Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Syed Mehdi Bukhari

Selab

سن 2010 میں پاکستان میں آج تک کا سب سے بھیانک سیلاب آیا تھا۔ جس نے دو کروڑ انسانوں کو متاثر کیا، پچیس ہزار اموات ہوئیں، ملکی معیشت کو لگ بھگ دو ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان دنوں میں شہر سیالکوٹ میں بستا تھا۔ ہیڈ مرالہ کے اطراف دریائے چناب اور دریائے توی نے تباہی مچا دی تھی۔ ریلیف کے کاموں میں فوج متحرک تھی۔ میں ایک فوجی ٹرک پر بیٹھا سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر تھا۔

میں نے تقسیمِ ہندوستان کے نقل مکانی کے مناظر نہیں دیکھے صرف بزرگوں سے سنے ہیں۔ لیکن دریائے چناب کے پل پر پہنچنے کے بعد مجھے یوں لگا، جیسے پارٹیشن کے موضوع پر بننے والی کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہو۔ جس سمت سے ہم دوسری جانب جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سمت کی ٹریفک روک دی گئی تاکہ بجوات کی طرف سے نقل مکانی کرکے سیالکوٹ شہر کی جانب آنے والوں کو راستہ مل سکے۔

لوگ یقیناً اپنے اپنے گھروں کے باہر سامان سمیت کسی سواری کے انتظار میں کھڑے تھے۔ لیکن شہر میں صرف افواہوں کا سیلاب تھا۔ ہزاروں لوگ اس سمت سے ٹرکوں، ٹریکٹر ٹرالیوں، ویگنوں، بسوں، سائیکلوں، بیل گاڑیوں اور کاروں پر آرہے تھے اور یہ نہ ختم ہونے والا منظر تھا۔ جنہیں سواری نہیں ملی وہ پیدل ہی استعمالی اشیا سے بھرے ہوئے پلاسٹک کے شاپنگ بیگ، چمڑے کے تھیلے، اٹیچی کیس، لوہے کے ٹرنکس یا پوٹلیاں سر پر رکھے چل رہے تھے۔

پندرہ نوجوان اور ادھیڑ عمر خواتین کا ایک گروہ شہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ان میں سے کچھ کے ہاتھوں میں بچے تھے یا پھر پانی کی بوتلیں۔ ایک بوڑھا سر پر صرف چارپائی اٹھائے جا رہا تھا۔ دس بارہ سال کے بچے بچیوں کا ایک گروپ بغیر کسی بڑی عمر کی عورت یا مرد کے بغیر رواں تھا۔ ایک نوجوان نے اپنے ہاتھوں میں صرف کتا اٹھایا ہوا تھا۔ میں نے فوجی ٹرک کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اس سے پوچھا صرف کتا؟

اس نے رکے بغیر جواب دیا "آدمیوں سے اچھا ہے" اور میری طرف دوسری بار دیکھے بغیر آگے بڑھ گیا۔ یہ انسانی پریڈ چناب کے پل سے دس کلومیٹر پیچھے کوٹلی لوہاراں کے گاؤں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ایک ٹریفک سارجنٹ کہہ رہا تھا پانچ گھنٹے میں دریائے چناب سے تین لاکھ کیوسک پانی کا مزید ریلا داخل ہونے والا ہے۔ ایک سائیکل سوار پیڈل مارتے ہوئے بتا رہا تھا نہیں وہ کل دوپہر تک پہنچے گا۔

جانوروں کا چارہ کاٹنے والی مشین پر کھڑا ایک توندیلا شخص کہہ رہا تھا، ابے سب بکواس ہے۔ انتظامیہ نے صرف بری الذمہ ہونے کے لیے آج شام تک گاؤں خالی کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ میں خود دیکھ کر آیا ہوں دریائی پشتے میں کوئی شگاف نہیں ہے۔ مگر لوگ نکل رہے تھے اور جوق در جوق نکل رہے تھے۔ ہیڈ مرالہ سے بہت پہلے ایک فوجی ریلیف کیمپ دکھائی دیا۔

قطار میں کھڑی مقامی انتظامیہ اور فوج کی گاڑیاں قدم قدم پر کھڑے پولیس والوں، میں نے انہی میں سے ایک سے پوچھا کون آ رہا ہے۔ کچھ پتہ نہیں سر ابھی ایک ہیلی کاپٹر اترے گا، اس میں سے کوئی بھی نکل سکتا ہے۔ شہباز شریف ہے کہ سلمان تاثیر کہ گیلانی صاحب یہ تو افسرانِ بالا ہی بتا سکتے ہیں۔ ہمیں آرڈر نہیں ہے ورنہ بتا دیتے۔ کیمپ کے انچارج صوبیدار نے بتایا کہ یہاں چار ہزار لوگ ہیں۔

