Thursday, 19 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. The Art Of War, China Aur Alj Azeera Ki Report

The Art Of War, China Aur Alj Azeera Ki Report

دی آرٹ آف وار، چین اور الجزیرہ کی رپورٹ

چین کیا کر رہا ہے اور کیا سوچ رہا ہے اس کی سوجھ بوجھ کے لیے آپ کو چینی مفکر اور عسکری ماہر سُن زو کی کتاب "دی آرٹ آف وار" کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ سُن زو کو چائنہ کے ملٹری ڈاکٹرائن میں اہم حیثیت دی جاتی ہے۔ اس کا انداز فکر متاثر کن ہے جس نے دنیا کی بڑی عسکری طاقتوں کو بھی متاثر کیا۔ سُن زو کہتا ہے "اگر آپ دریا کے کنارے کافی دیر انتظار کریں تو آپ کے دشمنوں کی لاشیں خود بہتی ہوئی نظر آ جائیں گی"۔

ایران جنگ کے تناظر میں چین کا رویہ کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ جب امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں تیز کیں تو بیجنگ نے براہ راست مداخلت کے بجائے نسبتاً محتاط اور خاموش حکمت عملی اختیار کی۔ چین کی ترجیح جنگ نہیں بلکہ معاشی طاقت کا استعمال ہے۔ بیجنگ نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنی معاشی قوت کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ معاشی دباؤ جنگ کے مقابلے میں زیادہ قابلِ کنٹرول ہتھیار ہے کیونکہ جنگ غیر متوقع نتائج اور بڑے انسانی و معاشی نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ بات درست ہے کہ چین اور امریکا سرد جنگ کے زمانے کی طرح براہ راست دشمن نہیں ہیں۔ دونوں دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں ہیں اور باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے پیچیدہ جال میں جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود دونوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی جیسے مصنوعی ذہانت میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ اس صدی کے عالمی طاقت کے توازن کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

اسی دوران جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چل رہی ہے چین نے خاموشی سے اپنا نیا پانچ سالہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ منصوبہ دراصل چائنہ کا فیوچر پلان ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت، دفاعی ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، اہم معدنیات اور روبوٹکس جیسے شعبوں میں چین کی عالمی برتری کو مضبوط بنانا ہے۔ امریکا فوجی مہمات میں مصروف ہے جبکہ چین اپنی داخلی صنعتی اور تکنیکی بنیاد کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے اور اس کے اثرات امریکی عالمی برتری پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اس کے باوجود چین کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ جنگ سے قبل ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات چین کو جاتی تھیں۔ سنہ 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں بیجنگ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ بیجنگ کسی طویل اور تباہ کن جنگ کا خواہاں نہیں۔ اگر خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے تو چین کی سرمایہ کاری، ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ چین کی حکمت عملی براہ راست عسکری مداخلت کی بجائے محتاط انتظار، معاشی اثر و رسوخ اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ چین اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ عالمی سیاست کے اس پیچیدہ کھیل میں وہ طاقت کے استعمال کے بجائے طاقت کے توازن سے فائدہ اٹھائے۔

لیکن چین نے ایران کو جنگی محاذ پر تنہا نہیں چھوڑا۔ الجزیرہ نے ایک دلچسپ رپورٹ پیش کی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کو یہاں نقل کر رہا ہوں۔

"گزشتہ چند برسوں میں چین نے ایران کے دفاعی ڈھانچے میں کئی ایسی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی ہیں جنہوں نے اس کی نگرانی اور ہدف بندی کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔ ان میں جدید ریڈار سسٹمز، سیٹلائٹ نیویگیشن اور سگنلز انٹیلی جنس شامل ہیں۔ خاص طور پر چین کے سیٹلائٹ نیویگیشن نظام BeiDou-3 کی مدد سے ایران نے اپنے عسکری نیویگیشن کو امریکی Global Positioning System (GPS) پر انحصار سے کسی حد تک ہٹا کر ایک متبادل نظام سے جوڑ دیا ہے۔ اس تبدیلی نے ایرانی فوج کو نہ صرف زیادہ محفوظ نیویگیشن فراہم کی ہے بلکہ میدان جنگ میں فوری ردعمل کی صلاحیت بھی بہتر کی ہے۔

اسی تناظر میں چین کی جانب سے فراہم کردہ YLC-8B anti-stealth radar خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ایک کم فریکوئنسی (UHF بینڈ) ریڈار ہے جسے خاص طور پر اسٹیلتھ طیاروں کا سراغ لگانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جدید امریکی اسٹیلتھ طیارےB-21 Raider اور F-35C Lightning II، بنیادی طور پر اس خیال کے تحت تیار کیے گئے تھے کہ وہ دشمن کے ریڈار سے تقریباً پوشیدہ رہیں گے۔ تاہم کم فریکوئنسی ریڈار ان کی اس پوشیدگی کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی غیر مؤثر ہوگئی ہے، لیکن اس سے میدان جنگ میں توازن ضرور متاثر ہوتا ہے۔

الجزیزہ کے مطابق ایران چین سے CM-302 supersonic anti-ship missile خریدنے کے قریب ہے، جو دراصل چینی میزائل YJ-12 anti-ship missile کا ایکسپورٹ ورژن ہے۔ یہ میزائل تقریباً تین ماک کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سمندر کی سطح کے قریب پرواز کرتے ہوئے دشمن کے جہاز کے ردعمل کے وقت کو چند سیکنڈ تک محدود کر دیتے ہیں۔ اسی لیے عسکری ماہرین انہیں اکثر "carrier killer" کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں۔۔ "

چین کی سوچ وہی سوچ ہے جسے سن زو نے صدیوں پہلے بیان کیا تھا "جب آپ مضبوط ہوں تو کمزور نظر آئیں اور جب کمزور ہوں تو مضبوط دکھائی دیں"۔

Check Also

Subhat Muttahida Ki Aqwam e Jaraim Pesha

By Zubair Hafeez