Sab Se Pehle Pakistan
سب سے پہلے پاکستان

کچھ ریاستیں میدانِ جنگ بنتی ہیں، کچھ تماشائی رہتی ہیں اور کچھ وہ ہوتی ہیں جو جلتی ہوئی لکڑیوں کے درمیان پل بننے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان اس وقت تیسرے کردار میں ہے اور یہی اس کی مجبوری بھی ہے اور حکمت بھی۔
آج جب ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کی بازگشت ایک بار پھر سنائی دے رہی ہے، سوشل میڈیا پر بیٹھے تجزیہ کار پاکستان کو کسی ایک کیمپ میں دھکیلنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ مگر تاریخ، جغرافیہ اور مفادات تینوں چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے کسی ایک فریق کا حصہ بننا خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان نہ ایران کے خلاف جائے گا نہ ہی اس جنگ میں شامل ہو کر اس پر حملہ کرے گا کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے اور ایسا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ پاکستان نے کوشش کی اور مسلسل کر رہا ہے کہ سعودیہ اور ایران ایک سمجھوتے کے تحت آگے چلیں صرف یہی نہیں وہ اس جنگ کے روک تھام کے لیے اپنی کیپسٹی میں حد ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سیاسی یا مذہبی وجوہات کے سبب محض مفروضوں کی بنا پر لغو باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔
پاکستان سب سے پہلے ہے اور اس کے مفادات کا تحفظ اولین ہے۔ اس پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی۔ بہت بار مفصل پاک امریکا تعلقات، پاک ایران اور پاک سعودی تعلقات پر لکھ چکا ہوں ہر بار وہی باتیں نہیں دہرا سکتا۔ ایرانی قیادت چاہے وہ وزیر خارجہ ہوں یا نئے سپریم لیڈر وہ پاکستان کے مشکور ہیں اور اس کے اچھے عمل کی گواہی دے رہے ہیں۔ سعودی کراؤن پرنس بھی پاکستان کو اس صورتحال میں تیل کے ساتھ علاقائی اہمیت بھی دے رہا ہے۔ یہ بات وہ دونوں ممالک بھی جانتے ہیں کہ جنگ میں کود پڑنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
اگر ہم ماضی کے اوراق پلٹیں تو پاکستان اور ایران کے تعلقات کی بنیاد 1947 کے فوراً بعد پڑی، جب ایران ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ سرد جنگ کے دور میں دونوں ممالک CENTO جیسے دفاعی اتحاد کا حصہ رہے جہاں مغربی بلاک کے ساتھ کھڑے ہونا ایک اسٹریٹیجک مجبوری تھی۔ مگر انقلاب ایران کے بعد خطے کی سیاست نے کروٹ لی اور تعلقات میں نظریاتی عنصر شامل ہوگیا۔ اسی دوران پاکستان اور سعودیہ عرب کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ تیل، ترسیلات زر اور دفاعی تعاون نے اس رشتے کو گہرا کیا۔ 1980 کی دہائی میں سوویت افغان وار کے دوران دونوں ممالک ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے جبکہ ایران ایک مختلف زاویے سے اس خطے کو دیکھ رہا تھا۔
ایران پاکستان تعلقات کی ہسٹری ہے اور ماضی قریب میں تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں ورنہ یہی ایران تھا اور کلبھوشن نیٹ ورک تھا، چاہ بہار بندرگاہ تھی اور را وہاں بیٹھی تھی۔ بی ایل اے کے لوگ ایرانی بلوچستان میں پناہ لیے تھے۔ یہ ایران ہی تھا جس نے پاکستان پر سرجیکل سٹرائک کی تھی اور اس کا جواب پاکستان نے بھی تسلی بخش طریقے سے ویسا ہی دے دیا تھا۔ بہت کچھ ہے جو سب کو اس لیے معلوم ہونا چاہئیے تاکہ ان کے سامنے حقیقت کا آئینہ بھی رہے نری سستی جذباتیت نہ رہے۔ مگر حالیہ تین برس میں ایران نے بھی کافی کچھ سیکھا اور پاکستان نے بھی اور دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں جو ہر لحاظ سے خوشگوار ہے۔ یہی نہیں، ایران سعودیہ تعلقات بھی سفارتی سطح پر بحال ہوئے۔ اس میں مرکزی کردار چین نے ادا کیا تھا مگر اہم رول پاکستان کا بھی تھا۔
