Tuesday, 07 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Rana Sahab, Khush Aamdeed

Rana Sahab, Khush Aamdeed

رانا صاحب، خوش آمدید

ایڈووکیٹ لندن ہائیکورٹ جناب انعام رانا وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے ڈی ایچ اے میں ایک مشہور spa میں فل باڈی مساج کی بکنگ بھی کروا لی ہے۔ ہم سب برادر رانا کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں کافی جذباتی اُتار چڑھاؤ متوقع ہیں۔ جب سے رانا نے ہئیر ٹرانسپلانٹ کرایا ہے تب سے لاہور ائیرپورٹ پر ان کے استقبال میں کافی سہولت پیش آجاتی ہے۔ وگرنہ اس سے قبل معلوم ہی نہیں پڑتا تھا کہ رانا صاحب آ رہے ہیں یا جا رہے ہیں۔

پچھلے سال انہی دنوں لاہور آئے تو انہوں نے اپنے گھر ایک چھوٹی سی محفل رکھی۔ چند دوست جمع کیے۔ انعام بھائی محفل میں بروسٹ، سموسے، دہی بھلے، پزا، برگر، چائے، کافی، بسکٹ، کیک سے ہونے والے نقصانات کے بارے دو گھنٹے دلائل دیتے رہے۔ پھر اللہ جانے ان کو کیا خیال آیا۔ میرا لٹکا ہوا چہرہ دیکھ کر بڑے ادب سے بولے "بھوک لگی ہے کچھ کھاؤ گے؟"

میں نے کہا "ہاں، پلیز اللہ کا واسطہ کچھ تو منگوا لو"۔ بولا بتاؤ کیا؟ میں نے سموسہ کہا تو اس نے سموسے اور شوگر کو لے کر لیکچر دے دیا۔ پھر دہی بھلوں کے بادی نقصانات پر بات گھماتے رہے۔ پھر ایک دن بولے بتاؤ کیا کھانا ہے؟ میں ہی بیوقوف تھا کہ پھر سے اس سوال کا جواب دے دیا۔ کہا کہ بھائی جلیبیاں کھانے کا دل کر رہا ہے۔ بولا "کوئی شرم کر۔ تو شوگر دا مریض ایں" اور پھر انہوں نے مجھے حفظان صحت کے اصولوں پر بھاشن پیل دیا۔

پھر ان کے لندن تشریف لے جانے کے کچھ ماہ بعد میرا لندن کا پلان بن گیا۔ انعام رانا اور مجھ میں بہت کچھ مشترک ہے جن میں ایک شے سینس آف ہیومر بھی ہے۔ لندن سے سکاٹ لینڈ روڈ ٹرپ کا پلان بنا تو کہنے لگا "بخاری روڈ ٹرپ پر نکلتے ہوئے مٹن چکن خود بنوا کے ساتھ رکھ لیں گے اور میں پکا کر کھلاؤں گا۔ تو پرہیزی ڈائٹ پر ہے تو باہر سے کھانے سے اچھا خود بنا لیں گے"۔ میں نے اتفاق کرتے کہا بالکل ٹھیک ہے لیکن کیا لندن میں فریش مٹن مل جاتا ہے یا فروزن ہی ملتا ہے؟ جواب میں اس نے ایک قصائی کی ران کا گوشت بناتے ویڈیو بھیجی اور کہا "میرے گھر کے قریب ہی کرتا ہے۔ فریش کرتا ہے"۔ ویڈیو میں چھری کو ڈبے ڈبے سے ڈال کر بُلر کرکے سینسر کیا گیا تھا۔ شاید کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چھری دکھانے پر بھی قدغن ہے۔ میں نے ویڈیو دیکھ کر کہا "یہ چھری کیوں ڈبیاں ڈال کر سینسر کی ہے؟"۔ بولا " مینوں لگدا چھری جاپان دی اے"۔

کبھی کبھی انعام بھائی اور میں ماضی کی یادیں کریدنے لگتے ہیں۔ ہم دونوں کے ازدواجی حالات میں بہت مماثلت ہے۔ انعام بھائی نے بھی پہلی شادی دو طرفہ پسند سے کی اور بدقسمتی سے نہ چل پائی۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ دوسری شادی ہم دونوں نے پھر خود فیصلہ لے کر کی اور اب ہم دونوں غمِ جاناں سے جب گھبرا سے جاتے ہیں تو اک دوجے کو موٹیویٹ کرنے کو غم غلط کرنے لگتے ہیں۔ ایک دن یونہی لاہور میں ہم دونوں اداس بیٹھے تھے۔ انعام بھائی کی واٹس ایپ کال پر تازہ تازہ ہوئی تھی۔ وہ کچھ آپ سیٹ تھے۔ میں بھی گھر سے نکلا ہوا تھا۔

