہیں کہ ساس ہے یا ماں۔ ماں چھلے میں بہو کی خدمت کرتی ہے۔
ماں شوہر سے اس قدر محبت کرتی ہے کہ شوہر کے دفتر جانے سے پہلے سائیکل کا رخ دروازے کی طرف کر دیتی ہے کہ انہیں زحمت نہ اٹھانا پڑے۔۔
ماں کبھی السی کے لڈو بناتی ہے تو کبھی رضائیوں میں ڈورے ڈالتی ہے، سردیوں کی کہر آلود صبحوں میں گرم گرم دلیہ کھلا کر سکول روانہ کرتی ہے۔ ہوسٹل میں بیٹھی ہوئی کے لیے کریلوں کا سالن پارسل کرتی ہے۔
ماں پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کو بابا بلیک شیپ گا کر سناتے ہوئے ہنستی ہے، دیکھو بڑی بیٹی سے سیکھا تھا میں نے۔۔ اب تک یاد ہے۔۔
ماں نوکری کرتی بیٹیوں کے بچوں کو ناک منہ چڑھائے بغیر گلے سے لگاتی ہے اور ایسے کہ بچے اسی کو ماں سمجھتے ہیں۔
ماں کی زبان نے کبھی گالی گلوچ کا ذائقہ نہیں چکھا۔ ماں کسی کو برا بھلا کہتی سنتی ہے تو رونے لگتی ہے۔۔ یہ لفظ کیوں؟
ماں بہت بڑی فیمنسٹ ہے، بیٹیوں کو کہتی ہے، شوہر سے مار پڑے تو واپس آنا، میں تمہاری، گھر تمہارا، جی لیں گے مل جل کر۔۔ تمہیں پر اسی دن کے لیے تو دیے ہیں۔
فیمنسٹ ماں کو فیمنسٹ بیٹی کی طرف سے سلام، ماں ہم آپ جیسے نہیں بن سکے، بن ہی نہیں سکتے، اس قدر ایثار اور محبت کہاں سے لائیں، ان کا نام ہی عظمت تھا۔۔ اسم بامسمیٰ!