سول انتظامیہ کے کتنے کیمپ ہیں اور ان میں کتنے لوگ ہیں یہ آپ انہی سے پوچھیے۔ ایک پولیس افسر خیمے میں داخل ہوا۔ صوبیدار کو بولا "سر مین روڈ پر جو سویلین انتظامیہ کا کیمپ ہے، اس کے لوگ گورنر کی آمد کا سن کر سڑک پر آگئے ہیں اور ٹائر جلا رہے ہیں۔ دونوں طرف کا ٹریفک رکا ہوا ہے۔ پینتالیس منٹ کے مذاکرات کے بعد مظاہرین نے ٹریفک کو راستہ دے دیا۔

اس دوران اطلاع ملی کہ وزیرِاعظم گیلانی کا ہیلی کاپٹر بھی قریبی سکول گراؤنڈ میں اترنے والا ہے۔ قریب ہی ضلعی محکمہ صحت کا ایک طبی کیمپ لگا ہوا تھا۔ مبادا وزیراعظم تشریف لے آئیں۔ کیمپ تین خیموں پر مشتمل تھا۔ ایک میں ایمرجنسی مریضوں کے لیے چارپائی بچھی ہوئی تھی۔ ساتھ والے خیمے میں ایک سفید پوش میز پر سلیقے سے دوائیں سجائی گئی تھیں۔

تیسرے خیمے میں ایک صاحب جو غالباً ڈاکٹر ہی ہوں گے، گلے میں سٹھیتکو سکوپ ڈالے مستعد بیٹھے تھے۔ مگر میز پر رکھے بلڈ پریشر چیک کرنے والے پمپ کو جانے کیوں آہستہ آہستہ دبا بھی رہے تھے۔ دو اہلکار ان کے دائیں بائیں ایستادہ تھے۔ تینوں نے سفید استری شدہ گاؤن پہنے ہوئے تھے۔ سب کچھ بہترین تھا۔ بس ایک شے کی کمی تھی "مریض" ماحول سے لگ رہا تھا، جیسے زرا دیر بعد کیمرہ، فل لائٹ، ایکشن اور پھر پیک اپ۔

وہی ہوا۔ گیلانی صاحب کا ہیلی سکول گراؤنڈ میں اُترا، ہیلی کے پائلٹ کو شاید پہلے سے ہی ہدایات تھیں، اس نے انجن شٹ ڈاؤن نہیں کیا۔ وزیراعظم سیدھا طبی کیمپ میں تشریف لائے۔ ان کے ساتھ دو عدد مستعد فوٹوگرافرز بھی تھے۔ دس منٹ کیمپ کا دورہ کیا اور ہیلی پھر سے اپنی سواری لے کر ہوا میں بلند ہو گیا۔ سیلاب زدگان کے کھلے ہوئے منہ نجانے کیوں ہوا میں اڑتے ہیلی کو دیکھ کر مزید کھُل گئے اور وہ دونوں ہاتھوں سے بائے بائے کرنے لگے۔

شاید انہوں نے ہیلی پہلی بار اپنے سامنے اور اتنے قریب سے اڑتے دیکھا تھا یا شاید وہ سچ میں بہت خوش تھے کہ وزیراعظم ان کی داد رسی کو خصوصی طور پر تشریف لائے۔ آدھ گھنٹے بعد طبی کیمپ تو جوں کا توں کھڑا تھا، بس ذرا سا فرق یہ نظر آیا کہ اس میں نہ کوئی ڈاکٹر تھا نہ میز کرسی نہ ادویات سے بھرا شو کیس، آگے دریائے چناب تھا۔ لٹے پٹے قافلے تھے جو چلے ہی آتے تھے۔

ان میں ایک ننھی بچی تھی جو گدھا گاڑی پر سوار اپنی ماں کی گود میں بیٹھی تھی۔ بچی نے مجھے مخالف سمت میں دریا کی جانب پیدل چلتے دیکھا تو ٹیٹھ پنجابی میں کہنے لگی " اگے نہ جا۔ اگے بوہت پانی اے۔ میرا دادا رُڑ گیا۔ میرا دادا مر گیا۔

Check Also

Farq

By Hania Irmiya