اچانک میں نے پوچھا "یار انعام تو نے ہماری پہلی بھابھی کو کہاں پسند کر لیا تھا؟"۔ سگریٹ کا کش کھینچتے بولا "پتہ نئیں بس مینوں اے یاد ہے گا کہ ضد وچ پسند کیتا سی"۔ میں نے حیران ہوتے پوچھا "ضد میں پسند؟ سمجھا نہیں"۔ انہوں نے لمبا کش کھینچا۔

"او یار۔ پسند تو پہلے مجھے مسماۃ ع آئی تھی۔ امی کو مجبور کرکے ان کے گھر بھجوایا دیا تھا۔ پھر دو روز بعد اس کے گھر والے مجھے دیکھنے آئے۔ سب کچھ ٹھیک رہا۔ جب وہ میرا انٹرویو کر چکے تو میں نے سوچا ان پر اخلاقی برتری جتانے کو مجھے یہ صاف کہہ دینا چاہئیے کہ میں جہیز نہیں لوں گا۔ جہیز کے سخت خلاف ہوں۔ بس وہی میری غلطی تھی"۔

اتنا کہہ کر چُپ ہو گئے اور نیا سگریٹ سلگانے لگے۔ میں نے مارے تجسس کے پوچھا "پھر؟"۔ بولے "انکل اُٹھے اور میرے سر پر پیار دیتے بولے بیٹا جہیز چھوڑو، تمہیں کوئی بیٹی دے گیا تو میرا نام بدل دینا۔ بس اس دن سے میں نے قسم کھا لی کہ یہاں نہ سہی مگر اب پسند سے کرکے رہوں گا"۔ وللہ ایسی ہی کچھ داستان میری بھی ہے۔

زندگی کا پہلا دکھ، پہلا جھٹکا، پہلی آگہی اس دن ملی جب میں نے راحت کو حمزہ کے ساتھ شیر و شکر ہوتے دیکھا۔ راحت چٹیا کھولے حمزہ کے کاندھے پر سر ٹکائے کھٹی میٹھی ٹافیاں کھا رہی تھی۔ حمزہ میرا کلاس فیلو تھا اور انتہائی نکما سٹوڈنٹ تھا۔ پتا نہیں حسین لڑکیوں کو نکمے لڑکے کیوں اچھے لگتے ہیں۔

آٹھویں جماعت میں اس دن پہلی بار میں الاسٹک کی ٹائی کی بجائے اصلی ٹائی باندھ کر پہنچا تھا۔ میرا ارادہ راحت کو سرپرائز دینے کا تھا مگر وہ تو حمزہ کے ساتھ پینگیں بڑھا چکی تھی۔

ان دونوں کو باہم ساتھ جڑے دیکھ کر میرا سانس گھٹنے لگا تو میں نے ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے کالر کا بٹن کھول دیا۔ لنچ باکس اٹھایا اور پلے گراونڈ میں نصب ایک خالی بینچ پر بھری دھوپ میں بیٹھ کر کھانے لگا۔ ڈپریشن میں مجھے شدید بھوک لگ جایا کرتی تھی۔ اس دن میں نے قسم کھا لی کہ کسی کے لئے اپنا دل نہیں جلانا۔

شبنم کے آتے آتے کلاس بدل چکی تھی۔ وہ تو جیسے اوس کی مانند اتر آئی تھی۔ دل سخت جاں کو موم کرتے ہوئے شبنم سے دوستی کر لی۔ شبنم میری کلاس کی مونیٹر بن گئی تو اس کا رویہ بدلنے لگا۔ ایک دن میں نے روح افزا والی بوتل اسے پیش کرتے ہوئے اس کی بے اعتنائی کی وجہ پوچھی تو اس کے جواب نے میرے قدموں کے نیچے سے زمین نکال دی۔ شبنم آگ کا گولہ بنتے ہوئے بولی "Look، we are just friends"

فرینڈز؟ سارا سال میرا ٹفن کھاتی رہی، میری پاکٹ منی سے کنٹین پر جا جا کر جوس پیتی رہی اور تو اور اس کا ہوم ورک میں لکھ لکھ کر مکمل کرتا رہا اور کیسے آسانی سے اس نے دل دہلا دینے والا ایک جملہ بول کر مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اپنی قسم توڑنا کیسی بڑی غلطی تھی۔

میٹرک تک میں دل جلا رہا۔ فرسٹ ائیر میں آتے آتے ٹیوشن والی اکیڈمی میں خدیجہ آئی تو گویا دل کے سب داغوں پر مرہم لگنے لگا۔ خدیجہ سنجیدہ مزاج تھی۔ بالکل میرے جیسی۔ ہم اکیڈمی میں چپ چاپ بیٹھے نظروں ہی نظروں میں گھنٹوں باتیں کیا کرتے۔ عید کے موقع پر میں نے چھٹیوں سے قبل ایک عید کارڈ پر اپنے دل کا ماجرا لکھ کر دے ڈالا۔ اس کا جواب نہ آ سکا اور اگلے دن سے چھٹیاں ہوگئیں۔