پاک سعودی تعلقات بھی ماضی میں اونچ نیچ کا شکار رہے ہیں۔ سنہ 2015 میں سعودیہ عرب کی قیادت میں یمن میں فوجی مداخلت کا فیصلہ ہوا تو پاکستان ایک مشکل دوراہے پر کھڑا تھا۔ پاکستان نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ایک ایسا فیصلہ جس نے وقتی طور پر ریاض کو ناراض کیا مگر پاکستان کو ایک بڑے دلدل میں پھنسنے سے بچا لیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں پاکستان نے واضح کر دیا کہ وہ اپنے مفاد کو ترجیح دے گا اور شیعہ سنی کیمپ کا حصہ نہیں بنے گا۔ علاوہ ازیں پاکستان وہ پراکیسز جو پاکستان میں سعودی تعاون سے ایرانی پراکسیز کے مقابلے میں کھڑی کی گئی تھیں ان کا خاتمہ بھی چاہتا تھا۔ اس موقع پر بھی تعلقات سرد ہوئے تھے۔
آج کی صورتحال میں پاکستان کے پاس آپشنز محدود ہیں مگر واضح ہیں۔ ایک طرف سعودیہ کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعلقات ہیں، جن میں حرمین شریفین کی حفاظت کا پہلو بھی شامل ہے۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ سرحدی ہمسائیگی، توانائی کے امکانات اور علاقائی استحکام کی ضرورت ہے۔ کسی ایک کو چننا دراصل دونوں کو کھونا ہوگا۔
آج کے حالات کافی پیچیدہ اور سنجیدہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے اندر نہ صرف افواہوں کا سدباب کرنا چاہئیے بلکہ ایران اور سعودیہ کی محبت میں عوام میں گروہ بندی یا تفریق کی نفی کرنا چاہئیے۔ معاملات آمنے سامنے آنے تک پہنچے نہیں اور یہاں چک چک شروع ہوگئی ہے۔ یوں ہوگا تو ووں ہو جائے گا اور ووں ہوا تو پھر یوں بھی ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تک پاکستان ان دونوں ممالک کے مابین پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ برج تو ضرور بنے گا لیکن کسی ایک طرف جا کر دوسرے پر حملہ آور نہیں ہوگا۔ وجہ بالکل سادہ اور صاف ہے۔ یہ پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔ یہاں مذہبی جذباتیت کے ساتھ سیاسی جذباتیت بھی عروج پر ہے اور لوگ نہ خارجہ پالیسی کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں نہ ان کو اپنے وطن کو مقدم رکھنا سکھایا جاتا ہے۔ کوئی ایرانی بنا ہوا ہے تو کوئی سعودی، کوئی افغانستان کا پہرے دار ہے۔ حد ہے اور بے حد ہے۔ یہاں تک تو بات مذہبی و سیاسی وابستگیوں کی تھی۔
حد تو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں اسرائیل کے بھی کچھ رشتے دار پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ مادر پدر آزاد وہ لوگ ہیں جو خود کو لبرل سیکولر کہلواتے ہیں اور خود اس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا ظالم ہیں قاتل ہیں، لاکھوں لوگوں کے قاتل ہیں، مستند جابر ہیں۔ لبرل ازم کی آڑ میں قاتل ریاستوں کی مداح سرائی بھی لبرل ازم کا جنازہ ہے۔
پاکستانی بننا سیکھیں اور پاکستان پر بھی تھوڑا غور و فکر کر لیا کریں۔ جتنا غور و فکر اپنی اپنی مسلکی ریاستوں پر کرتے ہیں اس سے زیادہ پاکستان پر کیا کریں۔ آج کا پاکستان کسی کی جنگ نہیں لڑ سکتا۔ اس کی پہلی، آخری اور واحد ترجیح اس کا اپنا استحکام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی ایک برج بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسا برج جو دو مخالف کناروں کو ملائے، نہ کہ خود کسی ایک کنارے پر جا کر گر جائے۔ حقیقت بڑی واضح ہے۔ ہمسایہ بدل نہیں سکتے۔ دوست مستقل نہیں ہوتے اور دشمن ہمیشہ مستقل نہیں رہتے۔ تو پھر حل یہی ہوتا ہے: توازن، احتیاط اور تھوڑا سا "emotion off, brain on" موڈ۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے شور سے نکل کر حقیقت کو سمجھیں۔ خارجہ پالیسی سوشل میڈیا کے دباؤ یا شور سے نہیں چلتی بلکہ دہائیوں پر محیط تجربات، مفادات اور زمینی حقائق سے تشکیل پاتی ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستانی بن کر سوچنا سیکھیں، کسی اور کی جنگ میں فریق بن کر نہیں۔ ہر باشعور پاکستانی چاہے وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو دل و جان سے ایران کے ساتھ ہے اور اس کے لیے دعا گو ہے۔

