Nafrat Ke Ghore
نفرت کے گھوڑے

فرانس کا شاہی محل وارسائی کے مقام پر واقع ہے۔ میں نے دیکھ رکھا ہے۔ یہ پیرس سے پچیس کلومیٹر دور ہے یعنی آبادی سے بہت دور بنایا گیا تھا تاکہ شاہی خاندان کے آرام و سکون میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ وارسائی صرف شاہی رہائش گاہ تھی یہ عوامی بستی نہیں ہوا کرتی تھی۔ فرانس میں جب انقلاب آیا تو پیرس کے بپھرے ہوئے لوگ آناً فاناً پچیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے وارسائی میں بادشاہ کے محل تک پہنچ گئے۔ بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ لوگ اتنی جلدی کیسے پہنچ گئے؟ وزیر نے جواب دیا "بادشاہ سلامت! یہ نفرت کے گھوڑے پر سوار ہیں اور نفرت کے گھوڑے بہت تیز دوڑتے ہیں"۔
یہ قصہ یونہی یاد آ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں آپ کو انقلابِ فرانس کی کہانی سنانے لگا ہوں یا انقلاب پر ابھارنے لگا ہوں۔ ہاں، البتہ جہاں جہاں انقلاب آیا اس کی کہانی سُن لیں۔
دنیا میں جتنی بھی بڑی عوامی تحریکیں کامیاب ہوئیں یا انقلاب برپا کر پائیں ان کے پیچھے ایک نمایاں عنصر کارفرما تھا۔ وہ معاشرے نسلی، لسانی اور ثقافتی طور پر یکساں تھے۔ جب لوگ زبان، نسل، رسم و رواج اور اجتماعی مفادات میں ہم آہنگ ہوں تو ان کے لیے کسی مشترکہ مقصد پر متحد ہونا آسان ہو جاتا ہے اور یہی اتحاد تحریک کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
تاریخ میں فرانس، روس، چین، ویتنام، کیوبا، ترکی اور ایران کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں انقلابی تحریکیں کامیاب رہیں۔ ان سب ممالک میں بڑی تبدیلیاں یا انقلابات اسی لیے آئے کہ اکثریت ایک ہی قومیت اور ثقافت سے تعلق رکھتی تھی۔ اگر فرانس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ فرانسیسی، ایک حصہ جرمن اور ایک سپینش نسلی پس منظر رکھتا ہوتا تو ان کے مفادات، ثقافتی تنوع اور اپنی اپنی ترجیحات بادشاہت کے خلاف تحریک کو بہت جلد مختلف سمتوں میں بکھیر دیتیں۔ اس صورت میں بادشاہت کو اتنی آسانی سے نہیں گرایا جا سکتا تھا۔ اسی طرح روس میں سنہ 1917 کی انقلابی تحریک کی قیادت اور اس میں شریک فوجیوں و عوام کی اکثریت سلاوک نسل (روسی و یوکرینی) سے تعلق رکھتی تھی۔ اگر قیادت غیر روسی ہوتی تو زار شاہی با آسانی قوم پرستی کا کارڈ کھیل کر اس تحریک کو ایک علاقائی بغاوت قرار دے کر کچل سکتی تھی۔
ایران میں سب ایک مذہب، ایک ثقافت اور ایک زبان کی لڑی میں پروئے ہوئے تھے۔ شاہ ایران کے خلاف خمینی کا اُبھرنا اور کامیاب ہونا گوکہ آسان نہ تھا لیکن مذہبی تشخص نے اہم کردار ادا کر دیا۔ چین میں کمیونسٹ انقلاب سے پہلے جو خانہ جنگی ہوئی اس میں دونوں مرکزی فریق چیانگ کائی شیک اور ماؤ زے تنگ اکثریتی ہان قومیت کے تھے۔ دیگر قومیتیں صرف ثانوی کردار ادا کرتی رہیں۔ یہی حال ویتنام کے انقلاب میں ہوچی منہہ کی قیادت کے تحت سامنے آیا جہاں اکثریتی ہم نسل، ہم زبان اور ہم ثقافت گروہ نے فرانسیسی تسلط کو مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ختم کیا۔ یہی مثال کیوبا اور سنہ 1920 کے ترکی کی ہے۔ اگر مذہبی زاویے سے بھی دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ انقلابی تبدیلی اکثر وہاں آئی جہاں غالب نسلی اکثریت مذہبی طور پر بھی یکساں تھی مثلاً فرانس میں اکثریت رومن کیتھولک تھی۔ روس میں اکثریت آرتھوڈکس۔ عرب اسپرنگ میں شافعی و مالکی سنی، ایران میں شیعہ، کمال اتاترک کے ترکی میں غالب سیکولر اور ویتنام میں بدھ مت۔
ایسے ممالک جہاں معاشرہ کثیر نسلی، کثیر لسانی اور مختلف فرقوں یا گروہوں میں بٹا ہوا ہو وہاں کوئی بڑی سیاسی تحریک جلد ہی کمزور ہونے لگتی ہے۔ ان معاشروں میں مشترکہ مقصد کے حصول کی کاوش مشکل ہوتی ہے۔ باہمی اختلافات تحریک کو منتشر کر دیتے ہیں اور سٹیٹس کو یا طاقت یا حکومت ان اختلافات کو استعمال کرتے ہوئے عوامی طاقت کو تقسیم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بڑی تبدیلی کی کوششیں یا تو ناکام ہو جاتی ہیں یا اپنے اصل مقصد سے منحرف ہو کر الٹا نقصان پہنچاتی ہیں۔