مجھے یاد ہے وہ عید کی چھٹیاں مجھے زہر لگتی رہیں۔ پل پل گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ من کو چین نہیں مل رہا تھا کہ کیسے عید گزرے اور اکیڈمی جانا ہو۔ خدا خدا کرکے عید گزری۔ جس دن اکیڈمی میں آمنا سامنا ہوا خدیجہ مجھے دیکھ کر مسکراتی رہی۔ مجھے تو گویا زندگی کی بہار مل چکی تھی۔ شام ڈھلے اس نے مجھے اشارے سے پاس بلایا۔ تیز دھڑکنوں کو سنبھالتا میں جیسے ہی اس کے قریب پہنچا وہ بولی "تم بہت اچھے لکھاری بن سکتے ہو۔ جیسا تم نے عید کارڈ پر تحریر لکھی۔ لکھنے کو جاری رکھنا۔ گڈ بائے"۔۔

میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ مگر کیوں؟ وہ خود ہی بولی "میری زندگی میں پہلے سے کوئی ہے"۔۔ میں نے بجھے دل سے پوچھا کہ کون؟ جواب آیا "میرا کزن"۔۔ یہ کزنوں والے جھوٹ تو اکثر لڑکیاں بول دیتی ہیں مگر وہ سنجیدہ تھی۔

اکیڈمی سے دل اٹھ چکا تھا۔ میں نے ٹیوشن بدل لی اور دل کو سمجھا لیا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو سارے دروازے بند رکھنے ہیں۔ ایک سال بعد اپریل کی صبح کو تابندہ بال لہراتے کالج کی گراونڈ سے گزری تو نجانے کیوں چھپاکا سا ہوا۔ دل کمینہ پھر سے دھڑکنے لگا۔ تابندہ کے پیچھے پورا کالج تھا میرے پہ اس کی کیا خاک نظر پڑتی۔ ایک دن وہ بولی "مہدی بھائی، کیمسٹری کے نوٹس آپ کے بہت اچھے ہوتے ہیں۔ مجھے کاپی کرنے کو دیں گے؟"۔۔

اس زمانے نیا نیا موبائل فون آیا تھا جو افورڈ کرنا بہت مہنگا ہوتا تھا۔ آج میں جب بھی کسی لڑکے کو کسی لڑکی کے ساتھ موبائل پر بات کرتے دیکھتا ہوں تو دل چاہتا ہے اس کا منہ نوچ لوں، وجہ صرف اتنی ہے کہ میرے زمانہ طالب علمی میں موبائل نہیں ہوتا تھا۔ میرے دور میں آپ یقین کریں کہ سگی کلاس فیلو سے سلام لینے کے لئے بھی پریکٹس کرنا پڑتی تھی۔

موبائل کے ہاتھ آتے آتے یونیورسٹی کے دو سال بیت چکے تھے۔ اسی موبائل کے توسط سے بلآخر مجھے وہ مل گئی جس کو میں فوری نکاح میں اس خدشے کے پیش نظر لے آیا کہ کہیں کوئی اور حمزہ یا اس کا کزن اس کو اپنا "ٹیگ" نہ لگا جائے۔ شادی کر لی۔

سمپل از دیٹ۔ یہی وجہ ہے کہ انعام رانا اور میری دوستی کی جڑیں گہری اور زیر زمین آپس میں ملی ہوئی ہیں۔

پرانے وقتوں میں فنون لطیفہ میں گندھا وہ انسانی طبقہ جن کو میراثی کہا جاتا تھا وقت کے ساتھ انہوں نے جب دیکھا کہ سماج میں یا تو سادات کو عزت سے نوازا جا رہا ہے یا پھر راجپوتوں کو دنیا مقام دے رہی ہے تو انہوں نے بھی اپنی شناخت و لباس بدلا۔ یا تو وہ سید بن گئے یا پھر رانے۔ شاید ہماری دوستی کی جڑوں میں نسلوں قبل تہذیب کا بدلاؤ بھی کہیں وجود رکھتا ہو۔

کہا جاتا ہے کہ اصل رانا وہ ہے جس کو سردی زیادہ لگتی ہو اور اصل سید وہ ہے جس کو آگ نہیں لگتی۔ اس اصول پر تو ہم دونوں پورا اترتے ہیں۔ انعام رانا کو سردی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ مجھے آگ نہیں لگتی۔ ہاں، لیکن کوئی رامی لگائے تو پھر لگ جاتی ہے۔ چاہو تو آزما کے دیکھ لو۔

Check Also

Kibriya Khan Aur Afzal Ajiz Ka Shukria

By Rauf Klasra