افغانستان کی مثال سامنے ہے جہاں طالبان کی صورت نظام تو بدلا لیکن معاشرتی تقسیم کے باعث استحکام پیدا نہ ہو سکا۔ نادرن الائنس، ازبک اور تاجک گروہ آپس میں دست و گریباں رہے۔ بھارت میں نسلی، لسانی اور ذات پات کی گہری تقسیم کے باعث کوئی عوامی تحریک آج تک کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ پاکستان میں اگرچہ ریاست مذہب کے نام پر بنی لیکن صوبائی یا لسانی، سیاسی اور علاقائی تقسیم نے کبھی کسی ایک بڑے مقصد پر پوری قوم کو دیر تک متحد نہیں رہنے دیا۔ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش کا قیام اس لیے ممکن ہوا کہ وہاں بنگالی قومیت ایک مضبوط مشترکہ شناخت کے طور پر موجود تھی۔ ہماری تاریخ اس بات کی زندہ مثال ہے۔ تحریک خلافت، سول نافرمانی، تحریک پاکستان، ایوب خان مخالف تحریک، پی این اے، ایم آر ڈی، مختلف دھرنے، لانگ مارچ اور حالیہ احتجاجی تحریکیں سب یا تو ادھوری رہ گئیں یا اپنے مقاصد سے ہٹ گئیں۔
انقلابی تبدیلی کا انحصار صرف تحریک پر نہیں بلکہ معاشرتی ساخت، قیادت، ریاستی طاقت اور عوامی مفادات کے باہمی رشتے پر ہوتا ہے۔ کثیر نسلی معاشرے میں یک دم انقلابی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ وہاں طویل منصوبہ بندی، کبھی سمجھوتوں اور ایسی نایاب قیادت جس پر نسلی، مذہبی اور ثقافتی اتفاق رائے ہو پائے کے ذریعے ہی بتدریج تبدیلی آ سکتی ہے۔ یک نسلی و یک مذہبی معاشروں میں فوری اور فیصلہ کن تبدیلی کا امکان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا میری ناقص رائے میں انقلاب ونقلاب کی یہ دھرتی ہے نہ معاشرہ ہے، نہ جنیاتی کوڈنگ میں وہ عنصر شامل ہے نہ ہی ایک قوم بن پائے ہیں۔ اس لئے زمینی حقائق پر نظر جمائے رکھنا ہی پولیٹیکل وزڈم کہلاتا ہے۔
پاکستان میں عوام اس نظام میں تبدیلی کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ اشرافیہ نے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ سٹیٹس کو جمود کا شکار ہے اور اس کے ٹوٹنے کو عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا پاکستان جیسے کثیر نسلی، کثیر مسلکی اور کثیر لسانی و صوبائی معاشرے میں کوئی ایسی تحریک، کوئی ایسی قیادت اُبھر پائی ہے جس کو بلا رنگ و نسل و تفریق عوام کی اصل طاقت مل پائے۔ راتوں رات یا مختصر عرصے میں تبدیلی کے خواب نرا وہم ہیں، بھوت ہیں، پرچھائی ہیں۔ یوں نہیں ہوا کرتا صاحب۔ انقلاب یا تبدیلی کا سودا سستا بکتا تو ہے مگر چلتا نہیں ہے۔ اٹھہتر سالوں سے اس سودے کو کوئی کباڑی اس کو نیا پاکستان، کوئی چھابڑی والا ہمیشہ پاکستان، کوئی کنگلا اسلامی پاکستان اور کوئی دو نمبریا روشن پاکستان کوئی باوردی صدر سب سے پہلے پاکستان کہہ کر بیچتا رہا ہے اور پیٹ پالتا رہا ہے۔۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی ریاست پچھلی ساڑھے سات دہائیوں سے جس انتظامی مشینری کے قبضے میں ہے وہ یہ چاہتی ہے کہ سیاستدان اور حکومت ایک فرنٹ کمپنی کے طور پر کام کرے اور بنیادی نظریہِ مملکت، خارجہ و داخلہ پالیسی کے بارے میں جو بنیادی نکات طے کر دیئے گئے ہیں ان کے بارے میں عوامی سطح پر کوئی متبادل گفتگو یا مباحثہ نہ ہو اور نہ ہی سول حکومتیں چوں چاں کریں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں صرف کمزوریاں اور خامیاں نہیں ہیں۔ ان کی کچھ مجبوریاں بھی ہیں۔ اگر ریاست ایک گھر ہے تو سیاسی جماعتوں کو اس گھر کے ایک کونے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یقیناً سیاسی جماعتوں میں بد دیانتیاں، بے ایمانیاں اور چالبازیاں بھی ہیں مگر ان کے آپریٹ کرنے کے لیے دائرہ اتنا محدود کر دیا گیا ہے کہ اتنی محدود جگہ میں تو صرف سر پھٹول ہی ہو سکتی ہے۔
کوئی یہ سوچے بھی نہ کہ اس ملک میں چی گویرا ابھرے گا اور سسٹم بدل کر حقیقی جمہوری نظام قائم کرے گا۔ اٹھہتر سالوں میں ہم یہاں تک ہی پہنچے ہیں اور آج کے حالات میں صاحب لوگوں کے سامنے کرنے کو منت ترلہ ہی بچا ہے کہ براہ مہربانی جمہور کی آواز بھی سُن لیں اور غور فرما لیں کیونکہ نفرت کے گھوڑے بہت تیز دوڑتے ہیں، ان سے بہرحال ڈرنا چاہئیے۔

